بیٹیاں

کمی بیشی معاف، مگر ذہن اگر کچھ ساتھ دے رہا ہے تو واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک صحابی آقامحمدؐ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے اور کہا کہ زمانہء جاہلیت میں کیا گیا ایک کام انکے ذہن میں ہمیش موجود رہتا ہے اور ایسا کہ جسکا قلق جائے ہی نہیں پاتا اور دل و دماغ مسلسل احساس جرم کے نیچے ایسے پستے رہتے ہیں کہ وزن بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ آقاؐ نے استفسار کیا تو ان صحابی نے عرض کی اے اللہ کے رسول، زمانہ جاہلیت میں میرے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، اسکی کچھ پرورش کی اور وہ کچھ بڑی ہوگئی، مگر گود میں تھی۔ جاہلانہ رسم کے مطابق مجھے وہ بوجھ محسوس ہوئی اور میں نے اسے زندہ دفنانے کا فیصلہ کیا۔ سارے رستہ وہ میری گود میں رہی، مجھ سے چمٹی رہی، اٹھکیلیاں اور اپنی عمر کے مطابق شرارتیں کرتی رہی، بیٹی تھی، شدید احساس تحفظ میں بھی ہوگی کہ میں اپنے باپ، جو میری چھت ہے، کےبازؤں میں اسکی چھتر چھاؤں کے تلے ہوں، کبھی میرے کندھوں پر اپنا مونہہ رکھے، تو کبھی میرے گالوں پر، کبھی میرے بالوں سے کھیلے تو کبھی میرے چہرے پر اپنے ننھے ننھے اور نرم ہاتھ لگائے، کبھی مجھے دیکھ کر ہنسے اور کبھی میری آنکھوں میں اپنی معصوم آنکھوں سے دیکھے اور مسکرائے۔
شہر سے باہر ایک مقام آن پڑا، وہاں میں نے اسے زمین پر لٹایا اور اسکے ساتھ ایک گڑھا کھودنا شروع کیا۔ وہیں لیٹے لیٹے وہ مجھے دیکھے اور قلقاریاں بھرے، میری سمجھ میں نہ آنے والی، مگر اپنی جانب سے شرارت بھرے پیار کی باتیں کرے۔ میں نے گڑھا کھود ڈالا، اور بہت بےدردی سے اپنی اس بیٹی کو کہ جو اپنا نام پہنچانتی تھی، مگر کہہ اور بول کچھ نہ سکتی تھی، مجھے اور اپنی ماں کو جانتی تھی، پیار کرتی تھی، میرے سائے میں محفوظ اور اپنی ماں کی گود میں خوش و خرم رہتی تھی،  اسے میں نے اس گڑھے میں ڈالا اور جیسے ہی اسے وہاں رکھ کر اپنے ہاتھ پیچھے کھینچے، اس نے لپک کر میری ایک انگلی پکڑی اور اپنے مونہہ میں ڈال لی، شاید بھوکی تھی، میں نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا اور اس پر مٹی ڈالنا شروع کر دی، وہ معصوم اپنی معصومیت میں ہنستی تھی، مٹی سے کھیلتی تھی، اور میری آنکھوں میں جھانکتی تھی، آہستہ آہستہ میں نے مٹی اسکے چہرے پر ڈالنا شروع کی تو اسکا سانس اکھڑا اور اس نے اپنی بساط کے مطابق لپک کر میرے بازؤں میں آنے کی کوشش کی کہ شاید گھبرانے سے زیادہ سہم گئی تھی اور میری گود، میرے بازؤں میں آنا چاہتی تھی، مگر میں نہ رکا، میں نے مٹی ڈالنا جاری رکھی، پہلے جو اسے کھیل سمجھ کر ہنس رہی تھی، پھر سہمی، میری طرف لپکی، روئی، میری آنکھوں، میرے چہرے کی طرف دیکھا، روتی رہی، آنکھوں میں شکایت، شکوہ، سوال لیے، اور پھر اسکا چہرہ کسی بھی بددعا کے بغیر ہمیشہ مٹی کے نیچے دفن کر دیا میں نے۔
جانتا ہوں، کہ وہ میری بیٹی تھی، اسے شکایت تو ہوئی ہوگی، مگر اس نے گِلہ نہ کیا اور نہ ہی کوئی بددعا دی ہوگی، جانتا ہوں کہ میرے لیے، اے اللہ کے رسولؐ وہ سراپا اور باعث رحمت و محبت تھی، اس نے اپنی آنکھوں اور ذہن میں سوال تو لائے ہونگے مگر میرے جاہلانہ طرز پر وہ  اپنی جان جاتے ہوئے دیکھ کر میری محبت میں شاید خاموشی سے مر گئی ہوگی۔ بیٹی تھی نا، شاید اس لیے!۔

کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ اتنا پھوٹ پھوٹ کر روئے کہ نہ اس سے پہلے انہیں ایسے روتا دیکھا گیا، اور نہ ہی اسکے بعد۔ آپؐ نے اس صحابی کا ہاتھ تھاما، اور کہا کہ جو ہوا، سو ہوا، وہ تمھارا جاہلانہ طرز تھا، جاؤ کہ اللہ تم پر اپنا رحم کرے اور تمھیں اپنی ذات کے سوالات اور جرم کے بوجھ سے بچائے اور ہلکا کرے۔

مجھ سا جاہل گناہگار نہیں جانتاکہ یہ صحابیؑ بروزِ قیامت اپنی اس بیٹی کا سامنا کیسے کریں گے؟ مجھ سا “نہ اِدھر کا، نہ اُدھر کا” مسلمان اس ہمت اور دل و گردے کا تصور کرنے سے قاصر ہے جو اس اک خاص لمحہ میں انکوؑ بحیثیت ایک باپ چاہیے ہوگا کہ جس سے وہ اپنی اس معصوم بیٹی کا  چہرہ دیکھ اور آنکھیں پڑھ سکیں گے۔ نامعلوم یہ کیسے ممکن ہوگا، نہ معلوم یہ کیسے ممکن ہوگا، بخدا۔

زمانہء جاہلیت سے فاسٹ فارورڈ ہوں اور آج کے اسلامی پاکستانی معاشرے میں آ جائیں۔ اس ضمن میں تجربات تو بہت ہیں میرے مگر ایک دو پر ہی اکتفا کرونگا کہ مقصد ڈھول پیٹنا نہیں، اک خیال ہی دینا ہے کہ جن کے ذہن کی زمین زرخیز ہو، انہیں ایک دو خیالات ہی کافی اور جو بھلے پی ایچ ڈی کرتے پھرتے ہوں، مگر ذہن کی زمین پرکبھی ہل ہی نہ چلا ہو، وہ گدھے، اوہ معذرت، کھوتے پر لدی کتابوں کی مزدوری ہی کرے ہیں۔

دو بلاگ لکھے تھے اپریل 2014 کے مہینہ میں، ایک اپنے ذاتی تجربات پر تھا بعنوان “آدھی عورت اور در فٹے مونہہ” جبکہ دوسرا  “آدھی انسان؟۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔” ان دونوں میں، میں نے پاکستان کے مردانہ معاشرے میں عورت کی آدھی گواہی پر بات کی، اور جواب میں جتنی گالیاں اس دو بلاگز پر پڑیں، وہ میری بیالیس سالہ زندگی میں شاید پڑنے والی گالیوں کا دوگنا ہوں گی۔

میرا مشاہد ہ اور تجربہ ہے کہ  پاکستان میں اسلام کے نام کی  فرقوی و مردانہ تشریحات پر جب ہلکی سی ضرب پڑتی ہے تو مجاہدین اسلام کی غیرت فٹا فٹ جاگ اٹھتی ہے۔ ایسا ہی ہوا اور انہوں نےفورا  بذریعہ گالم گلوچ و تبریٰ اپنا “جہاد فی انٹرنیٹ” شروع کر ڈالا۔ انہی مجاہدین اسلام اور پھر بعد میں تحریک انصاف کے انقلابیوں کی محبت کہ میں نے بلاگ کا کمنٹ سیکشن ڈس-ایبل کر ڈالا۔ اپنے سفید ہوتے ہوئے سر کے ساتھ، ان کاکوں، بلونگڑوں اور جہلا کی بدبُوؤں کو میں کیوں سونگھوں جبکہ ان بدبوؤں کا سب سے پہلا حق خود انکے اپنے دماغ اور آس پاس کے پیاروں کا ہے؟

