ان لڑکیوں کا کیا بنا؟

تحریک انصاف  بحیثیت پارٹی، اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان  پچھلے تین ہفتوں سے اک دوسرے کو اس معاملہ پر نیچا دکھانے کے “جہاد فی السیاست” میں مصروف رہے کہ اسلام آباد اور پھر لاہور میں تحریک انصاف کے جلسوں میں آنے والی لڑکیوں کے ساتھ کس نے بدتمیزی کی۔ میں چونکہ تحریک انصاف کے “عمرانی ماڈل” کا ناقد ہوں، لہذا اس جماعت سے جسکی توقع تھی، وہی ہوا، کہ خود عمران خان صاحب خم ٹھونک کر میدان میں تشریف لائے اور بالخصوص لاہور میں ہونے والی بدتمیزی کا تمام الزام “مسلم لیگ کے غنڈوں” – جی، خانصاحب کے یہی الفاظ تھے – پر ڈال دیا۔ جبکہ اس سے چند دن قبل ہونے والی، اسلام آباد کے جلسہ میں بدتمیزی پر انہوں نے خواتین سے معافی بھی طلب کی۔ خانصاب بھلے مسلم لیگ کے غنڈوں پر ذمہ داری ڈالتے رہیں، خود انکی جماعت کی صوبائی عہدیداران خواتین نے انہیں ای-میلز لکھیں اور میڈیا پر آکر کہا کہ یہ بدتمیزیاں، خود تحریک انصاف کے کارکنان نے کی تھیں۔

اپنی عقلِ سلیم میں خانصاحب نے اس معاملہ کا حل یہ نکالا کہ پشاور جلسہ میں خواتین کو مدعو ہی نہیں کیا۔ گویا مسئلہ حل نہیں کرنا، اس سے فرار حاصل کرنا ہے۔

دوسری جانب، مسلم لیگ کی ٹاپ لیڈرشپ کی جانب سے تحریک انصاف کے کارکنان پر کوئی بات تو نہ ہوئی، مگر نواز اور شہباز شریف صاحبان نے ان دونوں واقعات کی انکوائری کروانے کی یقین دہانی کروائی، اور چند روز قبل، سنا ہے کہ پنجاب پولیس نے 18 “غیرت مند نوجوان” گرفتار بھی کئے ہیں۔ انکا کیا بنے گا، یہ ابھی سوالیہ نشان ہی ہے، اور جب تک انکا کچھ بنے گا، تب تک سیاسی محاذ پر کوئی نیا کھٹا میٹھا چورن فروخت ہو رہا ہوگا۔

مسلم لیگ کی لیڈر شپ نے بھلے کوئی بات نہ کی ہو، مسلم لیگ کے کارکنان اپنے تئیں گویا بھگو بھگو کر مارتے رہے، اور ان کے لب و لہجہ میں اک خاص قسم  کا Sadistic Pleasure بھی نظر آیا  اور تمام فوکس تحریک انصاف کی ان دونوں جلسوں کو مینیج کرنے کے حوالے سے انکی ناقابلیت اور نالائقی پر رہی۔ اور اس بات پر بھی کہ “اور بھیجو اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو تحریک انصاف کے جلسوں میں!”

ان بچیوں سے زیادتی کے معاملہ میں تحریک انصاف بحیثیت پارٹی اور مسلم لیگ کے کارکنان، کوئی سنجیدہ رویہ دکھانے میں ناکام رہے۔ دونوں نے اپنی اپنی طرح کی پوائنٹ سکورنگ کی، اور دونوں نے اک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ میں نے بھی  دو ویڈیوز دیکھی، شئیر کیں، اور سچی بات ہے کہ یہ سطور لکھتے ہوئے ان بچیوں کی چیخیں جیسے کانوں میں گونج رہی ہیں۔

