الباکستانی خلجان، زلزلہ “ماہران،” عقل پریشان!

 جنابان من، 26 اکتوبر 2015 کی دوپہر بدخشاں سے چلی زلزلے کی لہر پاکستان کو ہلا گئی اور اس سے زیادہ سوشل میڈیا ہِل گیا۔ کیسے؟ پڑھئیے، اور جانئیے!

1 : پراؤڈ پٹاخہ ایٹ بیچی بَگ

“زلزلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

جونہی ملازمہ نے جاگرزمیں تسمے پروتے زمین پر کانپتے یہ آواز لگائی میں نے تو جھٹ سمارٹ فون اٹھایا جھولتی تھرکتی wind chime کی وڈیو بنائی اور جھولتے پنکھے کو ٹیگ کرکے ھیش ٹیگ #زلزلہ کا آغاز کردیا۔یوں پاکستان میں اس تاریخی زلزلےکو سوشل میڈیا پر متعارف کروانے کا سہرا میرے سر ہے۔پھر جو اس کی شدت اور ہلاکتوں بارے ہر مصدقہ/غیر مصدقہ خبر کو عوام تک پہنچایا وہ تو ایک الگ ہی محنت و عظمت بھری داستان ہے۔

آج جِم جانے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔ممی کو آواز دی کہ اچھی سی کافی بنوا کر بھیجیں۔بہت کام تھے۔زلزلے کی وجوہات اور اثرات بارے سیر حاصل بحث کرنی تھی اور حکومتی اقدامات کو دل کھول کر رگیدنے کا موقع تو قدرت نے فراہم کر ہی دیا تھا۔پھر ہمارے ویر جوانوں کی جفاکشی کو ہائی لائٹ کرنا صرف باجوہ صاحب کے ناتواں کندھوں پر تو ڈالا نہیں جا سکتا۔۔۔کچھ کام ہمیں بھی اپنے ذمہ لینے چاہییں۔

مجھے Earthquake بارے پڑھےکافی سال ہوگئے۔مگر یار دوست مل کر کچھ نہ کچھ حصہ ڈال کر ٹرینڈ لسٹ میں دھوم تو مچا ہی لیں گے ۔۔۔فلڈز وغیرہ کے دنوں میں بھی توسب نے سوشل میڈیا پر اتنی محنت کی تھی۔۔آج بھی اپریل ٢۰۰٥ء میں نیپال میں آنے والے زلزلے کی تصاویر نکال کر تھوڑی بہت جھاڑ پھونک کرکے اچھا خاصا کراؤڈ اکٹھا کیا جاسکتا تھا۔اور کوئی نیوز چینل اس پوسٹ کو “ایکسکلوزو” واٹر مارک کے ساتھ دِکھا دے تو بلے بلے ۔

ویسے تو Numerology کے کچھ اعداد سے کھیل کر بھی اس زلزلے کو ثابت کرنے کی کوشش کردی ہے۔شہرت تو ملے گی ہی ، فالوورز الگ۔۔۔۔

2 : استغفرللہ ایٹ کلیم اللہ

زلزلہ کیوں آتا ہے؟

یہ سوال سوشل میڈیا پر بیٹھےکاہل و جاہل کرتے ہیں۔ مجھے تو پتنگے لگ گئے ان نامرادوں کی باتیں پڑھ کر ۔ یعنی کہ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں اور کہتے ہیں زمینی پلیٹوں کا ٹکراؤ ہے۔

میاں جب پورا ملک سود پر چلاؤ گے، فحاشی عام ہوگی۔۔۔ عورتیں ٹخنوں سے پانچ اِنچ اونچےتنگ پاجامے زیب تن کرکے مجھ سے متقی کا وضو خطا کروائیں گی ، جہوریت جیسا کفر کا نظام رائج کرکے چور لٹیروں کو برسرِ اقتدار لاؤ گے تو اللہ کا عذاب ہی نازل ہوگا نا۔ اور مزید یہ کہ لغو گوئی۔۔استغفرللہ۔۔ایسی گندی گندی ذومعنی گفتگو ہوتی ہے ٹائم لائن پر۔۔عورتوں کی تو آنکھ کا پانی مر چکا۔۔۔عورت کو برسرِ اقتدار لا کر اللہ سے کھلی جنگ کرچکا ہے یہ ملک۔۔۔

بےحیائی کی مرتکب یہ عورتیں ہوتی ہیں اور عذاب پورے ملک پر نازل ہوتا ہے۔ظاہر ہے جب اپنی عورتوں کو چار دیواری سے نکالیں گے تو بھگتیں پھر۔۔۔زنا کے اڈے ہیں کہ بڑھتے چلے جارہے ہیں۔انہی عورتوں کا چلایا کاروبار ہے۔۔یہی قصور وار

