آدھی عورت، اور در فٹے مونہہ

اپنی اپنی مرضی کےاسلام، شریعت، فرقوی خیالات، خلافت اور نشاۃ ثانیہ کے مامے یہ مضمون بھلے نہ پڑھیں۔ اپنے آپ پر بھی مہربانی کریں، اور مجھ پر بھی کہ میرے بلاگ کا کمنٹ سیکشن سب کے لیے کھُلا ہے اور اس میں تبلیغ سے لیکر دھمکی تک، سب لکھا جا سکتا ہے۔

میرے نزدیک کوزے میں بند ہوئے اذہان نے حضرت آدمؑ سے لیکر، اب سے ایک سیکنڈ پہلے تک انسانوں، اور انسانیت کے لیے کوئی مثبت کانٹریبیوشن نہیں کیا۔ بلکہ زیادہ تر عقیدتی جذباتیت میں منفیت کو ہی ابھارا اور معاشروں کو تقسیم در تقسیم کے عمل میں ڈالے رکھا۔ یہ عمل تقریبا تمام مذاہب میں، الوہی یا انسانی،   مشترکہ رہا ہے، چاہے یہودیت، مسیحیت ہو، یا ہو اسلام۔

اپنے تئیں خدا اور اپنے اپنے فہم کے مطابق جنت کماتے ہوئے افراد، بالواسطہ یا بلاواسطہ، تشدد کے ایسے ایسے واقعات میں ملوث رہے ہیں کہ جن کا مقابلہ کسی اور مخلوق سے ممکن ہی نہیں۔ یہودی زندہ انسانوں کو کیلیں ٹھونک کر اور پتھر مار مار کر مارتے رہے اور بھوک کا شکار رکھ کر انہی انسانوں کے وجود کا گوشت کاٹ کر انہیں کھلاتے رہے۔ مسیحی انسانوں کو زندہ جلاتے، اور زندہ انسانوں کی کھالیں اتار کر انہیں ٹکڑوں ٹکڑوں میں کاٹ کر مارتے رہے۔ انکے گلے آدھے کاٹ کر انہیں تڑپتا رکھ کر آہستہ آہستہ موت میں دھکیلتے رہے۔ مسلمانوں نے قبروں میں سے میتیں نکال کر چوراہوں میں لٹکائیں، مذہبی آئمہ کو مونہہ کالا کرکے گدھے پر الٹے مونہہ بٹھا کر معاشرے میں ذلیل کیا، مخالفین کی لاشوں کو ہفتوں گلیوں میں سڑنے دیا اور آجکل خیر سے گلے کاٹ کر ان سے فُٹ بال  کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس رفتار سے دنیا میں مسلمان گلے کاٹ رہے ہیں، لگ رہا ہے کہ شاید اسکا بھی جلد ہی کوئی ورلڈ کپ کھیلا جاوے گا۔

اور یہ سب خدا کے نام پر ہوا۔

میں پیدا پاکستان میں ہوا، اور رہنا بھی یہیں ہی ہے، لہذا پوائنٹ آ ف ریفرنس ہمیشہ پاکستان ہی رہا، اور رہے گا۔ مسلم امہ ، نشاۃ ثانیہ، خلافت، اپنے تئیں دین میں پیوریٹی، مذہبی رسومات وغیرہ کے جتنے مامے میں نے پاکستان میں دیکھے ہیں، اپنی محدود سی زندگی کے تجربہ میں کہیں اور نہیں دیکھے۔ نجانے یہ اسلام کی خوش قسمتی ہے، یا ہے بدقسمتی کہ اس میں اپنے فرقہ اور اپنی سمجھ کے اسلام کو درست ثابت کرنے کے لیے ریفرنسز ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ کچھ علم اور مطالعہ مذہب کا کر لیتے ہیں، وہ پھر بہت سختی سے اسکو پروپیگیٹ کرنا اپنا پیدائشی حق اور فرضِ منصبی سمجھ لیتے ہیں۔ مجھ سے “نہ اِدھر کے، نہ اُدھرکے” مسلمان ہر طرف سے ہی عتاب کا نشانہ بنتے ہیں اور ہر ایک کی تبلیغ اور تنقید کا نشانہ بھی۔ اللہ کی قسم، ایسے پاکستان کی امید کبھی نہ تھی، مگر یہ ہو چکا اور شاید معاملات مزید دگرگوں بھی ہوں۔ اِدھر اُدھر بات چیت کرنے، لکھنے پڑھنے کا مقصد، یارو، یہ بھی ہوتا ہے کہ جہاں ہو سکے، ایک مہذب مزاحمت کرنا لازمی ٹھہرا۔ نہیں تو آج کسی اور کے گلے کٹ رہیں ہیں، ہم چپ ہیں۔ کل میرا کٹے گا، ہم پھر بھی چپ رہیں گے۔ مگر پرسوں جب خیر سے آپ کے گلے پر چھُری پھر رہی ہوگی، تو آپ کے لیے بھی کوئی نہ بولے گا۔ لہذا بلاگ، ٹویٹر اور آس پاس، کوئی نہ کوئی ٹیں پٹاس لگی ہی رہتی ہے، اور جب تک مجھ رندِ خراب کی باری نہیں آتی، یہ ٹیں پٹاس لگائی ہی رکھنی۔

