جلیبی، ہاکی اور دولے شاہ کے چوہے

جلیی مُنہ میں ڈالنے کی دیر تھی کہ میں ماضی میں بہت پیچھے پہلوان کی دُکا ن پر جاپہنچا۔ابا کی ٹرانسفر لاہور ہوئی تو اُن کا آفس ٹھوکر نیاز بیگ میں تھا۔۔ اُن دِنوں ٹھوکر نیاز بیگ شہر سے باہر تصورکیا جاتا تھا ۔اُس زمانے میں لاہور نےقد بڑہانے کا ہومیو پیتھک ٹانک بالٹیاں بھر بھر نہیں پی رکھا تھا۔

دفتر کی مُناسبت سے رہائیش بھی دفتر کے قُرب میں ہی لے لی گئی ۔ پرائمری کے بعد جب ہائر سکول کا مرحلہ آیا تو گورنمنٹ سنٹرل ماڈل ہائی سکول سمن آباد کا انتخاب کر لیا گیا۔ دو مہینیوں میں ہی ہوش ٹھِکانےآگئے ۔ پندرہ بیس کلومیٹر روز کا آنا جانا۔ صبح ابا چھوڑ آتے تھے اور چھُٹی کےبعد خود ہی گھر پہنچنا ہوتا تھا۔ اُں دِنوں لاہور کے مُختلف روٹس پر والوو بس چلا کرتی تھی آج جو حیثیت میٹرو بس کی ہے وہی اُس دور میں والوو بس سروس کو حاصل تھی ۔ بس کے انتظار میں بعض اوقات تو گھنٹہ گھنٹہ کھڑا ہونا پڑتا تھا۔ اِس بس میں زنانہ اور مردانہ خانے الگ الگ ہوتے تھے ۔ رستے میں سکول کالجوں کے لڑکے جیبوں میں نِت نئی شرارتیں بھر کر سوار ہوتے جاتے تھے ۔ اِنہی شرارتی ٹوٹکوں سے کالج سکول کی لڑکیوں سے چھیڑ خانی کی کوششں کرتے تھے ۔ عمومی طور پر اُس زمانے کو پاک صاف درجہ دیئے یاد کیا جاتا ہے کیو نکہ وہ دور “خِلافت   مرد مومن و حق و صداقت “کا تھا کہ جس میں پاکیزگی،  حق و صداقت کا علم اِس قدر بلند تھا کہ دور دور سے دُنیا   دروبینیں لگا اُس علم کو دیکھ کر پاکستانیوں کی خوشبختی سے حسد کے مارے ٹھنڈی آہیں بھرا کرتی تھی۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ ان ٹھنڈی آہوں کی بدولت مغربی ممالک میں سردیانہ برف میں شدید اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ پاکستانی شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پر اکٹھے پانی پیتے تو کبھی دیکھے نہ گئے البتہ شیر حضرات وضو کر کے بکری کھایا کرتے تھے، اور بعد میں بکری کو نوش فرمانے کے حق میں فتاویٰ بھی حاصل کر لیا کرتے۔

دو ماہ کی اِس خواری کے بعد ہم لوگ سمن آباد شِفٹ ہوگئے ۔ تین کمروں پر مشتمل گھر جِس کی گلی گھروں سےپانچ فٹ اونچی کی گئی تھی۔ اہل علاقہ سے معلوم ہو ا کہ   سڑک اُونچی ہونے سے پہلے اِ ن گلیوں میں بارش کے بعد کشتیاں چلا کرتی تھیں اور   اب گھر تالاب بن جاتے ہیں۔ اب میں روزانہ پید ل سکول جانے لگا۔

سمن آباد اور اپنے سکول سے بچپن کی بہت سی  یادیں وابستہ ہیں ۔ سنٹرل ماڈل ہائی سکول کا پلے گراؤنڈ بہت بڑا تھا   ۔ جہاں   زیادہ تر کرکٹ اور ہاکی کھیلی جاتی تھی۔ اُس دو ر میں بھی کرکڑز حضرات ہی ہمارے ہیرو ز ہوا کرتے تھے ۔ ہاکی   کو مِلے قومی کھیل کے درجے کو ابھی شکستوں کا گرہن نہیں لگا تھا۔  انیس سو چوراسی لاس اینجلس اولمپکس میں سونے کا تمغہ ہاکی کی شان بڑہانے کو بہت تھا۔ ہاکی کا ذِکر چھِڑا ہے تو مُجھے اختر رسول یاد آنے لگے ہیں ۔ اُن کے والد غلام رسول   بھی پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے سرپرست اعلی بھی رہ چُکے ہیں ۔ اختر رسول اپنےدور کے بہتر ن سنٹر ہاف تصور کئے جاتے تھے۔ فلیٹ فٹڈ ہونے کے باجود کھیل میں اُنہوں نے بہت نام کمایا۔۔ وہ ورلڈ کپ 1982 جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے۔ جِس کے بعد وہ کھیل سے ریٹائر ہوگئے ۔

