بندر، بندوق، اور تکفیریت کے کھیل کے کھلاڑی

(یہ، لکھاری کی لکھاری، محترمہ افشاں مصعب کی آپ بیتی ہے۔ کچھ ایسی ہی آپ بیتی دوسرے لوگوں کی بھی ہے۔ یہ صفحات اس گفتگو کے لیے حاضر ہیں۔ ادارہ)

ابھی کچھ دن بیت چکے ہیں۔ ایک اور خونِ ناحق پس پردہ جانے کی تیاری پکڑ رہا ہے۔مزید کچھ روز گزر جائیں گے تو چونکہ زخم صرف مقتول کے ورثاء کو ہی آیا کرتے ہیں لہذا ہرے رکھنے کی فرصت بھی اُنہی کو میسر رہے گی۔باقی  تو فلاں تنظیم ، ڈھمکاں ادارہ ، یہ سوسائٹی اور وہ مکتبۂ فکر سب ہی کو نیا ایشو اور نئی پیکنگ میں ملفوف نویلا مال مصالحہ روزانہ کی بنیاد پر ملتا رہتا ہے۔زندگی یونہی تمام ہوجایا کرتی ہے۔والدین کے آنسو، بیوہ کی سسکیاں اور یتیموں کی محرومی بارے فکر کرنے اور با عزت گزر بسر کا سامان کرنے کا فریضہ معاشرے میں چند ہی کو یاد رہتا ہے۔

خرم ذکی بھی ایک ایسا ہی نام ہےجو اپنے مسلک و قبیلے کو آزادی سے زندگی جینے کا حق دلوانا چاہتا تھا۔وہ شخص جہاد کے نام پر انسانی جانوں سے کھیلنے والے ظالموں کے خلاف بولتا تھا۔کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر کھل کر بات کرتا تھا۔نام نہاد جہادی گروہوں کے گھناؤنے چہرے سے نقاب نوچنا جانتا تھا۔معصوم اذہان کو متشدد سوچ کی آبیاری کرنے والے کچھ مدارس پر تنقید کرتا تھا اور تھانوں میں ایف۔آئی۔آر درج کرواتا پھرتا تھا۔تو کیا یہ ایسا جرم ہے جس کی پاداش میں معصوم بچوں سے ان کے باپ کی شفقت ہمیشہ کے لیے چھین لی جائے۔ اس کا عقیدہ اور نظریاتی بنیادیں اگر کسی سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں تو بھی ۔۔۔تو بھی کِس نے اختیار دیا کہ خون میں نہلا دیا جائے۔نظریاتی اختلاف کا جواب بندوق کی گولی نہیں ہے۔مذہبی یا مسلکی تضاد حتیٰ کہ  کسی کے نجی معاملاتِ زندگی سے غیر متفق ہونے کی صورت میں ابدی نیند سلادینا انسانیت کی توہین ہے۔

ریاست کی ذمہ داری بارے کیا لکھوں۔ اس کا تو اولین فرض یہ ہونا چاہیے تھا کہ باہمی ہم آہنگی اور تضاد میں برداشت کو فروغ دینے کے مواقع تراشتی۔ایسے حالات ایک رات میں پیدا نہیں ہوا کرتے جب اختلافِ رائے پر انسانوں سے جینے کا حق چھیننا روایت بن جائے۔برسوں پرورش و آبیاری ہوتی ہے تب جاکر عدم برداشت اور غیرمتوازن رویے پنپ کر تناور درخت بنتے ہیں۔ریاست اگر واقعی ماں ہے تو غفلت میں کیسے سوتی رہی۔جب کہ اُس کے بچے نفرت انگیز اور گمراہ کُن جھوٹ و فتوے ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے کے واسطےمختلف پلیٹ فورمز پر  پھیلاتے چلے گئے۔کسی شہری کو اُس کے خیالات اور اظہارِ رائے کی آزادی پر جان کا خطرہ تھا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں  کے ہاں کب،کیوں اور کیسے کا سوال کیونکر نہ اُبھرا ۔ شہری کی اصطلاح اس لیے استعمال کی ہے کہ سماجی کارکن والی بحث طویل ہوجائے گی۔اِس ضمن میں بہرحال اساتذہ کا بتایا پہلا اصول یہی سیکھا تھا کہ سماج کے لیے کام کرنے والے  کسی مخصوص گروہ کی راہ سنوارتے اجنبیوں اور بِنا ثبوت و تصدیق دوسروں کے لیے کانٹے بچھا کر کسی بھی رنگ نسل یا عقیدے سے تعلق رکھنے والے انسان پر زندگی تنگ نہیں کیا کرتے۔دوسروں  کے کردار ، افکار یا افعال و اعمال پر اخلاقی پولیس کا کردار نبھانا لبرلزم کا حصہ کب سے ہوا یہ تحقیق بھی فی الحال جاری ہے۔