اپنے انداز کی تبلیغ  پر دلی معذرت قبول کریں اور اب  دو واقعات، آپکی نذر۔ یہ واقعات پچھلے چار دنوں میں پیش آئے۔

مجھے اپنے بینک اکاؤنٹ میں سے زکوٰۃ دینے کا کوئی شوق نہیں۔ اللہ نے دیا ہے، اور ہاتھ بھی کھلا ہے۔ اور جنرل ضیاء کے اس قانون کی عملداری اسکے اپنے گھر پر نہ تھی۔ میرے ایک رشتہ دار حبیب بینک، جی ایچ کیو برانچ، میں اس وقت مینیجر تھے جب بیگم شفیقہ ضیاء رمضان سے قبل آ کر سارے پیسے نکلوا لیا کرتی تھیں۔ جب اسلام کے اُس وقت کے مامے کا اپنا کردار یہ تھا، تو میں تو ٹھہرا ہی ایک گناہ گار انسان۔ لہذا اپنے بینک میں، میں نے سٹیمپ پیپرپر ایک ڈیکلیریشن دینا تھا، سپریم کورٹ  کے فیصلے کے مطابق، کہ میرے سیونگ اکاؤنٹ سے زکوٰۃ نہ کاٹی جائے۔ کچہری سے ڈیکلیریشن بنوایا اور بینک جا پہنچا۔ گواہان کے طور پر میں نے اپنے پارٹنر، علی حمید، اور اسکی بیگم، وردہ علی کے دستخط کروائے۔ بینک میں میرے دوست، سلمان، نے کہا کہ یار وردہ کی “گواہی قبول نہیں” کیونکہ وہ ایک عورت ہے۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ مذاق کر رہا ہے، “چل اوئے” میں نے کہا مگر اس نے سنجیدگی سے کہا کہ “ہاں بٹ صاحب، یہ قبول نہیں اور یہ قانون ہے۔” میں سڑ کے رہ گیا اور کہا کہ یار اب اسکا طریقہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ کسی مرد دوست سے یا کسی ایک اور خاتون سے دستخط کروا کے لائیں۔ ٹائم کم تھا، لہذا اسی سے درخواست کی تو کہنے لگا کہ بینک آفیسر اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کا گواہ نہیں ہو سکتا۔ آس پاس دیکھا تو اس نے اپنے “ٹی بوائے” سے درخواست کی اور اس ٹی بوائے نے آکر اپنے پورے انسان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دستخط کئے اور یوں میرا کام ہوا۔ ٹی بوائے، رشید،  کا شکریہ ادا کرنے کے بعد میں نے اسکی تعلیم وغیرہ کے بارے میں معلوم کیا تو جانا کہ وہ آٹھ جماعت پاس ہے، راولپنڈی میں پیدا ہوا، اور ابھی تک زندگی میں صرف لاہور وہ دوسرا شہر ہے جہاں وہ چند دن جا سکا اور اسکے علاوہ اسکا نہ کوئی ایکسپوژر ہے اور نہ ہی کوئی لرننگ۔

وردہ، صاحبو، دو ماسٹرز ڈگریاں رکھتی ہے، ان میں سے ایک ٹیلی کام انجنیئرنگ میں ہے  اور دوسری ڈیولپمنٹ سٹڈیز میں، اور پاکستان کی تیسری بڑی موبائل فون کمپنی میں نہایت مشکل اور ٹیکنیکل موضوع پر کام کر تی ہے۔ نہایت مناسب، اور مڈل کلاس پروفیشنل گھرانے سے اسکا تعلق ہے، کتب بینی، سفر اور  نئے علوم سیکھنے کا ذہنی میلان بھی رکھتی ہے۔ ڈیڑھ ماہ میں جرمنی جا رہی ہے ایڈوانس پروفیشنل کورس کرنے، مگر اسے مبارک ہو، کہ وہ پاکستانی اسلام کی تشریح کے مطابق “آدھا انسان” ہے اور رہے گی۔ رشید اس سےپاکستانی اسلام  کی معاشرتی تشریح کے مطابق برتر ہے، اور رہے گا۔

