انسان، جانور، سٹیڈیم روڈ راولپنڈی اور انقلاب

وطنِ عزیز میں بلند آواز نعرے، اور خونی انقلاب کی بحث گویا بہترین مشاغل ہیں۔ وقت اچھا گزرتا ہے، مگر کرنے والے کام وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔

ایسے کہ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم روڈ جسے عام طور پر ڈبل روڈ بھی کہا جاتا ہے کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل ہے۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہاں پر راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم ہے اور دوسری وجہ یہ کہ یہاں کھانوں کی گلی یعنی فوڈسٹریٹ ہے۔ علاوہ اس کے اس اکیلی روڈ پر جتنے ہوٹل اور ریستوران ہیں اتنے راولپنڈی کی شاید ہی کسی سڑک پر ہوں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کی ایک کثیر تعداد ڈبل روڈ کے ہاسٹلوں میں رہائش پذیر ہے۔ اور تو اور راولپنڈی آرٹس کونسل، نواز شریف پارک،شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس، عسکری عمارات اور اخبار کے کئی چھاپے خانے بھی اسی روڈ پر ہیں۔مگر کیا مجال کے کسی بندہ بشر کو اس کرب اور تکلیف کا احساس ہو جس میں یہاں کے عوام مبتلا ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں ہونے والے بدلیاتی انتخابات کے فوراً بعد ہی اس سڑک کی توسیع کے کام کا آغاز ہو گیا تھا۔دونوں طرف سے سڑک کی حد میں آنے والی عمارات کا اضافی حصہ مسمار کیاگیا تو یوں لگا کہ حکومت اس کام میں بہت سنجیدہ ہے۔ لیکن آج چار ماہ گزرنے کے بعد وہی دھول مٹی اور گردو غبار ہے جو اس کام کے آغاز کے وقت تھی۔

اس کام کو کتنا وقت لگنا چاہیے اس بارے تو کوئی انجینیئر بہتر بتا سکتا ہے لیکن یہ کام کس طرح ہونا چاہیے یہ ایک عام آدمی بھی بتا سکتا ہے۔ اول تو ایک ہی وقت میں دونوں طرف کی سڑک پر کام شروع کر کے ٹریفک کو ہر روز کی بنیاد پر بلاک کر دیا گیا۔ دوم دورانِ کام کسی قسم کی حفاظتی تدابیر کا کرنا تو دور کہیں پر روڈ کنسٹرکشن کا بورڈ بھی نظر نہیں آئے گا۔ ہیوی مشنیری کام کر رہی ہوگی اور بچے بوڑھے، پیدل چلنے والے ، موٹر کاروں اور سائیکلوں والے کسی سرکس کے شو کی مانندبیچوں بیچ گزر رہے ہوں گے۔

سب سے بڑا نقصان انسانی صحت کا ہو رہا ہے۔ مری روڈ سے آئی جے پی روڈتک جہاں سٹیڈیم روڈ ختم اور شروع ہوتی ہے ہر دوسری دوکان کے بعد ایک ریسٹورنٹ ہے۔ اور ہر چند قدم کے فاصلے پر ایک کھانے کی ریڑی ہے۔ ریستورانوں والے ڈھیٹ قسم کے کاروباری ہیں جن کو اس گرد و غبار سے کوئی غرض نہیں۔ وہ پہلے کہ طرح کرسیاں اور میز کچی سڑک پر جہاں دو منٹ سانس نہیں لیا جا سکتا ڈھال دیتے ہیں اور عوام ہیں کہ اسی طرح سے آتے ہیں ، ہر نوالے کے ساتھ گرد کھاتے ہیں چاہے پیتے ہیں اور گپ شپ کر کے چلے جاتے ہیں۔ ریڑیاں جو بار بی کیو ٹائیپ کی کوئی چیز بیچتی ہیں ان کا معمالہ زیادہ گمبھیر ہے ۔ ان کی بھٹی پر لگا پنکھا ساری مٹی ، ریت اور گرد گوشت پر سپرے کر دیتا ہے اور حیرت کی بات ہے کہ وہ بھی لوگ کھا رہے ہوتے ہیں۔

لوگوں کا قصور اپنی جگہ پر ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ، اکثریت مزدوروں اور طلبہ کی ہے۔ مزدور تو پیٹ بھرنے سے غرض رکھتے ہیں چلیں ان پڑھ ہیں اور انھیں اگلے دن پھر اسی مشقت میں لگ جانا ہوتا ہے، لیکن طلبہ کی غفلت کو کیسے نظر انداز کیا جائے؟ پڑھے لکھوں کی غفلت جہلا کی غفلت سے مہلک ہوتی ہے۔ انھی لوگوں کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جلسے جلوسوں میں دیکھیں تو آپ ان کے جذباتی ہونے کی داد دیے بنا نہیں رہ سکیں گئے لیکن نہیں معلوم کی ان لوگوں کو اپنے رہائش اور کھانے پینے کی جگہ کی صافی سے غرض کیوں نہیں۔ خونی انقلاب و تبدیلی وغیرہ سے بہرحال مکمل غرض ہے؛ بھلے آئے یا نہ آئے!

بچپن میں والدہ سے سنا کرتے تھے کہ بیٹا، جانور بھی بیٹھنے سے پہلے اپنی جگہ صاف کرلیتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ یہ تو پھر بھی انسان ہیں۔

انسان ہیں؟

Share This:

تبصرے