آؤ، کہ اپنی لاشوں کا انتظار کریں!

شام چھے بجے کے بعد کا کوئی وقت ہوا ہوگا۔جب پروفیسر صاحب پڑھاتے پڑھاتے ذرا دیر کے لیے رْکے ،کسی نے بتایا کہ پنڈی میں کہیں خودکش دھماکہ ہوا ہے، اور پھر پڑھانے لگے۔ کیاہوا ہے؟ میں نے ساتھ بیٹھے کرنل صاحب سے پوچھا۔اور میں حیران تھا کہ میرے سوال پران ایک درجن سے زائدایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز میں سے ہر ایک نے مجھے ایسے دیکھا جیسے میں نے کوئی لغو بات کر کے ان کا قیمتی وقت برباد کیا ہو۔ کسی نے بتایا کہ ’’کچھ نہیں پنڈی شکریال میں امام بارگا ہ کے نزدیک خودکش دھماکہ ہوا ہے‘‘۔

یہ ایک جملہ’’کچھ نہیں، خودکش دھماکہ ہوا ہے‘‘، باقی سارا وقت میری سمجھ سے الجھتا رہا۔ اور میں کتاب پر الٹی سیدھی لکیریں کھینچتا رہا، سوچتا رہاکہ یہ سب اور میں بھی، یہاں اسی شہر میں بیٹھے ہیں، اسی شہر میں جس کی ہوائیں بارود کی بدوبو سے اٹی ہیں۔ اسی شہر میں جس کی زمین مرنے والوں کے لہوسے رنگین ہوئی ہے اوراسی شہر میں جہاں سسکیاں اور آہیں ہمدرد سماعتوں کی متلاشی ہیں۔ اسی شہر میں بیٹھے ہم ایسے ہی ایک دھماکے کا اگلا ہدف ہیں۔ ہم اگلا نشانہ ہیں اور ہمی بے خبر ہیں۔ یا یوں ہے کہ بے خبر نہیں ہیں لیکن اس بارے سوچنا ہی نہیں چاہتے،محسوس ہی نہیں کرنا چاہتے۔ گویا:

بعدازمرگِ احساس کازمانہ ہے ۔ یہ زمانہ بڑے یاس کا زمانہ ہے!

میں حرفوں سے لفظ اور لفظوں سے مصرے بنانے کی سعی میں تھا اور سوچتا رہا کہ کیا ہم سب کو اسی بے موت مرنا ہے۔ ایسی موت جس پر وزیروں کے مزحمتی بیان آئیں گے اور میں اور تم کسی اخبار کی سرخی ہو جائیں گے۔ ایسی موت کے میرے ماں باپ میرے مستقبل کے خواب کو میری لاش پر رہ دیں گے ۔

واپس آیا تو ٹی وی پرخودکش حملے کی تفصیلات بتائی جارہیں تھیں۔ اور بتایا جا رہا تھا کہ دھماکے کی وجہ سے راولپنڈی کے تقریباََ سبھی راستے بہت زیادہ ٹریفک کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ اس خبر کے فوراََ بعد کمرشل ایڈ چلا جس کا پیغام تھا کہ ’’ اب ٹریفک جام میں بھی کرو کرکٹ انجوئے، موبائل لنک تھری جی کے ساتھ، کیونکہ موبائل لنک ہر حساب سے بیسٹ ہے‘‘۔ کوئی بتائے کہ ہم بتلائیں کیا؟

اور یہی نہیں اگلی خبر تھی کہ جمیعتِ علماء اسلام (س) نے دہشت گردی مخالف آٹھ نکاتی قرارداد پیش کی ہے جس میں پہلا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی شریعت کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔ اگر کسی کو اس منطق کی سمجھ آئے تو مہربانی کرکے مجھے ضرور سمجھا دے۔

کمرے میں آیا تو روم میٹ کو کہا کہ’’ آج مرتے مرتے بچا ہوں‘‘، اس نے اپنے کانوں سے ہنڈز فری نکال کر ،متفکر لہجے میں پوچھا ،’’کیوں کیا ہوا، دھماکے والی جگہ پر تھے کیا‘‘؟ میں نے کہا ہاں اسی شہر میں تھا، وہ پوچھنے لگا ’’ میں سمجھا نہیں‘‘ میں نے کہا کہ میں بھی نہیں سمجھا اور کوئی بھی نہیں سجمھا، اور ہم تب تک نہیں سمجھیں گے جب تک لاش ہمارے گھر سے انہیں اٹھتی۔

آؤ کہ ہم سب اپنی اپنی لاشوں کے اٹھنے کا انتظار کریں!

Share This:

تبصرے