جنت کی کنواریاں

دوستو، فروری 2007 میں، میں اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ اسلام آباد میلوڈی فوڈ پارک میں اس شام ڈھاکہ فرائیڈ فِش کھا رہا تھا جب اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ پر ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے ایک حافظ صاحب نے خودکش حملہ کیا۔ اس حملہ میں انکا نیچے والا دھڑ اڑ گیا تھا اور وہ تقریبا 30-40 منٹ زندہ رہا اور پھر اسکا معاملہ اللہ کے سپرد ہو گیا۔ اس پر کچھ تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ان سے خود کش حملہ کروانے والوں نے پندرہ لاکھ روپے انکے خاندان کو دینے کا وعدہ کیا تھا اور انکی تین بیٹیا ں تھیں۔ انکے خاندان کو پندرہ لاکھ کبھی بھی نہ مل سکے اور گھر میں شدید غربت اور فاقہ کشی کےمارے، انکی بیوہ نے اپنی تینوں بیٹیاں ڈی جی خان پریس کلب کے سامنے “برائے فروخت” رکھ ڈالیں۔ یہ چھوٹی سی کہانی اس سچے واقعہ کے اوپر ہی لکھی گئی ہے۔ جانتا ہوں کہ اسلوب اعلٰی نہ ہوگا اور کہانی بھی کچی ہی محسوس ہو گی کہ میں افسانہ نگار نہیں۔ مگر لکھا اس لیے کہ خود کشوں میں دینی اور معاشرتی گلوری تلاش کرنے یا انکا دفاع کرنے والے جانیں کہ مرنے والے مر جاتے ہیں، انکے خاندان ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے میرے اس سٹانس پر ایک مرتبہ لکھا تھا کہ یہ اعتراض ایسا ہے کہ جیسے دوسروں کے بچے اور بچیاں بکنے کے لیے کبھی بھی پیش نہیں ہوئے سربازار۔ ان سے بحث نہ کی، کہ انکے مذہبی فہم کا میں ذمہ دار نہ تھا، نہ ہوں اور نہ ہی ہونگا۔ انکے فہم کا معاملہ وہ جانیں اور اللہ جانے۔ مگر مزے کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں رہ کر کام کرتے ہوئے اس قسم کا خودکش کرکے وہ، یا کوئی اور بھی اپنی بیٹیوں کو یتیم کرنا نہ چاہے گا۔ مگر کسی دوسرے کے کیے ہوئے خودکش حملے اور اسکے خاندان کا وارث اللہ کو بناتے وقت، وہ اللہ، اسکے رسولؐ اور صحابہؑ کی دیگر تعلیمات اور زندگی میں شدید کوشش کرنے اور فلاحِ انسانی کے پیغام کو سکون سے بھول جاتے ہیں۔ کہ “کون سا میں نے کرنا ہے خود کش، مگر چونکہ یہ میرے فہم کے خلاف بات ہوئی ہے، لہذا اسکا دفاع بھی ضروری!” — اس سوچ سے بچیں۔

نام بدل ڈالے ہیں اس ساری کہانی میں۔ کچھ زبان بازاری استعمال کی ہے شروع میں۔ اسکی دل سے معذرت چاہتا ہوں۔ درگذر کیجیے گا۔ مگر سوچا کہ کہانی تو بہت پکی نہ لکھ پایا، مگر جتنا حقیقت کے قریب کر سکوں، کر ڈالوں۔ مگر اس پر دل سے معافی بہرحال قبول کیجیے۔
ملاحظہ کیجئے۔ اللہ آپ سب کو دینِ مُلا کی تشریحات سے آگے اور اوپر بڑھ کر جینے کی توفیق عطا فرمائے کہ اسلام آپکی شلوار کے پائنچے کی اونچائی میں نہیں، ستاروں، خلاؤں، آسمانوں، سمندروں، لوگوں، معاشروں، محلوں اور لوگوں کی بات زیادہ کرتا ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے

 

—-

 

