جناح بھی کیا سادہ تھے!

کل رات قائد ِ اعظم محمد علی جناح سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

صبح ِ صادق سے ذرا پہلے کا وقت تھا جب ایک کمرے کا دروازہ کھول کر جونہی اندر جھانکا تو دیکھا قائد ِ محترم اپنی ٹائی کی ناٹ لگا رہے تھے اور آیئنے میں اپنے رخساروں کا جائزہ لے رہے تھے کہ کہیں شیو کے بعد بھی ٹھوڑی یا اُس کے اطراف میں کہیں ڈاڑھی کے بالوں کی کوئی کونپل تو باقی نہیں رہ گئی ۔ لبوں پہ دھیمی سی مسکراہٹ تھی اور زیرِلب کسی انگریزی گانے کی دھن گنگنا رہے تھے ۔ بندہ ایک لمحے کو تو ششدر رہ گیا ۔ انہوں نے آئینے سے مجھے جھانکتے ہوئے دیکھ لیا تھا سو میری جانب پلٹے بنا ہی مجھے اشارے سے اندر چلے آنے کو کہہ دیا۔

میں جھجکتے ہوئے قدموں سے اندر داخل ہوا اور بوکھلائی سی آواز میں سلام سلیوٹ اور آداب کا ایک عجیب سا ملغوبہ بکنے لگا ۔ آپ ہنس دیے اور بولے گھبراؤ نہیں میرے عزیز اور میری جانب سوکھا مگر ملائم ہاتھ مصافحے کے لئے بڑھا دیا ۔ مصافحے کے دوران میرے ہاتھوں کی کپکپی کو جانچتے ہوئے دھیمے سے لہجے میں ان کی مضبوط آواز سنائی دی ‘ آرام سے اس مسہری پہ بیٹھ جاؤ ‘ محمد علی جناح سے کوئی خطرہ نہیں ۔ یہ جملہ انگریزی میں تھا سو مجھے کچھ زیادہ سمجھ تو نہ آئی مگر کسی ایسے ہی تسلی آمیز جملے کا شک گزرا تو کسی قدر اطمینان ہوا اور میں بیٹھ گیا۔

بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے مجھ سے انگریزی میں ایک بار پھر گویا ہوئے جس کا مفہوم میری دانست میں کچھ ایسا سا تھا۔

“اب کی بار کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں میں گرمی زیادہ پڑی ہے اور اب بارشوں کے سبب سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے تو ایسی صورت ِ حال میں مسلم لیگ کے ابتدائی رہنما اور میرے کچھ ساتھیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہارے عہد کے ایک فوجی افسر اور کراچی کے ایک بزرگ صحافی کے ہمراہ کراچی سے لے کر چترال کی وادیوں تک ایک ملک گیر ہنگامی دورہ کر لیا جائے ۔ تاکہ ملک کی مجموعی حالت سے آگاہی ہو جائے ۔ دورے کے اخراجات سر سلطان محمد ہشتم نے اپنے ذمہ لئے ہیں اور کراچی کے دورے کے لئے میزبانی بھی وہاں کے کچھ مقامی لوگوں نے اپنے ذمہ لے لی ہے شنید یہی ہے کہ وہ لوگ اُن کے معتقد ہیں لہذا کراچی کی شہری انتظامیہ کو کوئی خاص بندوبست کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اندرون سندھ میں میزبانی کے انتظامات جوگندر ناتھ منڈل نے اپنے ذمہ لے لئے ہیں کہہ رہے تھے کہ وہاں اُن کے چاہنے والے ہیں سو وہاں بھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی کہہ رہے تھے کہ سندھ حکومت کو تکلیف نہ دی جائے ۔

پنجاب میں سر ظفراللہ خان نے میزبانی کا وعدہ کر لیا ہے کہہ رہے تھے کہ اندرون پنجاب خاص طور ضلع چنیوٹ کے علاقے میں دریائے چناب کے کنارے پر خوشگوار موسم میں رات ٹھہرا لیں گے ۔ لاہور میں سیسل چوہدری نام کا کوئی لڑکا ہے نیا نیا ائیر فورس میں بھرتی ہوا ہے ، وہ ضد کر رہا تھا کہ ہم لوگ اُس کے ہاں ایک دن گزار لیں ۔ رات کی دعوت جسٹس کارنیلیئس کی طرف ہے وہ کسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں کہہ رہے تھے کہ ہم لوگ پنجاب حکومت کے گیسٹ ہاؤس یا مقامی حکومت کے نمائندوں کو تکلیف نہ دیں میں نے بھی انہی کو حامی بھر لی ہے ۔”

میرے چہرے پر جو حیرت بابائے قوم کو دیکھ کر ہوئی تھی وہ شدید پریشانی میں بدل چکی تھی اور قریب تھا کہ میں اپنے خدشات کو کوئی زبان دوں ۔ مگر قائد اعظم ازحد خوش تھے اور اب وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھے اپنی تیاری کو آخری ناقدانہ نظر سے دیکھ رہے تھے روانی میں بولتے ہوئے ان کے اگلے جملے تو مجھے شائد کوئی سانپ سونگھا گئے ۔