میں نے تو لگایا پھر فون اپنی سوشل میڈیا ٹیم کو کہ آجاؤ میدان میں۔۔زلزلےبارے قرآنی احکام لگاؤ اور بتاؤ اس جاہل قوم کو کہ فالٹ لائن نامی کوئی شے نہیں ہوتی بلکہ قوم کی عورتوں کا “فالٹ” ہے ۔اور تاکید کی کہ جو شخص اس سے اختلاف کرے یا کسی قسم کی کوئی سائنسی دلیل لانے کی کوشش کرے فوراً سے پہلے کافر قرار دے کر ایسا زدوکوب کرو کہ پبلک میں کلمہ پڑھ کر گواہی دے۔ہمیں ثواب کا ثواب اور وہ فاسق سبق الگ سیکھے گا ۔

3 : سویٹ سوبر ایٹ براؤنی بَبّر

ٹائم لائن پر بکھرے علم کے موتی بیس منٹ سمیٹنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ زلزلے بارے میری معلومات کا کوزہ بھر چکا ہے۔آٹھ دس اچھے نامور لوگوں کو آرٹی کیا۔۔ایک دو نیوز چینلز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور کچھ صحافیوں کی گفتگو کا بغور جائزہ لے کر محتاط طریقے سے تمام معلومات کو ری۔سائیکل کرکے پوسٹ کرنا شروع کردیا۔۔۔۔ اتنے فیورٹس،اتنے کمنٹس۔۔میں حیران پریشان۔۔

پھر یاد آیا کہ آج صبح ہی اپنی ڈی۔پی بدلی تھی۔۔اتنے کوئی بےوقوف لوگ ہیں نا۔۔یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ تصویر ایک نئی پاپ سٹار کی ہے جس نے ابھی کوک اسٹوڈیو میں گایا نہیں ،اسی لیے زیادہ مقبول نہیں ہو پائی۔۔میں نے تو شکر کیا۔۔۔ایک ہی دن میں پچیس فالوورز مل جانا کوئی معمولی بات تو نہیں تھی۔

اب دو چار درد بھرے اشعار کاپی پیسٹ کرلوں پھر زلزلہ متاثرین کی امداد کیلیے ایک آدھ تھریڈ لکھنے سے کام پورا۔

4 : انجینئررومیو ایٹ ڈسکو ڈیوا

تین سال قبل ڈپلومہ مکمل کرکے مناسب نوکری ملی تو سب سے پہلا کام گھر کے باہر نمبر پلیٹ لگوائی جس پر جلی حروف میں “انجینئر” لکھا دیکھ کر آس پڑوس کو میری پھپھو کپتی سے زیادہ آگ لگی۔

چھبیس اکتوبر کو زلزلہ آیا تو مجھ پر فرض تھا کہ سوشل میڈیا کا درست استعمال کرکے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو زلزلے کے حقائق بارے آگاہ کروں۔۔۔ پہلے تو بھلا ہو اس گوگل سرچ کا، تیس منٹ کی محنت میں دو اردو آرٹیکلز اور ایک سادہ انگریزی کا مکالہ زلزلے پر تلاش کیا۔بک مارک لگایا اور اچھے سے سب سمجھ کر دھیرے دھیرے ساری معلومات پوسٹ کرنا شروع کیں۔۔مگر مجال ہے جو دو تین لوگوں کے علاوہ کسی نے توجہ دی ہو۔۔۔

بھاڑ میں جائے ایسا علم۔۔اس قوم نے کبھی علم کی قدر نہیں کی۔یہاں فساد پھیلانے والا ہی اہمیت بٹورتا ہے۔۔بس پھر ایک ہی وقت میں دو لوگوں سے پنگا لیا۔۔۔ استغفرللہ ایٹ کلیم اللہ جانے خود کو سمجھتا کیا ہے۔۔دھجیاں اڑا ڈالیں اس کے سطحی مطالعہ کی۔۔اس دوران ایک بندہ  آیا میری طرف داری کرنے۔۔۔ اس کے لبرلزم بلکہ سیکولرازم کی بھی ٹِکا کر چٹنی بنائی۔۔دو چار گالیاں لکھیں اور جب کام اچھے سے “پَخ” گیا تو سب کی توجہ خود پر پا کر روح کو راحت اور دل کو چین ملا۔۔میں تو نکل آیا آرام سےڈی۔ایم کی جانب۔۔۔۔۔۔

5 : پخیرراغلے ایٹ آزاد سوچ

زلزلے کی خبر پڑھتے ہی آنسو رواں ہوگئے۔مانا کہ میرا آبائی علاقہ فالٹ لائن پر واقع ہے مگر وفاقی حکومت اور ٢۰۰٥ء کے زلزلے میں ملنے والی امداد ہڑپ کرجانے والی حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر اکھاڑ پچھاڑ کا یہ موقع مجھے اللہ نے دیا تھا ۔۔۔۔ پراؤڈ پٹاخہ کی پوسٹ کردہ تصاویر پر دو روتے ایموجی اور اپنے صوبے کے عوام کی خستہ حالی پر ایک آدھ جملہ جلتی پر تیل کا کام کرنے کو بتیہرا تھا۔کچھ کام اس ڈسکو ڈیوا اور استغفرللہ کے حوالے سے بھی کرڈالا۔۔۔ایک کی گوگل معلومات کو رگیدا اور دوسرے کو یاد دہانی کروائی کہ فحاشی اور زنا تو ان معاشروں میں زیادہ ہے جہاں سے زلزلہ متاثرین کے نام پر اربوں کی امداد کھسوٹی جاتی ہے۔