“اوئے حفیظ، دیکھ اسے۔ مولوی مرا ہے کہ نہیں،” حافظ شراکت کے کان میں آواز آئی۔

“زندہ ہے بھین چود۔ ابھی مر جائے گا۔ آدھا دھڑ تو اڑ گیا، خون بھی نہیں رک رہا۔ مرے کتے کا بچہ، آیا تھا بڑا ہمیں مارنے،” شاید کہ حفیظ نے کہا، حافظ شراکت نے سوچا۔

“ایمبولنس کو فون کیا؟” پہلے والی آواز نے دوبارہ پوچھا، اور حافظ شراکت کے سن ہوتے ہوئے ذہن نے اپنی زندگی کی شدید ترین اذیت محسوس کرنا شروع کر دی۔

“جی سر،” ایک مختلف آواز نے کہا۔ “آتی ہی ہوگی، مگر سر، مجھے اسکا بچنا بہت مشکل لگ رہا ہے، ٹانگیں اڑ گئیں اور خون بھی بہت ضائع ہو رہا ہے۔ مر جائے گا۔” اسی آواز نے کہا۔

حافظ شراکت کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ مرنے کے قریب تر ہو رہا تھا۔ شدید ترین تکلیف اور اذیت میں اس نے کچھ کہنے کے لیے مونہہ کھولا، مگر الفاظ نہ نکل سکے۔ “حفیظ، جلدی سے کان لگا اسکے مونہہ کے ساتھ۔ سن کیا کہنا چاہ رہا ہے؟” سب سے پہلے والی آواز پھر آئی۔ حافظ شراکت نے حفیظ کے ہیولہ اپنے سامنے آتے ہوئے دیکھا اور پھر اسکے مونہہ سے گالی سنی “کیا بولنا ہے مادر چود نے،” مگر اپنا کان حافظ شراکت کے قریب کر لیا۔ “پانی، اللہ کے واسطے، پانی،” حافظ شراکت بمشکل بولا۔ “اوئے مراد، جلدی سے پانی دے، مولوی کو۔ مر تو جانا ہے، ماں کے کھسم نے، پانی ہی پلا دے، دس نیکیاں ملیں گی تجھے۔” تھوڑی دیر میں حفیظ کے ہیولے نے حافظ شراکت کا سر اوپر کر کے پانی پلایا۔ گلا تر ہوا تو آواز مزید بہتر ہوئی تو کہنے لگا ” تم سارے گناہگار ہو، جہنم میں جاؤ گے۔ اور تم میرے اتنے خلاف کیوں ہو؟ تم بھی مسلمان ہو، میں بھی، میں نے تو اللہ کے دین کی اپنی جان سے خدمت کی ہے”

“اوئے مولوی، بکواس نہ کر، اپنا اتا پتا بتا۔ بڑا آیا، جنت اور جنہم کا داروغہ۔ کدھر سے آیا ہے، کس نے بھیجا ہے، کس کے لیے کام کر رہا ہے اور کیوں یہ کام کیا تو نے؟” حفیظ نے ٹوکا اور اسے ڈانٹ کر سوال کیے۔

حافظ شراکت کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ وجود میں سے اب شدید اذیت کے اثرات ختم ہو کر ایک سُن ہونے والی کیفیت بڑھتی جا رہی تھی۔ آنکھیں بند ہونا شروع ہوئیں، زبان نے ساتھ دینا چھوڑنا شروع کر دیا۔ آنکھیں بند ہوگئیں، مگر سانس چل رہی تھی۔ حافظ شراکت کی آنکھوں کے سامنے اپنی تینوں بیٹیوں، سکینہ، کلثوم اور عتیقہ کے چہرے آ گئے۔ آتے وقت کلثوم اور عتیقہ نے اپنے بابا سے گڑیوں اور لال رنگ کے دوپٹوں کی فرمائش کر ڈالی تھی۔ سکینہ سب سے بڑی تھی، پورے چودہ سال کی، سب سے صابر اور کلثوم اس سے ایک سال ہی چھوٹی جبکہ عتیقہ دس سال کی تھی۔ “تُو کیا لے گی اپنے بابا سے؟” حافظ شراکت نے اپنی بڑی بیٹی سکینہ سے پوچھا تھا، اسے یاد تھا۔ “کچھ نہیں بابا، بس اس سال عید پر نئے جوتے لے دینا۔ میری ہمسائی شمسہ میرا مذاق اڑاتی ہے کہ تمھارا بابا تمھارے لیے کچھ نہیں لاتا۔”

