بیٹوں کے دُکھ

یہ میری ذات کا  نوحہ ہے۔ لکھ رہا ہوں ، اس لیے بھی کہ مجھ جیسے بےشمار بیٹوں کا بھی یہی نوحہ ہوگا۔ یہ میری ہی ذات کا نوحہ ہے اور اسے اپنی جیسی معاشی، سماجی اور معاشرتی کلاس سے تعلق رکھنے والے بےشمار بیٹوں کے نام کرتا ہوں۔ دُکھ صرف بیٹیوں کے ہی نہیں، بیٹوں کے بھی ہوتے ہیں۔ بیٹیاں تو شاید اپنے دُکھ آنکھوں سے بہا لیتی ہیں، بیٹوں اپنے دُکھوں میں ساری عمر ہی بہے چلے جاتے ہیں، بےمہار!

مردانہ معاشرے بہت دلچسپ انسانی تخلیقات ہیں۔ تضادات سے بھرپور، صدیوں، بلکہ ہزاروں سال پرانی رسومات میں سماجی مقامات طے کرتے ہوئے، مردوعورت کے صنفی اور معاشرتی کردار الگ الگ کرتے ہوئے، اور سب سے بڑھ کر، میرے نزدیک، مرد کو عورت پر افضل قرار دیتے ہوئے کہ جس میں دلیری، بہادری، غیرت اور شاید ان تینوں کی بنیاد پر کھڑی متشدد ہونے کی ایک مسلسل  معاشرتی توقع، جسکو انہی مردانہ معاشروں میں بسنے والی خواتین کی ایک خوفناک اکثریت ایک معیاری معاشرتی رویہ سمجھ کر قبول کرتی ہے، نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ اسکی مسلسل اور نسل در نسل پرچارک بھی ہے۔ بات یقینا اتنی سادہ نہیں کہ جتنی اس پیراگراف میں محسوس ہوتی ہو شاید، مگرمردانہ معاشرےکا چند سطری تعارف اسکی بنیادی اور اوپری ہئیت بیان کرنے کی نیت سے ہی تحریر کیا۔ آپ سب کو اس سے کہیں زیادہ حقیقتیں معلوم ہونگی، یقینا، مگر مضمون کے ساتھ انصاف کرنے کی نیت سے انہی چند حقائق کو پھر سے تازہ کرنا اس لیے ضروری تھا کہ یاددہانی رہے۔

مردانہ معاشرے میں بہت سی ناانصافیاں ہوتی ہیں، مردوں کے ساتھ بھی، عورتوں کے ساتھ بھی۔ معاشروں کی تخلیق اور بنیادی ترکیب میں ہی شاید ناانصافی موجود ہوتی ہے کہ بالآخر معاشرے کی نہایت ابتدائی تخلیق بھی سماجی اعتبار سے اس عورت نے شروع کی تھی جو اپنے قبیلے میں ممتاز حیثیت کی حامل تھی، اور اسکی اس حیثیت کو دیکھتے ہوئے قبیلے کے دوسرے لوگ اسکے آس پاس اکٹھے ہوتے چلے گئے۔ اس عمل میں انصاف کے ساتھ کام نہ لیا گیا، بلکہ قبیلے نے اپنے مفاد کو ترجیح دی اور  یہی معاملہ بعد میں قبیلے کی روح میں داخل ہوگیا کہ جب مرد نے اپنی جسمانی طاقت کی بنیاد پر عورت سے معاشرتی تشکیل کا حق ہزاروں، شاید لاکھوں، سال پہلے چھین لیا اور یہ حق کبھی پھر واپس نہ کیا۔

مرد اتراتا پھرتا ہے ایک مردانہ معاشرے میں اپنے لئے موجود نسبتا زیادہ فوائد اور آزادیاں دیکھ کر، مگر بھول گیا ہے کہ اسی مردانہ معاشرے نے اسے عمل اور ردعمل کے ایسے فریم میں جکڑ رکھا ہے کہ جہاں اسے اپنے ساتھ ہونے والے اس تاریخی اور جذباتی نقصان کا ادراک ہی نہیں ہوپاتا جس نے  اسے “انسان” نہیں، بلکہ “مرد” کے عہدہ پر متمکن کر رکھا ہوا ہے۔