اس پر اک عمرانی (Sociological)  تجزیہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان میں  مذہبی تشریحات کے نمائشی معاشرہ  میں کہ جہاں پچھلے ستر سال میں  سماجی اخلاقیات، رویوں او رمعیار کی نہیں ، بلکہ مسلسل مذہب کی مارکیٹنگ ہوئی ہے، تو  معاشرہ اسلامی کیا ہوتا، الٹا جنسی گھٹن کے مسلسل ماحول نے، عورت، اور اسکے وجود کےحصول نے اک عجب سی پراسراریت  جنس و صنف کے رشتوں کے حوالے سے قائم کی ہوئی ہے۔  جھوٹ کیا بولا جائے کہ جھوٹ در جھوٹ کے اس نام نہاد مذہبی تشریحاتی معاشرے میں یہ جھوٹ ہی تو ہے کہ جس نے معاملات اس حد تک دھندلا اور گدلا دئیے ہیں۔ ملکوال ایسے چھوٹے قصبے میں، میں خود اس حیوانی خواہش کی پراسراریت کا شکار رہا ہوں، گوکہ تحریک انصاف کے جلسوں میں ہونے والی بدتمیزی کی حد تک کبھی نہ پہنچا، اور سچ تو یہ ہے کہ وہاں تک نہ پہنچنے کی وجہ کوئی ذہنی معیار یا تعلیم نہ تھی، بلکہ اس پٹائی کا خوف تھا جو معاشرے سے ممکن ہو سکتی تھی۔ لہذا اک بچت ہی  ہو گئی، اپنے آپ کو جنسی اور صنفی حوالوں سے ذہنی تعلیم دینے کا سلسلہ کہیں بعد میں شروع کیا، اور مناسب سا کامیاب بھی رہا۔

ان بچیوں کے ساتھ ہونے والے اس سلوک  نے مجھ میں بھی اک سوال لا کھڑا کیا کہ اوائل اور دوران جوانی اگر مجھے ایسا موقع ملتا کہ جہاں میں مجمع میں خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے، عورت کے وجود کی مسلسل بےحرمتی کرتے ہوئے کچھ لطف اٹھا سکتا تھا تو میں کیا کرتا؟ مجھے افسوس ہوا اپنے اندر کا سچ جان کر کہ میں بھی شاید وہی کرتا جو ان غیرتمند مردوں نے کیا۔ میں بھی تو بھیڑ چال کی شکار اس اکثریت کا حصہ ہوں کہ جس کے لیے ماتھے پر سجدے کا نشان، دل، خیال، رویے اور ذات کے معیار سے کہیں بہتر ہے۔ میں بھی تو اس  “طارق جمیلانہ” خیال کا زخم رسیدہ ہوں کہ بھیا، جو چاہے ہے مرضی گناہ کرلو، آخری وقت میں کی گئی اک   نیکی سے بیڑے پار، اور پھر جنت ہوتی،  میں ہونگا، اور 300 فیٹ کی حوریں، اور پھر موجیں ہی موجیں!

سوال یہ پوچھنا ہے کہ مردانہ غیرت کے جھوٹ میں زندہ اس معاشرے میں ان دو جلسوں میں جن بچیوں سے زیادتی ہوئی، جن کو ہراساں کیا گیا، ان لڑکیوں کا کیا بنا؟ انکی نفسیات پر کیا اثرات ہوئے؟ وہ اس معاشرہ میں مرد کے ساتھ اپنے صنفی کردار کے حوالے سے کیا معیار مقرر کر پائیں گی، کیا کوئی معیار مقرر کر بھی پائیں گی؟  ذہن سے جڑی، انکی جنسی ساخت اب کیا ہوگی اور آنے والی ساری زندگی میں، انکی نفسیاتی ہئیت کیا ہوگی؟ کیا اس واقعہ کے بعد وہ اک صحتمند معاشری اکائی بن کر زندہ رہ سکیں گی؟ کیا صحت ممکن بھی ہو سکتے گی؟

وہ لڑکیاں، اس ساری بحث میں موضوع ہی نہیں رہیں۔ اور اس اسلام کے نام لیوا معاشرے میں، آپ مانیں یا نہ مانیں، عورت کی فی الحال یہی معاشرتی حقیقت اور حیثیت ہے۔

چلیں چھوڑیں آئیں، اور بیان سنیں کہ جنت میں اور کیا کیا ہوگا مردوں کے لیے کرنے کو، آئیے نا!!!

Share This:

تبصرے