ایم کیو ایم، ریاست، اور کراچی کے مبشر اکرمز!

کراچی، میرا شہرِ دل بستہ!

روشنیوں کے اس شہر کی صورتحال، گذشتہ اور موجودہ میں دو بنیادی فریق ہیں: ایم کیو ایم، اور ریاست۔ اوردونوں نے اپنے جثے اور بساط کے مطابق مرضی مرضی کے جھوٹ بولے ہیں۔ اس بڑے اور شدید پیچیدہ شہر کے معاملات میں ان دونوں فریقین کے پاٹوں کے درمیان، تقریبا 99٪ مجھ جیسے عام شہری ہی کچلے گئے۔ مجھ جیسے عام شہری ہی مارے گئے۔ مجھ جیسے عام شہری ہی قتل کئے گئے، اور مجھ جیسے مرنے والوں کی ذمہ داری نہ ایم کیو ایم اٹھا رہی ہے، نہ اٹھائے گی، اور یہی رویہ ریاست کا بھی ہے۔

عجب مزاح ہے، ذرا ملاحظہ تو کیجیے: 1992 کے ملٹری آپریشن میں، ایم کیو ایم جناح پور بنانے کی ذمہ دار ٹھہرائی جاتی ہے۔ پھر بیچ میں قتل و غارت کا اک لمبا سلسلہ چلتا ہے، اور کوئی دس سال بعد، جنرل پرویز مشرف صاحب، ستارہءجرات وغیرہ، اسی ایم کیو ایم سے معانقہ فرماتے ہیں، اور تقریبا اگلے دس سال یہی ایم کیو ایم سیاسی اور انتظامی امور کے مرکز میں براجمان رہتی ہے، مگر بہرحال، مجھ جیسے عامی مرنے ، قتل ہونے، اور کچلے جانے کا شغل جاری رکھتے ہیں۔ لیاری کے جھگڑے ہوں، یا سڑکوں پر دندناتے پھرنے والے ٹارگٹ کلرز (ابھی اسکی قریب ترین اردو نشانہ باز قاتل کچھ مزہ نہ کرے گی!)، یا پھر شیعوں کو مارتے دیوبندی بھائی، اور دیوبندی بھائیوں کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے شیعہ مجاہدین اور درمیان میں سُنی تحریک کے عاشقان بھتہ خوری کرتے ہوئے۔ ان سب کی حساب برابری کی مہم میں مبشر اکرم ہی مارے گئے۔ مبشر اکرموں کے مر جانے کے بعد انکے خاندانوں، اور انکے پیاروں کا کیا بنا، شاید سائیں قائم علی شاہ، اپنی کسی ٹرانس میں جا کر ہی بتا سکتے ہیں۔ مگر انکو اس ٹرانس میں لے جانے کے لیے بھی پہلے انہیں اس نیند سے اٹھانا پڑے گا جسکی اتھاہ گہرائی میں کوئی ذی الشعور بندہ بشر شاید جا ہی نہیں سکتا۔ لہذا، کراچی کے مبشر اکرموں: جھل کے رکھو (برداشت کرو!)۔

کراچی میں اک بار پھر آپریشن ہو رہا ہے۔ لوگ پکڑے جا رہے ہیں، مارے جارہے ہیں، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ آپریشن کے بعد شہر کی عمومی امنِ عامہ کی صورتحال آگے سے کہیں بہتر ہے۔ ریاست اور اسکے اداروں کا بہت شکریہ۔ مگر گزرے ہوئے تمام سالوں میں بدامنی، قتل و غارت اور انارکی کا حساب، مجھ جیسا جمہوریت پر کامل یقین رکھنے والا کس سے لے؟ کوئی دروازہ ہے جو میں جا کر کھٹکھٹا سکوں؟ اتنی دیری، کس لئے رہی، محترمین؟ کس لئے؟

ایم کیو ایم، اگر یہ کہتی ہے کہ شہر کی خرابی میں اسکا کوئی حصہ نہیں، تو جھوٹ بولتی ہے۔ یہ شہر اور اسکے باسیوں نے اس سیاسی جماعت پر یقین کیا اور اسے بار بار اپنے بھروسے کی دولت سے نوازا۔ صوبائی اور وفاقی اسمبلیوں میں اسکے نمائندوں کو منتخب کرکے بھیجا۔ عام شہری یہی کر سکتے تھے، مگر انکو اپنی وفاؤں کا صلہ کوئی بہت عمدہ نہ ملا۔ کراچی شہر کی اکثریتی جماعت ہونے کے حوالے سے بہرحال بڑی ذمہ داری ایم کیو ایم کی ہی تھی، ہے، اور رہے گی بھی۔ دلیل، جواز، بہانہ، نعرہ وغیرہ یہ جماعت بھلے کوئی بھی بنا لے، بحیثیت اسکی بڑی، اور کئی مرتبہ کی حکمران جماعت، ذمہ داری کو اگنور نہیں کیا جاسکتا۔

سیاست کے طالبعلم جانتے ہیں کہ لسانی، نسلی اور قومی بنیادوں پر چلنے والی سیاسی تحریکوں اور جماعتوں کے مزاج میں بتدریج سختی آ جاتی ہے جب انکے بیانیہ کو مین-سٹریم سیاست شروع شروع میں قبول نہیں کرتی، یا اگر قبول کرتی بھی ہے تو اک تحقیر کے ساتھ۔ یہ معاملہ پشتون، بلوچ اور سندھی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ روا رہا، اور یہی معاملہ ایم کیو ایم کے ساتھ رہا۔ اور یہ بھی تاریخی سچ ہے، کہ عمل بھلے جیسا بھی رہا ہو، پشتون، بلوچ، سندھی اور اردو-سپیکنگ قوم پرست جماعتوں نے کسی نہ کسی حوالے سے کچھ نہ کچھ متشدد ردعمل بھی رکھا۔ یہ درست ہے کہ ریاست کی بیان کردہ تاریخ درست نہیں، مگر جناب، انہی قوم پرستوں کی بیان کردہ تاریخ بھی مکمل صحت نہیں رکھتی۔ اصل اور سچ کہیں درمیان میں ہے، اور جیسا کہ عرض کیا، سیاست کے طالبعلم یہ معاملہ سمجھتے ہیں۔ اور اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

