جشن آزادی سپیشل: محمد بن قاسم کا پیڈل، اور پاکستان کا “سیکل!”

کہتے ہیں دو قومی  نظریے  کی بُنیاد اُس دِن  ہی   رکھی جا چُکی تھی جِس دن محمد بِن قاسم  سندھ کے ساحلوں پر اُترا تھا۔ شائد کہنے والے درست  ہی کہتے ہیں ہر کام کی شُروعات   ایک نُقطے سے ہی ہوتی ہے ۔ کِسی سیانے کو  ایک پیڈل سڑک پر  گِرا پڑا ا  مِلا تو اُس نے  اِس نیت  سے سنبھال کر رکھ لیا تھا جب کبھی ہِمت ہوئی تو اِسمیں  سائیکل  ڈلوا  لے گا۔ اُنیس سو  چالیس میں ہمیں بھی سائیکل مِلی  اور ہم نے اُس میں محمد بِن قاسم کے لائے چپوؤں  کو بطور پیڈل ڈلوا لیا۔ اِس سائیکل کی کاٹھی پر دو قومی نظریہ بٹھائےہمارے  بڑے   ایک  مُلک کی تلاش میں نِکل پڑے ۔قافلہ بنتا  گیا  ، نعرے لگتے گئے اور حوصلے بڑہتے گئے ۔جوش ایساجو آسمان کے دو حِصے کرڈالے اور پھِر آزادی کا سورج طلوع ہوگیا ۔ آج کی طرح اُس دِن بھی  لاہور میں سورج   پانچ بجکر ستائیس مِنٹ پر ہی نِکلا تھا  ۔ ساون کا موسم ،کبھی جل تھل  ،کبھی آسمان گُم  ،  زمین چُپ اور ہوا ئیں لاپتہ ۔ ایسے میں جِسم پسینوں سے نُچڑجاتےہیں ۔مگر  اُس دِن  سوہنی دھرتی کو  بڑہنے والے قدم پسینوں میں   نہیں خون  میں نہلائے گئے تھے ،لال  سوا  کہیں  کوئی رنگ نظر ہی  ناں آتا  تھا  ۔  نفرت کی آگ کے دریاؤں  پر لاشوں کے پُل بناتے ہوئے   اپنی منزل پاکستان کو سب بڑہے چلے ۔ وہ  خون آلود ریل  گاڑیاں  تو گل سڑ گئیں مگر  بربریت کا شکار ہونے والے جِسموں  کی بِچھڑ  جانے والی روحیں آج بھی اُنہی پٹریوں پر   آوارہ گھومتی پھِرتی ہیں ۔ اُس سفر  میں کئی  گندے نالے بھی گُزرے   ،نظر بچائے بہت سے گندے نالوں کے کیڑے بھی ساتھ ہولئے ۔

آزادی مِل گئی ، قربانی  دینے والوں نے اپنی شناخت پالی ۔نئے مُلک میں اِک نئے سفرکی شُروعا ت  ہوئی مگر آغاز  میں ہی ہمارے  محسن بِچھڑ گئے۔ دو قومی نظریہ کے بطن سے قراداد مقاصد کا جنم ہوا اور پھِر “نظریہ بازار ” لگ گیا  اور سیانے لوگ اُس  بازار سے اپنی “نظریاتی ضرورتیں “پوری  کرنے لگے  گندے نالے  والوں نے   جعلی کلیموں سے   طاقت پکڑی اور نظریہ بازار  میں” سائیکلوں “کی دُکانیں کھو  ل لیں ۔جن کی قابلیت میٹرک میں بار بار پاس ناں ہو سکنا  تھی وہ    سرکاری عہدوں  پر کے حق دار ٹھہرے۔ پھِر وہی  ہوا  جو ڈبلیو  ڈبلیو ای  کشتیوں  میں ہوتا ہے ۔ہیوی ڈیوٹی ٹرک  ڈرائیوروں  نے  سب  کو چِت  کردیا۔اکہتر میں ہمارے لاڈلے نظریے کی ایک ٹانگ دُشمن  لے اُڑا  ۔قو م نے ہوش کی سواریا ں ڈھونڈیں اور  جمہوری سائیکلوں پر سوار ہوکر  نیا سفر شُروع کیا۔ مگر ٹرک والوں کو یہ  دھیری رفتار ایک آنکھ ناں بھائی   ۔اِس بار  ٹرک والے بلڈوزر بھی لے کر آئے  ۔ سب کُچھ روند ڈالتے  ہوئے  رستے  ہموار  کئے  گئے ۔ اگلے دور کیلئے سائیکلیں آرڈر پر تیار کروائیں  اور  میدان میں اُتار دیں ۔یہ سِلسلہ آج  بھی  جاری ہے  ٹیلی وژن کی سوپ   ڈرامے کی  طرح۔  جیسے ا ن ڈراموں میں    کِردار بچپنے سے جوانی  تک پہنچتے  ہیں  ایسے ہی  ہمارے اِس  کھیل  میں  جمہوریت   بھی  جواں  ہو گئی ہے  ۔  آج سائکلوں پر نہیں لینڈکروزرز  میں  سیریں  کرتی ہے۔