خرم ذکی سے میرا پہلا تعارف مارچ ۲۰۱۵ء میں ہوا تھا۔توسط اگرچہ نہایت بھونڈہ تھا۔مرحوم “تعمیرِ وطن” یا ایل۔یو۔بی۔پی کے نام سے چلتے ایک آن لائن پیج کے مدیر تھے۔جہاں سے گیسٹ پوسٹ (ہمارے ایک دوست کے بقول بھوتیا ٹوپی ڈرامہ) کے طور پر شائع کردہ ایک تحریر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر موجود کچھ لوگوں کے نام “لشکرِ جھنگوی اور داعش کے سائبر جہادی، القاعدہ ، طالبان ، کالعدم تکفیری دھشت گرد ، خارجی۔۔۔” وغیرہ کے طور پر سامنے لائے گئے۔مرے پر سو درے کہ ان لوگوں کا ایک سیاسی (مذہبی) جماعت سے تعلق بھی جوڑ دیا گیا۔موصوف نے ایک مسلک کو لتاڑتے مسلسل بیان کیا کہ کیسے یہ سب لوگ “فرقہ واریت” پھیلا رہے ہیں۔معاملہ ہنسی میں اڑا دیا گیا کیونکہ بات میں کچھ صداقت تھی ہی نہیں۔

دوسری گیسٹ پوسٹ مئی ۲۰۱۵ء میں اس وقت شائع ہوئی جب سبین محمود جیسی زندگی سے پیار کرنے والی خاتون کو آئی۔بی۔اے گریجویٹ سعد عزیز نے قتل کردیا۔اِس بار نہایت عجیب منطق کے ساتھ دوبارہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے کچھ نام اٹھائے گئے اور تاثر دیا گیا کہ وہ سب دیوبند خوارج ہیں اور حساس اداروں نے ان اکاؤنٹس پر نگاہ رکھی ہوئی ہے۔(حوالہ جات بہرحال اس بار بھی ہوائی تیر ہی تھے)۔اور تو اور “الراشدین” نامی میگزین سے بھی تعلق جوڑ دیا گیا۔ایک دو روز مجھ سمیت اس فہرست میں موجود افراد نے  بے سروپا الزامات کا ٹھٹھا اڑایا اور بھول گئے۔

تیسری تحریر جون ۲۰۱۵ء  میں آئی جِس میں ایک بار پھر وہی گھٹیا اور بے بنیاد الزامات کا پلندہ تھا۔ سعد عزیز کیس سے بے تُکی کڑیاں ملا کر لوگوں کو ذہنی طور پر ہراساں کرنے کی باقاعدہ کوشش کی گئی۔