زندگی میں کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ بیٹی کی پیدائش پر والدین اور اقارب کو روتے ہوئے کہ بیٹی کی پیدائش نہیں، اسکی نصیبوں سے ڈر لگتا ہے۔ یہی ڈر بیٹے کی پیدائش پر نہیں لگتا، کہ گویا اسکے نصیب ہیں ہی نہیں، اور اگر ہونگے بھی تو اچھے ہی ہونگے۔ بیٹی کو تو معاشرتی رویے، درست یا غلط، مگر بہرطور ایک “ڈیپینڈینٹ” کے حوالے سے دیکھتے ہیں، مگر بیٹے کو ایک رہنما اور خاندان کو ترقی فراہم کرنے والے ایک انجن کے طور پر۔ یہ مثال تمام افراد پر تو لاگو نہیں، مگر اکثریتی بہرحال ضرور ہے۔ بیٹی کو پیدائش کے ساتھ ہی معاشرے کی فراہم کردہ “صنف نازک” کا تمغہ مل جاتا ہے، بیٹے کو معاشرہ “شیر پُتر، جوان، بادشاہ، دلیر” اور نہ جانے کیا کیا کہہ کر ایک دوسرے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ سوچتا ہی رہتا ہوں کہ جو بیٹے معاشرے کی فراہم کردہ تعریفات و تشریحات کے مطابق خود سے ہی “شیر پُتر، جوان، بادشاہ، دلیر وغیرہ” نہ بننا چاہتے ہوں، وہ کہاں جائیں؟ وہ کہاں جا سکتے ہیں؟ کیا وہ کہیں جا بھی سکتے ہیں ان تشریحات سے جان چھڑا کر؟

اس سے بڑا کیا المیہ ہوگا، صاحبو، کہ ٹوٹ کر بکھرے ہوئے بیٹے کو رونے کی بھی اجازت نہیں، اور ٹوٹے ہوئے کو نہ صرف خود ٹوٹا ہی رہنا پڑتا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی جوڑنے کا کام سرانجام دینا پڑتا ہے۔ اس سے بڑا کیا المیہ ہوگا کہ  بیٹا شاید خود کبھی کسی کا کندھا، کسی کا سہارا، کسی کا  ہاتھ تھامنا چاہ رہا ہوتا ہے، مگر اسے خود کندھ، سہارا اور ہاتھ بننا پڑتا ہے۔ اس سے بڑا کیا المیہ ہوگا کہ بیٹا بحیثیت ایک فرد، ایک انسان، ایک بشر نہیں، ہزاروں لاکھوں سال پرانے سے تشریح کردہ کردار کے حوالے سے ہی دیکھا جاتا ہے، اپنی جذباتی، نفسیاتی اور ذات کے اندر کی گہرائیوں میں چھپی فطری خواہشات کے پیرائے میں بالکل بھی نہیں دیکھا جاتا۔ اس سے بڑا کیا المیہ ہوگا کہ بیٹے کو ہمیشہ مضبوط ہی دِکھنا ہوتا ہے، کبھی بھی کمزور اور ڈیپینڈینٹ نہیں، حالانکہ وہ بھی ایک انسان ہی ہے، اپنی تمام تر انسانی  ذہنی، جذباتی و نفسیاتی ضروریات کے ساتھ۔ اور یارو، اس سے بڑا کیا المیہ ہوگا کہ بیٹے کو ساری عمر، جی تقریبا ساری عمر، لڑنا پڑتا ہے، اپنے آپ سے، معاشرے سے، معاشرتی رویوں سے، اور اس عمل میں وہ سینکڑوں، شاید ہزاروں مرتبہ خود کی ہلاکت سے گزرتا ہے، مگر ہر مرتبہ اسے، بمانند فِینِکس، خود ہی اپنی راکھ سے  اٹھ کر پہلے سے بھی زیادہ چمکدار پروں کے ساتھ دوبارہ اُڑنا پڑتا ہے۔ ہر بار، بار بار، بے شمار۔