1985 میں میرے پاس ایک سٹیل کا بنا ہوا ہاکی کا بیچ ہوا کرتا تھا۔ جِسے میں   سینے پر لگا ئے پھِرتا ۔ اپنے آج کے اختر رسول نے تو دو سال میں ہاکی   کو گنا سمجھے بیلنے میں دے ڈالا ،مگر اُن کے مُبارک ہاتھوں سے لیا ہوا وہ بیج   میں نے سالوں اپنے پاس بڑا سنبھال سنبھال کر رکھا تھا ۔اختر رسول صاحب پچاسی والے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کے اُمیدوار تھے  اور اُن کا نِشان ہاکی تھا ۔سیاست کی مولی  کِس کھیت میں لگتی اور فصل کب دیتی   ؟ایک چھٹی کا بچہ کیا جانے مگر اختر رسول کی کامیابی کو ہاکی کی عِزت بِستی کا مسئلہ بنائے میں  دِل سے اُن کے لئے دُعائیں کرتا رہا تھا۔ اپنے محلے کے پہلوان جی بھی اختر رسول کے بڑے حمائتی تھے۔الیکشن والے دِ ن جب اختر رسول کی کامیابی کا اعلان ہوا تو   پہلوان حلوائی کی دُکان پر ساری رات جشن منایا جاتا رہا۔ خوب نعرے بازی ہوئی اور مٹھائیوں کی پراتیں مِنٹوں میں خالی ہوگئیں۔اِس بات کو تیس سال ہو چلے ہیں خُدا جانے   آج پہلوان کی دُکان ہے یا نہیں ۔

آج کی دُنیا یکسر بدل چُکی ہے ، مگر نہیں بدلے تو ہماری سیاست کے وطیرے نہیں بدلے ۔

آج کا سمن آباد بھی غالبا این اے 122 میں ہی آتا ہے ۔ گُذشتہ دِنوں اِس حلقے   کا عدالتی فیصلہ تو شام سات بجے سُنایا گیا مگر الیکشن کمیشن کے باہر خر مستیاں اور نعرے بازیاں تمام دِن دیکھنے کو مِلیں۔ آج بھی ہماری سیاست لیڈروں کو دیوتا   بنائے پوجا پاٹ کرتی ہوئی ہی نظر آتی ہے ۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ داتا کی نگری   کے باسیوں نے دِلوں کے مندر خانے میں     عرصہ دراز سے میاں صاحب کا بُت لٹکا رکھا ہے ۔ جِسے تبدیلی نام کا دیوتا سونامی کی “کرامات “دکھا کر گِرانا چاہتا ہے ۔ مگر میاں صاحب نے بھی دھوپ میں پکے ہوئے ٹماٹر کھا کر اپنے گال لال نہیں کر رکھے ۔اگر کوئی دیوتا سونامی کی کہانی سُنا سکتا ہے تو میاں صاحب   بھی کرشماتی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ۔ بنانے والوں نے   شب بھر میں مسجدیں بنا ئی ہوں گی ،مگر جُمعہ جُمعہ آٹھ دِنوں میں سیاسی مندر گِرا کر نیا مندر بنانا آسان نہیں ہوتا۔

پاکستان کے عمومی سیاسی پجاریوں کو سیاسی پنڈت ہی چاہیے ہوتے ہیں شاید۔ جو انہیں نرکھ میں رکھتے ہوئے سوَرگ کے جلیبیانہ خواب کھلاتے رہیں۔ اور ان کھائے ہوئے خوابوں کے نشے میں دولے شاہ کے چوہے نعرے مار کر ناچتے رہیں۔

میرا بھی ناچنے کو مَن للچا رہا ہے۔ جلیبی سے ہی نشہ ہوگیا، شاید!

Share This:

تبصرے