یہ تینوں تحاریر پڑھنے پر عقل کا اندھا بھی بتا سکتا ہے کہ لوگوں کے نام اِدھر اُدھر سے اٹھا کر اُن کی دو تین باتوں کو سیاق و سباق سے ھٹ کر دیکھا اور پیش کیا گیا۔سچ کہوں تو ایک بار دِل میں خوف ضرور پیدا ہوا تھا کہ جس طرز و اسلوب سے پڑھنے والوں کو اُکسایا گیا ہے کل اگر کوئی اُٹھ کر تحقیقاتی مقالے کے اس انمول خزانے کو سچ مان لے اور جنت کی تلاش میں مجھے گولی مار جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔جواب ایک ہی تھا۔۔۔میری ذات اور ریاست۔ جی ہاں! اولین ذمہ داری میں نے خود نہیں نباہی۔بطور شہری میرا فرض تھا کہ قانون کے مطابق نفرت انگیز مواد اور لوگوں کو اکسانے والی تحریر کے خلاف رپورٹ درج کرواتی۔یہ الگ سوال ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسا کوئی سائبر کرائم قانون موجود تھا ۔ مجھے لیکن آواز اٹھانی چاہیے تھی کہ بغیر ثبوت غداری کے سرٹیفکیٹ اور میرا عقیدہ جانے بِنا (جو کہ میرا نجی معاملہ ہے) کسی ایک گروہ سے تعلق ظاہر کرکے دھشتگرد مشہور کیا جارہا ہے۔افسوس کہ میں بھی باقی بیس بائیس کروڑ شہریوں کی طرح اپنے قانونی حقوق و فرائض سے نابلد ہوں۔یوں بھی کوئی وزیر مشیر تو ہوں نہیں کہ جو ہتکِ عزت کی مَد میں کروڑوں اربوں روپے ہرجانے کا دعویٰ کر بیٹھتی۔لہذا خاموشی سے کچھ موضوعات سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہی مناسب جانا اور اساتذہ نے بھی انگریزی والا  وُوکل  بننے سے پرہیز ہی بتایا۔یوں میرا نام  کبھی اُس فہرست میں نہیں آ سکتا جو “حق کی آواز” بلند کیے سچ کا علم تھامے سماجی کارکن بن جاتے ہیں۔مجھے زندگی عزیز ہے اور فی زمانہ سنا ہے کہ اپنی اور اپنے سے وابستہ رشتوں کی جان مصیبت میں نہ ڈالنا بھی جہاد ہے۔

مبینہ قتل کی صورت میں میری ذات کے علاوہ ذمہ داری آتی ریاست پر۔وہ ریاست جسے یہ ہوش نہیں کہ پرنٹ اور سوشل میڈیا پر کون لوگ مختلف معاملات میں دوسروں کے لیے مشکلات کھڑی کرتے ہیں۔کیسی نفرت کی تشہیر اور کیسے تعصب کی یلغار بکھری پڑی ہے۔آزادئ اظہار کے نام پر معاشرے میں کتنے جنت کے متلاشی اذہان تیار کیے جارہے ہیں۔جنسی طور پر ہراساں کرنے کا قانون ٹھوکروں میں پڑا ہے تو ذہنی طور پر ہراساں کرنے کا معاملہ کہاں زیرِ غور آئے گا۔

تو جو معاملہ اتنے روز سے مشاھدے میں آیا اس کی بنیاد پر ذہن میں ایک بات خوف کی صورت گھر کرنے لگی ہے کہ جناب اگر اہم حلقوں میں مقام اور اپنی ناگہانی موت یا  قتل ہونے کے بعد نام بنانا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی وقتی فائدہ دینے کا اجر کمانا مقصود ہے تو کسی نہ کسی قسم کا دُم چھلا اپنے نام ، پروفائل اور تعارف میں لگانا لازم ہے۔کوئی وڈا پنگا لیے رکھیں۔کچھ مسلکی وابستگی ، کسی طرح کا نسلی و علاقائی حوالہ ، سیاسی جماعت کا گرجتا برستا نام، اور چند مشہور سیاسی، سماجی اور صحافتی شخصیات کے ساتھ تصاویر تو لازمی بنوا لینی چاہییں۔تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔
معاشرے میں اجتماعی رویے کے نام پر بھی ایک ہڑ بونگ مچا رکھی ہے۔ یعنی سچ کی جنگ صرف میرا ہم مسلک لڑ رہا ہے۔ کُل کائنات غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرتی ہے.اِک بس ہم نےحق کا علم تھام رکھا ہے۔ سازشوں کا شکار بھی صرف میرا فرقہ و قبیلہ ہے۔ مجھے، میرے ہم مسلک اورہمارے “وڈے” مولوی کو اختیار حاصل ہے کہ نظریاتی اختلاف رکھنے والےکو کافر،ایجنٹ، واجب القتل کے فتوے بانٹیں لیکن دوسرایہ کام کرےتومذہبی منافرت ہوگی۔ ہم کریں توحق کی آواز،دوسرا کرے تو نفرت کا بیوپار۔ہمارا مرے تو شہید، تمہارا مرا توجہاں پاک۔میرے ہم مسلک کےقتل پر ہمارے حساب کتاب سے سوگ نہیں جتلایا گیا تو دوسرے مسالک والوں کا خون بہنے پر دانت نکوسنا فرض ٹہرا۔

