آؤ،جلدی سے رائے قائم کریں!

ہم سب ایک دوسرے کو انکی حال کی گھڑی میں دیکھتے ہیں۔ انکی حال کی گھڑی میں ہی تو دیکھ سکتے ہیں کہ و ہ جو لمحہ موجود ہوتا ہے، وہی تو موجود ہوتا ہے۔ اس لمحہء موجود کے علاوہ ہمارے حواس کے پاس وہ طاقت ہی نہیں جو دوسرے شخص کے ماضی کے بارے میں تمام تر کیفیات کے ساتھ وہ جان سکے، یا تجربہ کر سکے جو اس دوسرے شخص کی زندگی میں بِیتا ہو ، یا کہ اس شخص، کہ جس کے بارے میں ہم رائے قائم کرلینے میں بہت بے تاب ہورہے ہوتے ہیں، کے مستقبل کے دریچوں میں بھی جھانک سکنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ لہذا، ہم بڑی ہی بےرحمی سے اپنے حواس کے تجربات کی بنیاد پر زمانہءحال میں زندہ رہتے ہوئے، اس مشاہدہ کو دوسرے شخص کی زندگی کا اک خلاصہ بنا کر سب سے پہلے اپنے آپ کو قائل کرتے ہیں، اور پھر دوسروں کو قائل کرنے کے جہاد پر نکل پڑتے ہیں۔ سب کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوتا ہوگا، صاحبو، مگر اک خوفناک اکثریت، ہمارے معاشرے میں، شاید دوسرے معاشروں میں بھی، ایسی ہی ہے: کم علم اور بے رحم!

آپ سب کی طرح، میں بھی اپنے دامن میں اپنی ذات کی کئی کہانیاں لئے پھرتا ہوں۔ کہانیاں کہ جو آج سے  35 اور کچھ تو 40 سال کی دوری پر  ماضی میں کہیں رہ گئی ہیں، ابھی بھی کئی لمحات میں ذہن کے پردہ پر واضح ہو جاتی ہیں۔ مزاج اور شخصیت پر رہ رہ کر ویسے ہی وار کرتی ہیں، جیسے کہ زندگی کے اس لمحہ میں وار کیا تھا، جب میری ذات پر سے گزری تھیں۔ مثلا سات سال کی عمر میں اپنے آبائی مکان سے کرایہ کے مکان کی جانب کا سفر۔ ملکوال کی گلی امرتسریاں سے محلہ کوٹ ولی کی جانب، اپنی والدہ کی انگلی تھامے پاؤں پاؤں چلتا اک بچہ جو صورتحال کی تلخی اور سنجیدگی کا  اک اندازہ تو لیے ہوئے تھا، مگر نہ تو ادراک تھا، اور نہ ہی علم کہ ایسا ہونا لازمی کیوں تھا۔ پھر اسی کرائے والے گھر میں گزرنے والی پہلی رات کہ جس میں، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی تو میں اپنی والدہ کی گود میں اس قدر سمٹ  جانا چاہتا تھا کہ گویا اک بچے کی مانند میں خود کو ماں کی محفوظ کوکھ میں ہی تصور کروں۔ آج بھی کبھی کبھار کے کسی کمزور لمحے میں وہ بےچارگی، خوف اور بےبسی کا احساس تمام رکاوٹیں توڑ کر چھلانگیں مارتا ہوا، دماغ کی آنکھ کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے، اپنے پیلے دانت نکوستا ہے، اور طعنے مارتا رہتا ہے، جب تک کہ زندگی کی مصروفیت کسی اور جانب توجہ نہیں کھینچ لیتی۔

یا پھر وہ لمحہ کہ جب ریلوے کالونی  ملکوال کے کلب میں ٹیبل ٹینس کھیلتے ہوئے، اک سینئیر پلئیر کی شدید بدتمیزی کہ باقی سب کی باری بھلے آتی رہے کہ وہ ٹیبل کر آکر کھیلے، مگر ذات پات اور سماجی تعلقات کے حوالے سے، مجھے اک جانب کئی گھنٹے بِٹھا دیا جانا کہ میرے پاس اس وقت شِیلڈ کا 50 روپے کا ریکٹ ہوتا تھا یا پھر 75 روپے میں آنے والا چیمپئین کا ریکٹ کہ جن کے مقابلے پر بٹرفلائی، یاساکا، ڈنلُپ اور نٹاکا کے ریکٹس لیے میرے ہی کزن، دوست اور رشتہ دار  اپنے کھیل کو بہتر سے بہتر بناتے رہتے، اور میں شدید خواہش، اور بے بسی کا کاٹنے والا احساس، لیے بیٹھا رہتا تھا۔

