تلاشِ مسیحا کی بیماری

 

میاں نواز شریف صاحب کے دوسرے دور حکومت کے آخری سال میں ملتان کے اک صاحب “الحاج شیخ ظہور” اپنی تصویر کے ساتھ عموما روزنامہ جنگ کے آخری صفحہ، اور کبھی کبھی سامنے والے صفحہ پر اک “خوشامد کے شہد” میں لتھڑا اشتہار چھپوایا کرتے تھے، جو میاں نواز شریف صاحب اور انکی حکومت کی مدح سرائی پر مبنی ہوتا تھا۔  مزے کی بات یہ بھی کہ روزنامہ جنگ یہ اشتہار چھاپ بھی دیا کرتا تھا۔ بلاشبہ میرخلیل الرحمٰن کی “اعلیٰ صحافتی اقدار” کی ڈیمانڈ بھی یہی تھی، یقینا!

خیر، اشتہار کے آخر میں وہ اپنے آپ کو “نواز شریف کا ادنیٰ سپاہی” کے طور پر مخاطب کرتے  تھے۔ میاں صاحب بھی اکبر بادشاہ ہی بنے ہوئے تھے، ان شیخ صاحب کو انکی اوقات اور جثہ سے بڑھ کر نوازا، پھر جنرل پرویز مشرف، ستارہءجرات وغیرہ، نازل ہوگئے، اور الحاج شیخ ظہور اپنی ریش اور ریشہ-زدہ ذہنیت کے ساتھ  جنرل مشرف کے ادنیٰ سپاہی بن گئے۔

کوئی دو سال قبل جب جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنے تو اسلام آباد کے سیکٹر جی-الیون کے مرکز میں اک دو رویہ سڑک انکے بھائی، شبیر شریف  شہید کے نام  منصوب تھی، اور ہے بھی۔  اس سڑک کے آغاز میں جو سائن بورڈ لگا ہوا تھا، اسکا رنگ و روغن اکھڑا ہوا تھا، مگر جنرل صاحب کے آرمی چیف بن جانے کے بعد، اس  بے چارے، بےیارومددگار اور یتیم سائن بورڈ کی سنی گئی، اور ایک ہی دن میں وہ لش پش ہوگیا۔ دو سال ہوگئے ہیں، اس سائن بورڈ کا حسن و جوانی پھر سے ماند پڑ رہا ہے، سی ڈی اے سے گزارش ہے کہ اسکی شان و شوکت کم از کم جنرل صاحب کے دورِ ملازمت کے دوران تو خراب نہ ہونے دی جائے۔ کوئی ہے جو میری درخواست ڈاکٹر طارق فضل چوہدی صاحب تک پہنچائے، پلیز؟

اک دو دن قبل، شبیر شریف شہید کی شہادت کی برسی تھی، اور سارے کا سار پاکستانی میڈیا “الحاج شیخ ظہور” بننے کی سرتوڑ جدوجہد میں مصروف نظر آیا۔ جس کی ریشِ مبارک تھی وہ بھی، اور جس کی نہیں، اس نے پوری چھاتی کے زور سے کوشش کی کہ کم از کم ریشہ-زدہ ذہنیت ہی کا مظاہرہ کر ڈالا جائے، اور کیا بھی۔ شہید کا مقام بلند ہے، مگر یہ مقام سنہ 2013 سے پہلے بھی بلند تھا، اور سنہ 2016 کے نومبر کے بعد بھی بلند ہی رہے گا۔ مگر پاکستانی میڈیا کے “الحاج شیخ ظہور” اس وقت کسی اور شہید کے درجات بلند تر کر رہے ہونگے۔ اور اس وقت کے نواز شریف ،اور جنرل صاحب اپنی اپنی اکبریت  کی نرم گرم دھوپ میں مسکراتے ہوئے اپنے آپ کو عقل و مالکِ کُل سمجھتے ہوئے، ان شیخ ظہوروں پر اپنی عنایات کے ڈونگرے بسا رہے ہونگے۔

مجھے کسی دوسرے معاشرے سے کیا لینا دینا، دوستو، مگر اپنے پاکستان مسلم معاشرے میں یہ مسیحا کی تلاش کا کینسر ہے جو عوام کی اکثریت کو نظام، ریاست و مملکت کے سیاسی، عمرانی (عمران خان  صاحب  مراد نہیں، بلکہ سوشل)، معاشرتی اور معاشی کانٹریکٹ کی بجائے اک بچانے والے مسیحا  (سیوئیر) کا منتظر اور ریشہ-زدہ غلام بنا ڈالتا ہے۔ یہ ریشہ زدہ غلامی صدیوں پرانی ہے، اور میرے مر جانے کے بعد بھی جاری رہے گی، میں جانتا ہوں۔ عمومی اکثریتی مسلم ذہنیت  پراسس، محنت، ارتقاء اور جدوجہدمسلسل کی بجائے صدیوں سے امام مہدی کے انتظار میں ہے، اور جب امام مہدی آئیں گے، وہ تب ہی آئیں گے، مگر ہماری قوم ، اور اب میڈیا بھی انکے آنے تک، چھوٹے چھوٹے مہدیوں کی مدح سرائی کرکے اپنی پریکٹس کرتے رہتے ہیں ، شاید اس لیے کہ جب مسیحا بالآخر نازل ہوں تو یہ فورا انکے لشکرجرار میں شامل ہو جائیں، اور تب تک امپورٹ/ایکسپورٹ، ٹیکس، کوٹے، ٹھیکے وغیرہ حاصل کرکے وطن، ملت اور مذہب کی خدمت ہی جاری رکھی جائے۔ سودا ، صاحبو، برا یقینا نہیں!

مسیحا کی تلاش و انتظار، میرے یارو، وہ بیماری ہے کہ جو آپکو کھاتی رہتی ہے، اور آپکو نہ مرنے دیتی ہے، اور نہ ہی جینے۔ وگرنہ قران کے درجنوں فیصلے ایسے ہیں جس میں انسان کو تفکر اور کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ کچھ توجہ اس جانب بھی ہو تو کیا مضائقہ؟

اور ہاں، اپنے معاشرے کے سارے شیخ ظہور کلمہ گو بھی ہیں۔ وہ کلمہ جو محمدﷺ کی گواہی بعد میں دیتا ہے، مگر اللہ کے سوا کسی اور کے معبود ہونے کی گواہی پہلے دیتا ہے۔ شیخانِ ظہورِ ملتِ الباکستان کچھ یہ بھی تو سوچیں کہ میاں نواز شریف، مشرف اور اب جنرل راحیل شریف   وغیرہ کو وہ ، نعوذ باللہ، متمکن کہاں پر کرتے چلے آ رہے ہیں؟

کوئی اور سوچے نہ سوچے، آپ سوچیں گے جناب؟

Share This:

تبصرے