“بلوچستان میں نواب جوگیزئی نے ضد کر رکھی ہے کہ اُن کی طرف ہم ضرور جائیں مگر مجھے شوق ہے کہ ہم لوگ زیارت اور ڈیرہ بگٹی کا چکر لگائیں عرصہ ہوا اپنی رہائشگاہ دیکھے ہوئے ، پھر وہاں ڈیرہ بگٹی میں ایک نوجوان سردار سے ملاقات کا شوق ہے ، اکبر بگٹی نام کے اُس لڑکے کو بھی ملے بہت عرصہ ہو چکا ہے کافی خوش پوشاک آدمی تھا نجانے اب کیسا دِکھتا ہو گا ۔

گلگت چترال اور وادی کیلاش بھی دیکھنا چاہ رہا ہوں اردشیر کاؤس جی بہت تعریف کر چکا ہے ۔ سنا ہے اب این ڈبلیو ایف پی کو خیبر پختونخوا کا نام دے دیا گیا ہے ۔ ہری چرن سنگھ تو ہمارے ساتھ ہی ہوگا اسی نے پیغام بھجوایا ہے کہ ہم لوگ وہاں ضرور جائیں اور ہم نے یہ طے کیا ہے کہ اب پورا فاٹا دیکھیں گے مجھے اطلاعات ہیں کہ ابھی تک ایف سی آر چل رہا ہے ذرا میں بھی تو دیکھوں کولونیئل انگریز کے قانون میں ایسا کیا جادو تھا کہ ابھی تک ٹوٹ نہیں پایا۔”

میں ہکلایا ، قائد ِ محترم یہ سارا سفر کیسے ؟؟

کہنے لگے ، ڈکوٹا بھی ہے ۔ کہیں کہیں ٹرین پہ بیٹھ جائیں گے کہیں بس چلے چلی گی ۔ اب سفر ہے تو کوئی وسیلہء سفر بھی ہو ہی جائے گا ۔

دوستو ، میں نے گھبرا کر اپنے بازو پہ زور سے چٹکی کاٹی اوراس خواب سے فورا نکل آیا ۔ ایک ایسا وفد جس کے اراکین شیعہ، اسماعیلی ، قادیانی ، ہندو، عیسائی، سکھ اور پارسی ہوں اس وفد کے سربراہ کے پاس بیٹھنا آج کل کے زمانے میں کہاں کی دانشمندی ہے، بھلا؟ ڈر بھی عجب بلا ہے خواب میں بھی نہیں بخشتا ۔

کیسے کیسے نابغہ روزگار نام سنائی دے رہے تھے ناں ، محمد علی جناح ، قائدِ اعظم اور بانیء پاکستان بھلا اثنا عشریہ ہوئے تو کیا ہوا ؟ سر سلطان محمد آغا خان صاحب صدر آل انڈیا مسلم لیگ ، بھلا اسماعیلی بھائیوں کے امام ہوئے تو کیا ہوا؟ جوگندر ناتھ منڈل جی وزیر ِ قانون آذاد پاکستان ، بھلا نچلی ذات کے ہندو ہوئے تو کیا ہوا؟ سرظفر اللہ خان صاحب وزیر خارجہ آزاد پاکستان ، بھلا قادیانی ہوئے تو کیا ہوا؟ جناب کارنیلیئس صاحب جسٹس آزاد پاکستان، بھلا مسیحی ہوئے تو کیا ہوا ؟ سیسل چوہدری ، 1965کی جنگ کے دلیر ہیرو، بھلا مسیحی ہوئے تو کیا ہوا ؟

لسٹ لمبی ہے، صاحبو، اور اُس پاکستان کی اساس بیان کرتی ہے جہاں ریاست کے لیے کس کا کیا مذہب ہے، ریاست کو اس سے کوئی غرض نہ تھی، کہ “تم آزاد ہو کہ اپنی عبادتگاہوں کو جانے کو،” خود جناح ہی نے تو کہا تھا۔ اور یہ بھی کہ اک وقت آئے گا کہ ہندو، ہندہ نہ رہے گا، مسلم، مسلم نہ رہے گا، مذہبی لحاظ سے نہیں، بلکہ معاشرتی، سیاسی و سماجی لحاظ سے، تمام لوگ ریاست کے لیے مکمل برابر ہونگے۔ ویسے 2015 کیسا دِکھتا ہے، کچھ ٹٹولئیے گا؟

اب جو سامنے نظر پڑتی ہے تو ٹیبل پہ پڑے کلینڈر پر اا آگست کی تاریخ جگمگا رہی تھی۔ سوچا کہ اصلی والے یوم آزادی آنے میں اب بھی جانے کتنے سال باقی ہیں!

Share This:

تبصرے