پھر مجھ جیسے غریب اور سٹرگلنگ گھروں میں آنکھ کھولنے والے بیٹوں، پھر بالخصوص پہلوٹی کے بیٹوں، کی داستان تو اور بھی عجب ہوتی ہے۔ پہلوٹی کے بیٹے اپنے اپنے گھروں سے اپنی ماؤں کو روتے ہوئے چھوڑ کے معاشروں کے سمندر میں چھوٹی مچھلی جیسا سفر شروع کرتے ہیں کہ جن کی طاق میں بڑی مچھلیاں ہر دم ہوتی ہیں۔ ماؤں کو پیچھے روتا چھوڑ کر آنے والے یہ بیٹے  زمانے کی چوٹیں، فریب کاریوں کی کہانیاں، معاشرے کے دھوکے، ناکام کوششوں کے فسانے،ٹُوٹے خوابوں کی کرچیاں، اور اپنی بکھری ہوئی ذات کے غم کو لے کر شاذ ہی اپنی ماؤں کے پاس روتے ہوئے جاتے ہیں۔ شاید کبھی نہیں۔ جو نوماہ اپنے خون سے پالتی ہیں، یہ بیٹے سارے عمر اپنی ذات کا خون کرتے ہوئے، مگر اپنی ماؤں کے پاس ہنستے مسکراتے ہیں جاتے ہیں۔ “شیر پُتر” جو ہوتے ہیں!

انہیں صرف خود ہی نہیں چلنا ہوتا، دوستو، بہت سوں کو اپنے ساتھ چلانا ہوتا ہے۔

شروع میں کہا تھا نا کہ یہ میری ذات کا نوحہ ہے، مجھ جیسوں کا نوحہ ہے۔ یہ معاشرہ، آپ، میں، ہم سب مجھ میں، مجھ جیسوں میں “جنگجومرد” دیکھتے ہیں، اپنی ماں کا وہ بچہ نہیں دیکھ پاتے کہ جو آج بھی شاید کسی کی اُنگلی تھامنے کے متمنی ہو۔ جو آج بھی شاید اپنے دُکھ میں کوئی کندھا تلاش کرتاہو۔ جو آج بھی شاید مصروف اور پرشور زندگی میں کہیں تنہا کھڑا ہو۔ جو آج بھی شاید ٹُوٹا  ہوا ہو اور کوئی جوڑنے والا عمل ، اور عامل تلاش کرتا ہو۔ جو آج بھی شاید اپنے سر پر ہاتھ رکھے جانے کے خواہش مند ہو۔ جو آج بھی شاید  اپنی ذات  کے جنگل  میں گمشدہ ہو، مگرچاہتا  ہو کہ وہ تلاش کرلیا جائے۔ جو آج بھی شاید  اپنی اصل میں اپنی ماں کی کوکھ سے نکلا وہ بے بس، لاچار، چھوٹا سا، ننھا منا بیٹا ہو کہ جس کے نصیب کا خوف کسی کو نہ تھا، مگر وہ  اب بڑا ہو کر خود اپنے نصیب سے خوفزدہ ہو۔ جو آج بھی شاید ایک مضبوط اور کامیاب شخص دِکھتا ہو، مگر اپنی کمزوریوں، بے چارگیوں اور اپنے خدشات کی اپنے چاہنے والوں کے سامنے محدود اشتہار بازی کرنا چاہتا ہو۔  جو آج بھی زمانے کے بے شمار تجربات سے سیکھ چکا ہو، مگر فریب کاریوں کے زخم سینے پر لیے پھرتا ہو۔ جو آج بھی شاید سمیٹنے والا نظر آتا ہو، مگر خود بھی سمیٹا جانا چاہتا ہو۔اور  جو آج بھی آپکے، میرے لیے ایک “مرد” ہو، مگر کمزور بھی ہو کہ مرد بھی تو کبھی کبھی، کئی حوالوں سے ڈیپینڈینٹ ہو سکتا ہے، گناہ تو نہیں!

مگر بیٹوں کے دکھوں کا یہ نوحہ، میرے یارو، نامکمل ہے۔ اس نے نامکمل ہی رہنا ہے، کہ جب تک بیٹے نے مرد  دِکھنے کے معاشرتی طوق کو گلے میں ڈالے پھرتے رہنا ہے۔

اور شاید تا ابد!

Share This:

تبصرے