آپ میں سے بہت کم جانتے ہوں گے کہ انسانی معاشروں کی ابتدا مادرانہ برتری سے ہوئی۔ عورت کوقدیم قبائلی معاشروں میں بڑی قدر سے دیکھا جاتا تھا، اور انکی سماجی منزلت آج کے قبائلی معاشروں سے کہیں زیادہ تھی۔ عورت نے نسل انسانی کو تین بنیادی اشیاء فراہم کیں کہ جسکی بنیاد پر ہم آج وہاں کھڑے ہیں جہاں ہیں، یہ الگ بات کہ ہم نے عورت کا ، بحیثیت ایک سماجی گروہ،”رگڑا کڈ ڈالا!”

عورت نے مرد کو ایک خاندان کی طرح رہنا سکھایا کہ جس سے قبیلے بنے اور یہی قبیلے بعد میں معاشرے اور شہر پھر ملک بنے۔ عورت نے انسان کو زراعت دی، غلہ اگانا اسے محفوظ کرنا، اسے بطور غذا اور  دوا  استعمال کرنا سکھایا۔ اسی لیے آج بھی ایمزون اور افریقہ کے قدیم قبائلی علاقوں میں روائتی طریقہ کار سے علاج و دوا زیادہ تر عورتوں کے ہاتھ میں ہی  ہے۔ عورت نے مرد کو معاشرتی نظم وضبط اور اس وقت کے مروج  قوانین کے مطابق اس وقت کی مہذب زندگی گزارناسکھائی اوراپنےقبیلےمیں قوانین کا نفاذ بھی کیا۔

پھر ہوا یہ کہ مرد  نے آگ اور نیزہ دریافت کیا اور وہیں سے عورت کے قائم کردہ پرامن معاشرے کا تاروپو بکھرنا شروع ہو گیا، اور خیر سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے کہ جہاں آپکو دنیا بھر میں متشدد رویوں پر مردوں کی بلاشرکتِ غیرے اجارہ داری  ملتی ہے۔ آپ خود سے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھ لیں کہ آپکے علم میں آنے والے متشدد اعمال و جرائم میں عورتوں کی، مردوں کے مقابلے میں، کیا نسبت ہے، اور آپکو اس پیراگراف میں میرے بیان کردہ تھیسس کا جواب مل جائے گا!۔

بات نہ چاہنے کے باوجودطویل ہوگئی، اسکی معذرت، اور شاید کہ اپنے مشاہدے میں موجود معاشرتی رویوں پر بات اگلے بلاگ میں کر لوں گا جومشاہداتی  اور اپنی زندگی میں آنے والے  واقعات پر مبنی ہونگے، مگر ایک واقعہ جلدی سے سناؤں اور پھر آخری خیال کے ساتھ آپکا شکریہ ادا کروں۔

میرے ایک عزیز دوست کے ہاں، دو بیٹوں کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ میں اپنی فیملی سمیت مبارکباد دینے گیا اور راستے میں سے پانچ کلو مٹھائی کی ایک ٹوکری بھی ساتھ لی۔

وہاں پہنچا تو میاں، بیوی اور پیدا ہونےوالی بیٹی کی دادی، پھوپھو، نانی،  اور چاچی وغیرہ کو روتے ہوئے پایا۔ پوچھا تو معلوم ہوا کہ بیٹی کی پیدائش پر رو رہے ہیں۔ میں پہلے پریشان ہوا، پھر حیران اور پھر غصہ آ گیا۔ جواب دیا کہ رو کیوں رہے ہو، دو بیٹے بھی تو ہیں نا۔ آگے سے ملنے والا جواب پاکستانی معاشرے کی عمومی جہالت کا کلائمیکس تھا: “بیٹی کی پیدائش نہیں، بیٹی کے مستقبل کے مقدر سے ڈر لگتا ہے، اسی لیے رو رہے ہیں۔”