میں غلط ہو سکتا ہوں، مگر میرے خیال میں ایم کیو ایم کے پاس یہ اک بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی صفوں میں سے تشدد کے “شوقین” حامیوں کو باؤنڈری لائن سے باہر پھینکیں اور اپنی وہ اصل سیاسی ساکھ، جو کبھی اسکا خاصہ بننے جا رہی تھی، اس سے رجوع کریں۔ ٹیپو ٹرنک، اجمل پہاڑی، اصغر ڈارلنگ، مجاہد ناک-کٹا وغیرہ کسی شریف اور قانون پر عمل کرنے والوں کے نام ہونے سے تو رہے جناب، اور اگر ان میں سے کئی ایم کیو ایم کے ذمہ داران کے ہاں سے حلیم وغیرہ نوش فرماتے پکڑے گئے ہیں تو کچھ نظر اس جانب بھی ہو جائے۔ ایم کیو ایم اک سیاسی جماعت ہے، اور کراچی کے شہریوں کے اک بڑے حصے کے دلوں میں بستی ہے۔ اس سے کوئی انکار اور کوئی مفر نہیں، ہو سکتا ہی نہیں، اور ایم کیو ایم کے ذمہ داران کو اس امانت کے وزن کا شعوری احساس ہونا چاہئیے۔ تشدد کا رستہ اب کوئی رستہ نہیں رہا، کبھی تھا بھی نہیں، اور اپنی تاریخ کے سفر میں ایم کیوایم اگر سیاست سے تشدد کا سفر طے کر سکتی ہے، تو مجھے کامل یقین ہے کہ تشدد سے سیاست تک کا سفر بھی طے کر سکتی ہے۔ اور قرائن بتاتے ہیں کہ شاید اسکا سفر شروع ہو چکا ہے۔ ایم کیو ایم کو اپنی سیاست کی جانب لوٹنا ہے، لازم لوٹنا ہے، اور اپنی رجائیت کی بنا پر کہہ سکتا ہوں، کہ انشاءاللہ لوٹے گی، اور پاکستانی سیاست کی مین-سٹریم میں اپنا کردار ان اصولوں کی بنیاد پر ادا کرے گی جس میں مڈل کلاس کی نمائندگی ہو۔ مگر اسکے لیے اسے بابر غوری، صفوان اللہ جیسے “نقلی مڈل کلاسیوں” سے جان چھڑانا ہوگی۔

ریاست نے بلدیاتی الیکشنز کا اہتمام کیا ہے کراچی میں، اور اسے اس بات کو بھی لازما /لازما/ لازما یقینی بنانا چاہیے کہ جس میں ایم کیو ایم کی جمہوری اور سیاسی شمولیت یقینی ہو۔ اور کچھ ایسا نہ ہونے پائے کہ ایم کیو ایم کو الیکشن کے پراسس سے سنجیدہ نوعیت کی شکایات ہو جائیں۔ ایم کیو ایم، کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کی طرح پاکستان کا اثاثہ ہے، اور اس جماعت ، اسکے اکابرین، اور اسکے کارکنان کو اپنے اثاثہ ہونے کا احساس اک ممکن ترین شفاف الیکشن سے ہی ممکن ہو پائے گا۔ اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایم کیو ایم کو اک لیول پلئینگ فیلڈ میسر ہو۔ ہر حال میں۔ کیونکہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ ایم کیو ایم کی ریلی روک دی جائے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی ریلیاں آس پاس رنگ بکھری رہی ہوں۔

میرے خیال میں ایم کیو ایم کراچی کے اکثریتی الیکشن جیت جائے گی۔ اگر جیت جاتی ہے تو اسے ایڈوانس میں مبارکباد، اور اگر نہیں جیت پاتی، تو ڈٹ کر محنت کرے، بہترین سیاست کرے اور کراچی کے مبشر اکرموں کی نمائندگی کا حق ادا کرے۔ ٹیپو ٹرنک، اجمل پہاڑی وغیرہ سے اپنی صفیں پاک کرے، اور پاک رکھے۔

بصورت دیگر، اک نسبتا کھلے جمہوری ماحول میں لوگ اگر ریاست کے جھوٹ کو پکڑ لیتے ہیں، تو جناب، ایم کیو ایم کے جھوٹ کو بھی پکڑ لیں گے۔ اور جھوٹ بالکل چلتا ہے، لمبا چلتا ہے، مگر ہمیشہ نہیں چلتا۔

ریاست اور ایم کیو ایم ،دونوں اس بات کو سمجھیں کہ کراچی کو سیاست کی ضرورت ہے، جو عوامی امنگوں کے آس پاس گھومے۔ اس میں اک فطری طریقے سے ارتقاء رہے تو بہتر، وگرنہ فیورٹس کا کھیل تو پہلے بھی کھیلا جا چکا، حاصل کچھ نہ ہوا۔ اب بھی حاصل کچھ نہ ہوگا۔

کراچی، میرا شہرِ دل بستہ!

Share This:

تبصرے