جو لوگ تاریخ سے سبق  نہیں سیکھتے اُنہیں ماسٹر  قدرت اللہ سے سبق لینا پڑتا ہے ۔ ماسٹر صاحب  پرائمری سکول ٹیچر  تھے  لوگ دور دور سے بچے اُن کے پاس ” عِلاج “کے  لئے لایا کرتے تھے۔وہاں  بچوں کا  ایسے  وزن  ہوتا  تھا جیسے  برائیلر مُرغیوں  کو  تولا  جاتا ہے ۔ اِضافی پر   تو ل کے دوران ہی اُتار دئے جاتے  تھے  ۔ بچے  کی واپسی  کھال سمیت خال خال  ہو  ا کرتی  تھی۔ کُچھ  اِسی طرز کے اُستادوں سے سبق یاد کرنے کی   ہمیں  بھی عادت ہو چُکی ہے۔ عادتیں تو ناخنوں کے میل کی طرح  چِپکی  رہتی  ہیں ،   اگر  بندہ  ہِمت  کرے  تو بس ایک  ناخن تراش چاہئے اور کُچھ تراش خراش۔گُزرے وقت سے سبق سیکھتے رہئے اور اچھے  کی اُمید میں آگے بڑہتے رہئے ۔

پاکستان  کو بنے اٹھاسٹھ  سال ہوچُکے ہیں۔ یہاں  کی چوتھی نسل  جوان ہو چُکی ہے ۔ یہ مُلک اب  کِسی نرسری  میں لگا  کمزور ننھا پودا نہیں  رہا، ایک تن آور درخت بن چُکا ہے ۔ پاکستا ن آج کی حقیقت ہے جِسے توڑا مروڑا  یاجھٹلایا نہیں جاسکتا۔ ہمتیں  جوان  رکھئے اور شجر سے خود کو جوڑے رکھئے،بہار بھی آئے گی اور نئے رنگ برنگے خوشبو دار پھول سنگ لائے گی۔ جو لوگ بار بار گِر کر اُٹھنا سیکھ  لیتے ہیں  اُنہیں ہمیشہ  کے لئے کبھی نہیں گِرایا جاسکتا ۔ہم  تو وہ لوگ ہیں جِنہیں گیند  کو رسی ٹپا دینے والا ایک کھلاڑی زِندہ کر دیتا ہے ۔ بلا گھُمانے والا کراچی کا   مہاجر میانداد ہو یا پھر آفریدی پٹھان یہ قوم   رنجشیں بھُلائے  ایک ہو جاتی ہے   ۔ سب سے جُڑے رہئے اور خوش  رہئے ، یہاں کے ہر رنگ کو اپنا مان کر ۔ یہ دیس ہمار ا ہے  ،دھوتی،تہبند  باندھنے والوں کا ، نیکر پاجامہ ، شلوار قمیض پہننے والوں  کا ،  ٹوپی صافہ  رکھنے والوں  کا ،سب کا۔ ، مگر محتاط رہئے اُن سے جو کُچھ نہیں پہنتے یا خود کش جیکٹ پہنتے ہیں ۔خاموشی  سے  محاسبہ کرتے رہئے لکڑ  پتھر ہڑ پ غڑپ  کرکے جمہوری ڈکار لینے والوں کا  اور دُعا کرتے  رہئے کڑک چائے پینے  والے کڑک دِل ٹرک ڈرائیوروں کے  لئے ،اللہ اُنہیں  ٹرکوں میں ہوا  کم رکھنے کی  توفیق  دے (آمین)۔

آ ج سے پندرہ سولہ سال  پہلے ایک پاکستانی فِلم سینما  میں دیکھی تھی ۔ پوری فِلم میں  ہم  شرافت حسین  نام  کا کریکٹر   تک ناں ڈھونڈ پائے   ۔سر پیٹتے ، یہ سوچتے   ہوئے گھر پہنچے   ۔ یہ کِسی  کم بخت کی شرارت تھی  جو فِلم کا نام ” شرافت “رکھاگیا۔ اُس فِلم میں  شریف گھر کی  لڑکی   (ہیروئین )اپنے   محبوب کو راضی کرنے  کے  لئے  ایک گانا گاتی ہے ۔  جِس کے بول تھے “پک گئیاں امبیاں راتاں ہویاں لمبیاں” اِنتہائی واحیات   انداز میں پکچرائز ، لچر ناچ   سے بھرے اِس گانے  کے دوران مُجھے سینما ہال میں بیٹھے فِلم بین  آم کے درختوں پر چڑہے پکتی  امبیاں  ڈھونڈتے دکھائی دینے لگے ۔۔   اپنے پیارے پاکستان کی آزادی کا  جشن شایان شان انداز میں مناتے ہوئے     آج ہمیں  ستاسٹھ  سال ہوگئے  ۔ لیکن ہر سال کا منظر  دیکھ کر  میرے ذہن میں وہی  تصویر اُبھرتی ہے ،جیسے  ساری قوم بڑی” شان “سے درختوں پر چڑہی  “شایان   ” ڈھونڈ رہی  ہو۔

آزادی کو آزادی سے  ہی منائیے مگر  اس  انداز میں  تو درختوں پر  اُلٹی  قلابازیاں کھانے والے” آزاد  “بھی  اپنی آزادی نہیں  مناتے ۔

آزادی مبارک جناب!

Share This:

تبصرے