بلوچ صاحبان، کرنےوالےکام کریں،کرنےوالےکام!

 

مورخہ 23 فروری، 2016 کو پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں یونیورسٹیز کی رینکنگز جاری کیں۔ اس طرف ابھی کچھ دیر میں آتے ہیں کہ اک  پاکستانی آئین کا اک تاریخی حوالہ دینا بہت ضروری ہے۔

مورخہ 8 اپریل، 2010 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ، پاکستان کے 1973 کے آئین میں 18ویں ترمیم کی، اور بہت سارے ایسے معاملات جو، مجھے کہنے دیجیے کہ، غیرقانونی طور پر وفاق کی ملکیت میں ہی موجود چلے آ رہے تھے، وفاقی اکائیوں، یعنی صوبوں کے حوالے کر دیئے گئے۔ ان میں سے اک  ترقیاتی حق، جو وفاق نے صوبوں کو لوٹایا، تعلیم اور اسکے ساتھ جڑے ہوئے ترقیاتی معاملات کی ترویج کے بھی تھے۔ اس بات کو قریبا چھ سال ہونے کو آچلے ہیں۔

اسلام آباد میں موجود اک  قابل اعتماد ادارے، سینٹر فار سوشل ایجوکیشن اینڈ ڈیویلپمنٹ، نے اپنے نالج سینٹر کے زیرتحت اک صفحاتی رپورٹ تیار کی جو مجھے بھی بذریعہ ای-میل موصول ہو گئی۔ انکے نالج سینٹر پر جاکر معلوم ہوا کہ وہ یک-صفحاتی رپورٹس جاری کرتے رہتے ہیں کہ پڑھنے والے تین چار منٹوں میں کسی بھی موضوع کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرلیں۔ انکی حالیہ رپورٹ بلوچستان میں تعلیمی حالات پر تھی۔

ذرا دل تھام کر پڑھئیے:

– پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جو ڈنمارک، فن لینڈ، ناروے، آئرلینڈ اور کروشیا کی مجموعی آبادی کے قریب ہے۔

–  بلوچستان میں 5 سے 16سال کی عمر کے 27لاکھ بچوں میں سے 18 لاکھ سکول سے باہر ہیں، یعنی بچوں کی کل تعداد کا کوئی 66 فیصد۔

– سکول سے باہر 18 لاکھ بچوں میں، تقریبا 11 لاکھ لڑکیاں ہیں، اور سکول جانے کی عمر کی بچیوں میں 77فیصد ایسی ہیں، جو سکول میں کبھی داخل ہی نہیں ہوتیں۔ جبکہ 34فیصد لڑکے کبھی سکول کی شکل نہیں دیکھ پاتے۔

– صوبہ میں پرائمری سکول میں داخل بچوں کی تعداد کوئی 8 لاکھ ہے، جس میں سے 7 لاکھ بچے پانچویں جماعت سے پہلے سکول چھوڑ جاتے ہیں، گویا 85 فیصد بچے چھٹی جماعت میں نہیں جائیں گے۔

– بلوچستان میں تقریبا 12 ہزار سکول ہیں، جن میں 85فیصد پرائمری ہیں، مڈل سکول 6 فیصد اور ہائی سکول 9 فیصد ہیں۔ جبکہ 74 فیصد سکولوں کی حالت خستہ ترین کی کیٹیگری میں ہے۔

– ہر 5 میں سے 4 سکولوں میں بجلی موجود نہیں۔ ہر 3 میں سے 2 سکولوں میں پینے کا پانی، ہر 4 میں 3 سکولوں میں لیٹرین، اور ہر 5 میں سے 3 سکولوں کی بیرونی دیواریں نہیں۔

– صوبہ میں اساتذہ کی غیرحاضری، پورے پاکستان میں سب سے زیادہ، یعنی 14 فیصد ہے، اور 17فیصد اساتذہ کی نشستیں خالی پڑی ہیں۔

– پورے صوبے میں 37 فیصد سکول صرف ایک کمرے کی عمارت پر مشتمل ہیں، جبکہ  ضلع بارکھان میں ایک کمرے کے سکولوں کی تعداد 81فیصد ہے۔ اور کل غیرفعال سکول 217 ہیں۔

– صوبہ کے پانچویں جماعت کے 66 فیصد بچے اردو نہیں پڑھ سکتے، 72 فیصد ایسے ہیں جو انگریزی زبان کا اک فقرہ ادا کرنے سےقاصر ہیں، اور پانچویں جماعت کے ہی 76 فیصد بچے 2 ہندسوں پر مشتمل ریاضی کی جمع تفریق کرنے سے قاصر ہیں۔