میرا میٹر اور شارٹ ہو گیا اور میں نے کہا کہ بیٹے کے مقدر سے ڈر نہیں لگتا کیا؟ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ دونوں نیلسن مینڈیلا بنیں گے (یہ میں نے واقعی ہی کہاتھا!) اور تمھاری بیٹی تمھارے لیے مسائل ہی پیدا کرے گی؟ اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ یہ دونوں آوارہ نہیں ہونگے اور تمھاری بیٹی ہی تمھارے بڑھاپے میں دادرسی کرنے والی ہوگی۔ آگے سے جواب اور رویہ وہی جاہلانہ تھا، میں غصے میں رہا، اٹھ آیا اور آتے ہوئے اپنی مٹھائی بھی واپس لے آیا، اور کہا کہ میں تم لوگوں پر اپنی مٹھائی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ان سے تعلقات کچھ عرصہ کےلیے منقطع ہوئے مگر پھر بحال ہوگئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وہ دونوں بیٹے کلاس میں پوزیشن ہولڈر نہیں، جبکہ وہ بیٹی، ابھی پرائمری جماعتوں میں ہی ہے، مگر پوزیشن ہولڈر ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے یارو کہ اپنے اس دوست کی بابت میں ابھی بھی کچھ زیادہ مثبت نہیں سوچ پاتا۔

خواتین کے بارے میں اپنے رویوں پر کبھی غیرمتعصبانہ طریقے سے غور تو کیجیے گا۔ یہ جو احساس کہ خواتین ہم مردوں سے آدھی ہیں اور بہت سے دیگر سٹرئیوٹائپس جو ہمارے آس پاس خواتین کے حوالے سے پھیلے ہوئے ہیں، ان خیالات کا پراپر ایکیڈیمک سورس کیا ہے؟ کبھی تحقیق کی؟ کہنے کو ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں اور بہت بات کرتے ہیں کہ جی اسلام نے عورتوں کو تو بہت حقوق دیے ہیں۔ او بھائیو، اسلام نے توجو حقوق دیے، وہ دیے ہونگے، آپ نے کیا وہ حقوق دیے ہیں اپنے گھروں اور معاشرے میں عورتوں کو؟ اسلام کی فرقوی اور مردانہ معاشرے کی اساس پر کی گئی تشریحات پر، خدارا ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیجیے، اپنے دل کو ٹٹولیے، اپنے آپ سے سوال کیجیے، کہ کہیں آپ بھی تو نہیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اپنی معاشرتی، مردانہ اور سماجی  جاہلیت کی مٹی میں زندہ دفنا رہے؟ مجھے اس سوال کا عمومی جواب پہلے ہی معلوم ہے، اسی لیے اپنے کمنٹ سیکشن کو ڈس-ایبل کرنے پر خوش ہوں، مگر پھر بھی اپنی فطری رجائیت کو قائم رکھتے ہوئے آپ سے حسن ظن موجود ہے، اور رہے گا کہ شاید آپ واقعی ہے ایک غیر متعصبانہ غور وفکر کر سکیں۔

روایات کے نام پر موجود تمام اقسام کی جاہلیت سے بچ کر جئیں، اور اگر بچیں گے نہیں، تو صاحبو، جاہل رہیں گے اور جاہل ہی کہلائے جائیں گے۔ شکریہ

 

پس تحریر: پاکستانی معاشرتی خاندانی اکائیوں کے حوالے سے عورتوں سے سلوک/رویے اور خیالات کے حوالے سے جگ بیتیاں “بیٹیاں-گزشتہ سے پیوستہ” میں اگلے جمعے تحریر کرونگا۔ ان تمام دوستوں کا بھی شکریہ کہ جنہوں نے بلاگ نہ لکھنے کی وجہ پوچھی، محبت بھری لعن طعن کی اور جسکے نتیجے میں خادم کی عالمِ ارواح سے جاری سُستی کچھ دور ہوئی۔ آپ سب کو دلی دعا ہے۔

Share This:

تبصرے