یا پھر وہ لمحہ کہ میں نے جب 711 نمبر لے کر  ایف اے کے پرائیویٹ سٹوڈنٹس میں سے  اپنی تحصیل میں آرٹس گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی، گورنمنٹ کالج لاہور میں راوئین بننے کا شوق تھا، اور میرٹ لسٹ پر بھی ممکن تھا، مگر ابتدائی اخراجات کے لیے گھر میں مناسب رقم (شاید کوئی 1،200 روپے) موجود نہ تھی۔

مجھ سوں کی زندگیوں میں ایسے لمحات دسئیوں درجنوں کی تعداد میں ہوتے ہیں جو تمام عمر، مگر حاصل کردہ ترقی کی وجہ سے، ویسے مسلسل تکلیف تو نہ دیتے ہوں کہ جیسے اصلیت میں وارد ہوتے ہوئے دیتے تھے، مگر انکا  ماضی کی کھڑکی توڑ کر  کبھی کبھی دماغ و فکر پر لمحاتی طور پر چھا جانا بہت تکلیف دیتا ہے۔

سوال یہاں پر یہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کتنے ہیں جو میرے بارے میں عمومی رائے تو رکھتے ہونگے، مگر میرے ماضی کے اس سفر سے واقف بھی ہونگے کہ جو میں نے زندگی کے خارزار میں کبھی ننگے پاؤں تو کبھی “لِیریں” لپیٹ کر، مگر مسلسل چلتے رہتے ہوئے ہی، کیا؟ آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جو اصل زندگی میں بھی مجھے “جانتے” ہیں، اور انٹرنیٹ کی معاشرت میں بھی، مگر دراصل میری زندگی کی حقیقت سے بھی واقف ہیں؟

کتنے ایک، کتنے؟

جب آپ میرے بارے میں اپنے ذہن میں  کوئی تخلیقی منشور رکھ کر، میرے  گذارے ہوئے سفر کی کیفیات کو الگ الگ رنگوں میں دیکھ سکنے پر قدرت نہیں رکھتے تو لمحہءموجود میں، میرے بارے میں اپنے محدود مشاہدے کی بنیاد پر اک رائے، جو شاید برمبنئی تعصب ہو، قائم رکھنے  کا کیا حق حاصل ہے؟ اور کیا یہی حق اک ” سرجیکل فائنیلیٹی” کے ساتھ رکھنے  مجھے بھی ہے؟ آپکے اور میرے، دونوں کے حوالے سے جواب ایک ہی ہے کہ: نہیں، نہ آپکو اور نہ ہی مجھے اپنے لمحہءحال کے مشاہدے پر  دوسرے کے بارے میں اک حتمی رائے قائم کرنے کا کوئی حق حاصل ہے۔

خیال کا یہ دائرہ ابھی نامکمل ہے۔ میری زندگی کے مکمل ہونے تک یہ نامکمل ہی رہے گا۔ اور جب میری زندگی مکمل ہوجائے گی تو میں اس دائرے کو اپنی مرجھاتی آنکھوں سے دیکھے گئے آخری مناظرکے ساتھ اپنے ذہن میں لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹی میں دفن ہو جاؤں گا۔ وہاں سے کہاں جاؤنگا، مجھے معلوم نہیں، اور شاید کوئی اتنی پرواہ بھی نہیں، مگر سچ اس وقت بھی یہی ہوگا کہ لوگ میرے بارے میں رائے رکھ رہے ہونگے: حال کی گھڑی میں زندہ رہتے ہوئے، نامکمل رائے، بےرحمی کے ساتھ۔ مگر وہی کہ اس بےرحم رائے کی پرواہ نہ ابھی ہے، نہ اس وقت ہوگی، لیکن دوسروں کی رائے پر  لاپرواہی کے رویے کو حاصل کرنے کےلیے، انسان جذباتی طور پر بہت کچھ کھو بھی دیتا ہے۔ اس پر بات پھر کبھی سہی۔

اس تمام داستان گوئی کا صرف اک مقصد تھا، یارو،  کہ اک طرزمعاشرت میں رہتے ہوئے، کہیں بھی، دوسروں کے بارے میں اپنا بیانیہ کچھ فراخدلی، رواداری، درگذر، مہربانی، محبت اور دوسروں کو اپنی طرح کا انسان سمجھ کر قائم کیا کریں۔ بالکل اس لیے کہ جیسے دوسرے آپکے ماضی کے حوالے سے آپکی شخصیت کی بنوتری سے واقف نہیں، ویسے ہی آپ بھی دوسروں کے ماضی کے حوالے سے انکی شخصیت کی رنگ سازی کے عمل کو نہیں جانتے۔

آپ سب کو دلی عید مبارک۔

Share This:

تبصرے