اگر اس موقع پر میرے پڑھنے والے کسی اسلام کے مامے کا خون کھول رہا ہے تو اس سے سوال یہ ہے کہ اگر اسلام ایک آفاقی مذہب ہے اور تمام معاشروں اور تمام جہانوں کے لئے ہے تو، ذرا بتائیں کہ مغربی ممالک میں رہنے والی مسلمان عورتیں آدھی انسان ہیں، یا پوری؟ انکے لیے افسوس کی بات ہو شاید، مگر وہاں انکی گواہیاں پوری ہیں اور مجھے   پاکستانی اسلام کے ماموں سے پوری ہمدردی ہے کہ وہاں اسلام خطرے میں ہے اور یقینی طور پر یہ بھی یہودی، مسیحی، ہندوی، دہروی اور  اب”بٹوی” سازش ہو گی۔

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ میرے ایک دوست نے جی-ففٹین میں گھر تعمیر کیا اور اس میں “برکت” کے لیے اپنے ایک پیر صاحب کو بلوایا کہ وہ آ کر دعا کریں۔ چھوٹی سی تقریب تھی اور مجھے بھی وہاں مدعو کیا گیا۔ میں نے بھرپور کوشش کی کہ پیر صاحب کی آمد کے وقت کے گزرنے کے بعد ہی جاؤں، مگر پیر صاحب مجھ سے زیادہ ہوشیار نکلے۔ وہ “صرف” ڈیڑھ گھنٹا لیٹ آئے اور جب میں ڈیڑھ گھنٹے کی “سیانت” کے بعد وہاں پہنچا تو پیر صاحب بھی وہاں تشریف لا رہے تھے۔ اپنا ماتھا پیٹا کہ آنے سے پہلے نفیس کو کال کر لیتا، مگر اب جال میں پھنس چکا تھا۔ پیر صاحب اسلام آباد کی ایک بہت بڑی گدی سے ہیں، اور کوئی پانچ سال قبل میں نے انکواپنے کمرے میں، جو اس گدی کے احاطے میں ہی واقع ہے، ایک “مشہور ” مغربی سیٹلائٹ چینل “ہسلر” دیکھتے ہوئے بھی ملاحظہ کیا ہوا ہے، مگر وہ دن کچھ اور تھے، اور اب میں  اس اہمیت کا حامل نہیں ہوں، اور اسی میں زیادہ خوش بھی ہوں۔

خیر پیر صاحب اپنے پورے کروفر کے ساتھ وارد ہوئے اور پورے زاہدانہ زعم اور پروٹوکول کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے۔ اپنے ساتھ “دم کیا ہوا عرقِ گلاب” بھی لے کر آئے ہوئے تھے۔ نشست ہوئی اور نفیس سے کہا کہ سب سے پہلے اپنے گھر کے ٹائلٹس دکھاؤ۔ نفیس نے ہاتھ باندھ کر حکم کی تعمیل کی اور چاروں ٹائلٹس کی انسپیکشن کے بعد پیر صاحب نے فرمایا کہ وہ اس گھر میں دعا نہیں کروائیں گے کیونکہ اس گھر کی ٹائلٹ سیٹس کی سمت “مشرق اور مغرب”  ہے اور یہ اسلام کے خلاف ہے۔ جب یہ “پیرانہ و عالمانہ خرافات” فرما ئی گئیں، میں بھی وہاں ہی موجود تھا۔ اگلا حکم یہ صادر کیا کہ اس گھر کی تمام ٹائلٹ سیٹس توڑ کر انکی سمت “جنوب سے شمال” کی جانب کی جائیں، اور اسکے بعد ہی پیر صاحب دعا کروانے تشریف لائیں گے۔