اب آتے ہیں ہائیر ایجوکیشن کمشن کی رپورٹ پر۔ انہوں نے پاکستان کی کل 116 یونیورسٹیوں کی رینکنگز  کیں، اور ان 116 میں بلوچستان کی کل 5 یونیورسٹیاں ہیں۔ اس رینکنگ کی “اوور آل کیٹیگری” میں بلوچستان کی ایک بھی یونیورسٹی ایسی نہیں جو کہ ٹاپ کی 10 یونیورسٹیو ں میں شامل ہو۔ تمام کیٹیگریز میں سب سے بہتر پرفارم کرنے والی یونیورسٹی قائدِ اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد ہے، جبکہ دسویں نمبر پر لاہور کی یونیورسٹی، لمز، ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمشن کی ہی اک رپورٹ کے مطابق کہ 30 جون،  2010 کے بعد، پاکستان میں کُل 37 یونیورسٹیز کو چارٹرز دئیے گئے۔ ان میں سے ایک بھی بلوچستان میں نہیں۔ ایک بھی!

اور جناب، تعلیم کا یہ حال، پنجاب یا پنجابیوں نے نہیں کیا۔ بلوچستان اور بلوچوں نے کیا ہے۔

جتنی مرضی ہے بحث کرلیں، صاحبو، جتنے مرضی ہے الزامات دے لیں۔ جتنا کیچڑ اچھال سکتے ہیں، بسم اللہ اچھال لیں، وفاق، پنجاب اور پنجابیوں  وغیرہ پر، مگر فی الحال کی حقیقت یہی ہے کہ بلوچوں کی موجودہ نسل جہالت اور تشدد میں پل کر جوان ہو رہی ہے۔ میرا اس صوبے سے 1997 سے محبت اور سیاسی ایمان کا تعلق ہے۔ دو چار باتیں اور معاملات سمجھتا اور جانتا ہوں اس صوبے کے، لہذا اپنے بلوچ یاروں کی دشنام طرازی کے باوجود کبھی نہ کبھی، کچھ نہ کچھ کہنے، اور لکھنے پر دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں۔ اس لیے جو لکھ رہا ہوں، وہ لکھ رہا ہوں کہ تشدد، بھلے مذہب یا سیاست کے نام پر شروع کیا جائے، زمان و مکاں کے اک مقام پر پہنچ جانے کے بعدیہ اپنے لوگوں کو ہی بےدردی سے زندہ کھانا  شروع کر دیتا ہے، اور کھاتا ہی چلا جاتا ہے۔ 2010 کے بعد کہ جب بلوچ بیانیہ پاکستان کی سیاست میں مین-سٹریم ہو چکا تھا، تشدد کے ساتھ  جڑے رہنے کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، جو نکل رہا ہے، اور خود بلوچ اس کے سب سے بڑے وصول کنندہ ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وفاق نے انگریزوں کے ہی بنائے نظام کو آگے بڑھاتے ہوئے  اس صوبہ کے بڑے بڑے گھرانوں کے ذریعہ سے عوام کے ساتھ سیاسی اور دیگر معاملات طے کیے، بنائے اور چلائے۔ مگر اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان میں بلوچ النسل دوست اک ایسی خواہش میں مبتلا رہے کہ جسکو دکھانے والے تین بڑے سرداری گھرانوں سے تھے، اور انکی اپنی آل اولاد اور نسلیں ، عام بلوچ کی نسلوں کا سودا کرتی رہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ نامعلوم کیا کچھ سننا پڑے گا اس تحریر پر، مگر محترم بلوچ صاحبان، گیس اور دیگر معدنی ذرائع کی رائلٹی اور “پنجاب گیس کھا گیا” وغیرہ کی گردانیں بالکل کرتے رہیں، مگر اپنے اکابرین ، معتبرین اور عمائدین سے یہ بھی تو کبھی پوچھ لیں کہ وفاق سے ملنے والی رائلٹی انکی اپنی جیبوں میں ہی کیوں جاتی رہی، جبکہ میں تو پنجاب میں اپنی گیس کا بل ہر مہنیے بھرتا چلا آرہا ہوں۔

آزادی کا جھوٹا خواب بھی اگر دیکھتے ہی رہنا ہے تو دیکھتے رہیں، مگر تشدد کے ماحول میں اک نالائق نسل کے ساتھ آپ اپنے “آزاد بلوچستان” کے معاملات کیا چلائیں گے، میرے یارو؟  نالائق لوگوں سے تو اک گھر نہیں چل پاتا!

تو ہوجائے پھر قوم پرستی کے تشدد پر مبنی اک نعرہ؟

آن دئیو، بسم اللہ!

Share This:

تبصرے