6 : فیک اکاؤنٹ ایٹ منظم اداراہ

جماعت چہارم تھی یا شاید سوئم۔۔۔۔ نیلا ، لال ، پیلا رنگ اور ایک عدد سیب۔۔۔۔ زمین کی ساخت سمجھانے اور زلزلے کی بنیادی وجوہات بارے ایسا خوبصورت بیانیہ شاید بی۔ایڈ کی وہ طالبات بھی تیار نہ کر پائیں جن کو Viva میں بڑے بڑے پراجیکٹس بنا کر ایک لیکچر دینا لازمی ہوتا ہے۔ سلام ہے ایس محنتی معلمہ کو۔

زلزلے سمندر کی گہرائی سے لے کر چاند،مریخ تک پر آتے ہیں۔ سمجھ یہ نہیں آتی کہ وہاں کون سی عورتیں ٹخنے اور سر ننگے کرتی ہیں۔۔ اور کونسا کفر کا نظام سود پر پل رہا ہے۔۔۔

یہاں تین روز سے کُڑھ کُڑھ کر برا حال ہے کہ جونہی کوئی دلیل یا سوال کیا استغفرللہ برگیڈ نے فتویٰ لگا کر دائرہء اسلام سے “ایک بار پھر” خارج کردینا ہے۔

ہمیں یہ تو یاد رہتا ہے کہ فلاں فلاں قوم صبح کو اوندھے منہ پڑی تھی۔۔۔یہ بھول جاتے ہیں کہ قومِ لوط والے اوصاف تو قصور شہر اور پشاور بچہ جیل میں بھی دہرائے گئے تو زلزلہ صرف ان جگہوں پر ہی کیوں نہ آگیا۔۔۔یا پھر مسخ شدہ لاشوں نے کیوں نہ کچھ بگاڑ دیا۔۔۔

ہم یہ بھول گئے کہ ہمارا پہلا سبق “اقراء” ہے۔۔۔ پڑھنا۔۔تحقیق۔۔۔جستجو۔۔اور غور کرنے کا حکم ہے۔۔۔۔

یہاں تو ریکٹر اسکیل اور مومنٹ میگنیٹیوڈ سکیل کا فرق تک بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔

پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائن پر ہے۔۔۔اس کے پیچھے آبادی ، غربت،وسائل اور دیگر معاملات بھی کارفرما ہیں۔

صرف بلڈنگ کوڈز پر ایک پوسٹ کرکے خوب گالیاں کھائیں۔کسی نے نہیں سوچا کہ زلزلہ اگر اللہ کا عذاب ہے تو گھروں کا گرنا ناقص تعمیرات کا نتیجہ ہے۔انسانی غلطی یا کوتاہی۔۔ یا پھر غربت جیسی مجبوری

7 : کالم نگار ایٹ دانشوراینکر

شہرِ اقتدار میں زلزلہ آیا اور میری تو باچھیں کھل گئیں جناب۔۔۔۔

بھلا ہو اس راہگیر کا جس نے میٹرو بس روٹ کا جھولا فلم بند کرلیا۔۔۔ورنہ قوم کو اس کرپٹ ٹولے کی اربوں کی کرپشن کا ثبوت دکھانے میں دیر ہوجاتی۔۔۔ اب میں کسی تعمیراتی ماہر یا انجینئر کو اپنے شو میں بلواتا تو خاک ریٹنگ ملتی۔۔لہذا اپوزیشن میں سب سے زیادہ چلانے والا بدزبان تلاش کیا کہ اس سے بہتر ماہرانہ رائے کون دے سکتا تھا۔

ساتھ میں پراؤڈ پٹاخہ کی پوسٹ کردہ زلزلے کی تصاویر چلا دیں۔

اب میری بلا سے زلزلہ گناہوں کے باعث آیا یا “براعظموں کے کونے ٹکرانے سے” ۔۔۔ بہرحال پروڈیوسر سے کہہ دیا ہے کہ لودھراں کے ضمنی انتخاب اور بلدیاتی الیکشنز کی گہما گہمی سے قبل دور افتادہ ایک آدھ گاؤں میں جانے کا بندوبست کرے تاکہ عوام کو اس حکومت کی نا اہلی دکھائی جا سکے۔اللہ کرے کسی اچھے ہوٹل میں قیام ہو تو مزہ آجائے گا۔موسم یوں بھی بے ایمان ہے اور مفت کی تو ہمیں حلال ہے۔

Share This:

تبصرے