ایک بھیڑ چال ہے کہ جہاں کسی شخص کی انفرادی و ذاتی رائے پر واویلا مچا کر عمل سے بڑھ کر سود کے ساتھ ردِ عمل دیتے چلے جاتے ہیں اور جان بوجھ کر حقائق کی بانہیں مروڑ کر مخالف رائے رکھنے والے سے وہ من گھڑت باتیں بھی منسوب کرتے ہیں جو اکثریت کی توجہ بٹور سکیں ۔معمولی اختلاف کو شیطان کی آنت بنا کر ایسے چشم کشاہ انکشافات اور نتائج برآمد کیے جاتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جائے۔ہمارے ہاں  کسی قاتل کو ھیرو بنا کر تعظیم و تکریم ہوتی ہے یا پھر خونِ ناحق کو زبردستی قربانی کا نام دیے کسی ایک گروہ سے جوڑ کر عظمت بیان کی جاتی ہے۔مقتول میں ایسے ایسے جواہر اور خوبیاں تلاش کرلی جاتی ہیں کہ فرشتے گنگ ہوجائیں۔اعتدال نامی شے نایاب ہے۔انسانی موت کو اس کی وابستگیوں کے دنیاوی فائدے اور شہہ سرخیوں میں رہنے کے لیے استعمال کرنا سفاکیت ہی کے زمرے میں آتا ہے۔

یونہی بہتے لہو کو قربانیوں کا نام دے کر سینہ پھلاتے ہم لوگ بھول جاتے ہیں کہ سرحدوں پر کھڑے محافظ کسی کے باپ ،بیٹے،بھائی اور شوہر بھی ہیں۔ان کی معذوری اور شہادت پر فخر ضرور کیجیے لیکن معذور غازی کی کٹھن زندگی اور شہید کے لواحقین کی ویران آنکھوں میں جھانکنے کی فرصت بھی نکالیے۔امن چاہیے تو امن و سکون پر فخر کرنا سیکھیے۔جنگ یا لڑائی کیسی ہی ہو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اختلاف کے احترام پر ہی حل ہوا کرتی ہے۔زندگیاں چھین لینے سے صرف کھوکھلے دعوے اور سالانہ بنیادوں پر لڑھکتے نعرے ہی بچتے ہیں۔

خرم ذکی سے شکوہ ان کی زندگی میں بنتا تھا۔ان کی فیس بک پوسٹس دیکھ کر اختلافات اور تحفظات بھی ہو سکتے ہیں لیکن ان تضادات کی بنیاد پر موت کی وادی میں پھینک دیا جانا ناقابلِ قبول فعل ہے۔خونِ ناحق ہر حال میں قابلِ مذمت تھا،ہے اور رہے گا۔ دوسری جانب  قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا فخریہ اعلان اور انفرادی حیثیت میں کچھ مسرت کا اظہار۔۔۔بےحس معاشرے، سماجی رویوں، ریاستی اداروں اور حکومت کے کچھ دعووں کا پول کھولتا ہے۔

آوازیں دبانے سے طوفان کبھی نہیں رُکتے۔پردے ڈالنے پر خون کے چھینٹےآپ کے دامن تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لیتے۔تاریخ سفاک اور بے رحم ہوا کرتی ہے۔لکھتی چلی جاتی ہے کیونکہ اس کی میز تلے کوئی ردی کی ٹوکری نہیں ہوتی کہ کچھ غلط لکھا گیا تو پھاڑ کر پھینک دو اور نئے سرے سے فلاں مضمون کو کچھ تحریف کے ساتھ لکھ کر گزشتہ سے پیوستہ کردو۔تاریخ کو رفو گری سے کچھ مطلب نہیں۔

Share This:

تبصرے