عقیدتی اسلام کی اس نشست میں، میں خاموش رہا کہ معلوم ہے پیر صاحب خود اور انکے جانثاران مجھ چھ-فٹے انسان کو شاید چھ منٹ میں چھ-چھ سینٹی میٹر کی چھ سو بوٹیوں میں تبدیل کر سکتے تھے، لہذا زبانی جہاد سے گریز کیا۔ انکے جانے کے بعد، میں کچھ دیر نفیس کے پاس بیٹھا رہا اور اسے مجبور کرتا رہا کہ یار، اس سے فرق کیا پڑتا ہے، اور خدا کا واسطہ ہے کہ زندگی کو آسان بنا کر جیئو اور اس بک بک میں نہ پڑو۔ مگر یارو، آج بارہ اپریل ہے اور نفیس پچھلے چار دن سے اپنے بالکل نئے گھر میں شفٹ ہوئے بغیر کرائے پر بارہ کہو رہتے ہوئے ان چار ٹائلٹس کو تڑوا رہا ہے اور نیا بنا رہا ہے۔ میں اسے روز فون کرتا ہوں اور “دُر فِٹے مونہہ” کہتا ہوں۔

میری اس سے پرانی دوستی ہے، اور میں اسکا مذاق بھی بناتا رہتا ہوں، مگر اسکی اس جاہلانہ عقیدت کو صرف اس لیے برداشت کرتا ہوں کہ وہ  بڑا ہیرا آدمی ہے، مخلص، محبت میں بھیگا ہوا، بیگم سے ڈرا ہوا اور مجھ سے یار باشی میں ملوث۔ رات کے دو ہوں یا دوپہر کے دو، میں اسکے اور وہ میرے لیے حاضر۔ مگر اس تمام یاری دوستی کے باوجود میں اسکے نئے گھر کو دوبارہ توڑ پھوڑ سے نہ بچا پایا۔

اب اسے کیا بتاؤں کہ یار، جب تُو ایف سِکس-تھری  سیکٹر میں واقع اپنے دفتر سے اٹھ کر اور بتیس کلومیٹر کا سفر طے کر کے ہر روز جی ففٹین اپنے ٹائلٹس کو تڑوانے جا رہا ہوتا ہے، عین اسی وقت، تیرے پِیر صاحب، نمازِ عصر ادا کرنے کے بعد گدی کے احاطہ  میں موجود اپنے کمرے میں وہی “مشہور مغربی چینل، ہسلر” دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی، دل گرم اور دنیا کی “بدبوداری” سے مکمل مستفید ہو رہے ہوتے ہیں۔ ہرروز ٹائلٹس کی سپر وژن کے بعد، نفیس پچاس کلومیٹر سے زائد سفر کرکے بارہ کہو، اسلام آباد کی نواحی آبادی، جاتا ہے، اور گھر پہنچتے پہنچتے اسے رات کے ساڑھے نو/دس بج جاتے ہیں، اور اگلی صبح اسے پھر سات بجے گھر سے نکلنا ہوتا ہے، دفتر کے لیے۔ اور اسی وقت میں اسکے پیر صاحب شاید “ہسلر ” کی فیوض و برکات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ حق، حق، حق!

میرا مقصد ایویں کی تنقید کبھی نہیں رہا مگر سچ یہ ہے کہ دنیا  میں آگے بڑھنے، اللہ کی بنائی ہوئی نعمتوں، کہ جن میں انسانی دماغ بھی ایک ہے، سے استفادہ حاصل کرنے، معاملاتِ معاشرت میں کھلے دماغ سے جینے اور “کرنے والے کام کرنے” کے حوالے سے اپنے معاشرے اور لوگوں میں میں نے اپنی شعوری عمر میں زوال ہی دیکھا ہے۔ میں چونکہ “دنیا دار کُتا” ہوں، لہذا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اس ملک و معاشرت کا بنا کیا ڈالا ہے اس سوچ، اس اپروچ اور اس رویہ نے کہ یہ ملک، معاشرہ اور لوگ گھٹن کے ایک ایسے سلسلہ میں گرفتار ہو چکے ہیں کہ جس سے اختلاف کا مطلب آپ کی گردن پر “اللہُ اکبر” بھی ہو سکتا ہے، مگر جان کے  ٹوٹو، یہ ملک میرا بھی تو ہے، اسکے نقصان پر نہ بولوں تو کیا خاموش تماشائی بنا رہوں؟ کیا زمانے میں پنپنے کی ہی باتیں ہیں؟

اور میں تو کوئی پیر بھی نہیں کہ “ہسلر “دیکھ کر اپنے اور دنیا کے غم بھلاتا رہوں، آہ!

Share This:

تبصرے