آہا، گریب یؤر کی بورڈز، بوائز اینڈ گرلز!

پاکستانی خواتین و صاحبان کو سوشل میڈیا پر دنیا بدلتے اور تمام جہان کے تمام مسائل حل کرتے دیکھ کر آنکھیں ہیں کہ بھر بھر آتی ہیں۔ بڑی بڑی باتوں میں الجھوں کے آس پاس کتنی ہی بکھری کہانیاں ہیں، مگر ان پر غور کی نہ تو کوئی روایت ہے، اور نہ ہی کوئی کوشش۔ بس ایسے ہی اپنی اک عزیزہ پر بیتی زندگی کی کٹھن حقیقت یاد آگئی۔

خاتون کی خوش وخرم زندگی میں اچانک اس وقت قیامتِ صغریٰ ٹوٹ پڑی جب شادی کے دوسال بعد ہی شوہرعلی الصبح جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔وہ توآزمائش کی گھڑی آئی مگرجو صاحب کے دوستوں اور دفتر والوں نے بیوہ کا خیال رکھا ایک الگ داستان ہے۔پہلےتوان کی ذھنی حالت کا فائدہ اٹھاتے جنازےسےقبل ہی زیور اور جائیداد کے کاغذات نکال لیے گئے،جس کی خبرانہیں کچھ ماہ بعد ھوئی۔پھرجو پینشن کے اجراء  کیلیے صعوبتیں جھیلیں اسے بیان کرنے کو الفاظ نہیں ملتے۔ڈیڑہ سال کسی نے پلٹ کر نہیں پوچھا کہ کیا کھا رھی ھو،کہاں سے زندگی گھسیٹنےکولارھی ھو۔اولاد تھی نہیں،اور مرحوم نےبیوی کوجاں نشین مقررکرکےکاغذات جن دوست کو دے رکھےتھےوہ بھی یزیدیت پر اتر آئےتھے۔

بہرحال پینشن کا اجزاء ہو ھی گیا اب معاملہ فنڈز کا تھا جو کہ خاصی بڑی رقم تھی۔ایسے میں ایک دن ایک فون کال آئی۔تعارف کروایا کہ مرحوم کا فلاں دوست ہوں اور فاتحہ کیلیے آنا چاھتاہوں۔خاتون نے کہا کہ اب تو ڈیڑہ سال ھوگیا بھائی۔جواب آیا “تب معاملات ہی ایسے تھےکہ میرا نہ آنا بہتر تھا۔” سختی سے منع کرنے پر فرمانے لگے کہ ایک آرگنائزیشن چلا رھا ہوں،لوگوں کا سمندرہے۔آپ منسلک ہوجائیں تو بہت اچھا لگےگا۔انکار پر اگلا پانسہ پھینکا گیا کہ فون اس لیے کیا ہے آپ جوان ھیں،بچےبھی نہیں اور میں تبلیغی جماعت کا رکن ہوں،جانتا ہوں بیوہ کو سہارا دینا کتنا بڑا ثواب ھے۔یہ ثواب کمانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا۔

خاتون نے ڈانٹ ڈپٹ کر فون منقطع کردیا اور ان کے آفس فون کرکے اطلاع کردی کہ یہ جہادی صفت صاحب ثواب کی نیت میں دبلے ھورھے ہیں،سنبھالا جائے۔خبرھوئی کہ مرحوم شوہرکے فنڈز کاپہلاچیک ایشو کیا جاچکا ھے۔باقی معاملہ سمجھنا مشکل نہ تھا۔

یہاں اہم بات یہ بھی کہ یہ صاحب ایک اہم ادارے میں نہایت اہم پوسٹ پر کام کررہے ہیں،دو زوجین اوردرجن بھر بچے ھیں،گھرمیں فرنیچرکے نام پر دو موڑھےھیں اور محمدی بستر دوکمروں میں بچھے ھیں۔گھریلو جھگڑے معمول ہیں اور صاحب بڑھتی آبادی سے خاصے پریشان ھیں۔تنخواہ کا بڑاحصہ تبلیغ میں فی سبیل اللہ جارہ اہے اور گھر کے خرچے پورےنہیں ہوتے۔مگر بات وہی کہ بیوہ کا سہارہ بننے کا شوق چرایا ہے۔

تو کہنا فقط اتنا ہےکہ اپنے گھر کی حالت دیکھیے۔ثواب کا کام وہیں سے شروع کیاجاتا تو مناسب بھی معلوم ہوتا۔اب اُچک کر کشمیر کیلیے اُتاولے ھونے کا تو پھر وہی محاورے والا حساب ھے کہ “پلےنہیں دانے اماں چلیں بھنانے”۔ اوردنیا کے تمام مسائل تو جیسے انجان بیوہ ہے کہ آپ کے حالات سے بےخبر ثواب کمالینےدےگا۔

یاد رکھیےزندگی کو جھیلتے اورموت سے لڑتے لوگ صرف دِلوں سے فیصلے نہیں کرتے۔دنیا میں رہنے والے تمام لوگوں کے پاس دماغ ہے ۔ اور اس کا استعمال وہ کم از کم آپ کیلیے تو نہیں کریں گے، آج تک تو نہیں کیا۔باقی یہ کہ اپنی چھٹیوں میں بریانی ، کڑاھی وغیر ہ کےساتھ ایک آدھ ہالی، بالی اور لالی وُڈ کی فلم بھی پھڑکایا کیجیے۔ چھٹی منایا کیجیے اور کسی صحت افزاءمقام پر وقت گزارتے دنیا کے تمام مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کے رِستے زخموں کیلیے بھی آہ و بکا کرلیجیے گا۔ دنیا کے تمام مسائل کا کیا ہے ، وہ تو ملک بھرمیں جمعہ کے خطبات کےدوران دعائیں اور بددعائیں دے کر حل کروا لیے جائیں گے۔

یقین کیجیے!

Share This:

تبصرے