فکر نہ کر بیٹی، تمھاری ماں اس سال، تمھیں نئے جوتے بھی لے کر دے گی اور کپڑے بھی، حافظ شراکت نے ایک اداس سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا، مرتے ہوئے دماغ اور جسم میں بیٹیوں کی یاد نے اسکے لبوں پر مسکراہٹ پھیلا دی۔ “اب اپنی ماں کو تنگ نہ کرنا اور نہ ہی آپس میں لڑنا،” حافظ شراکت کو یاد تھا جو اس نے ان تینوں کو گلے سے لگاتے ہوئے کہا تھا۔ جانے سے قبل اس نے اپنی سدا کی صابر بیوی، شازیہ، کو ایک بار جی بھر کے دیکھا اور سوچا کہ پندرہ سال کے سفر میں وہ کتنی بوڑھی ہو گئی تھی۔ جانے سے پہلے اس نے شازیہ سے کہا کہ کچھ لوگ ٹھیک مارچ کی یکم تاریخ کو کچھ پیسے لے کر آئیں گے، “وہ رکھ لینا، میں ذرا کام سے دوسرے شہر جا رہا ہوں۔ امید ہے کہ مزدوری اچھی مل جائے گی وہاں۔ اور ہاں، جتنے بھی پیسے ہوئے، وہ تمھارے اور میری بیٹیوں کے لیے ہیں۔ احتیاط سے استعمال کرنا،” حافظ شراکت کو یہ بھی یاد تھا کہ شازیہ نے کیسے مسکرا کے اسکی طرف دیکھا تھا۔

“مولوی، تو ہنس کیوں رہا ہے،” حفیظ کے ہیولے نے اس سے پوچھا۔

حافظ شراکت نے اپنی آنکھیں بمشکل کھولیں، کچھ کہنا چاہا، مگر اسے محسوس ہو گیا کہ یہ اسکا آخری لمحہ تھا۔ اس نے ایک لمحہ سے بھی کم وقت میں سکینہ، کلثوم اور عتیقہ کے سر پر ہاتھ پھیرا، کلمہ پڑھنے کی کوشش کی، مگر زبان سے ادا نہ ہوا، اور وہ کلمہ پڑھے بغیر ہی اپنے باقی ماندہ جسم میں باقی تکلیف اور جان کے عذاب سے نکل گیا۔

“مر گیا ہے سر۔ ایمبولنس کے سائرن کے آواز بھی آ رہی ہے، یہ سالے میڈیکل کور والے سارے ہی نرسیں ہیں، ھمیشہ ہی دیر سے آتے ہیں،” حفیظ نے کہا اور حافظ شراکت کا سر زمین پر رکھ دیا۔

—–

حافظ شراکت نے اتنا ہلکا پھلکا کبھی اپنے آپ کو محسوس نہ کیا تھا۔ وہ ایسے کہ جیسے ہوا میں اڑ رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو اس بدبودار اور قید خانہ نما دنیا سے بہت دور اپنے آپ کو جنت میں اللہ کی رضا سے داخل ہوتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اس نے صرف نفع کا سودا کیا ہے۔ اس میں نقصان کوئی نہیں، کم از کم اسے قاری حسین نے یہی بتا یا تھا۔ اسے “بشارت “دی تھی کہ تمھارے لیے آسمانوں پر حوریں گیت گائیں گی اور تمھارا استقبال کریں گی۔ تمھیں وہاں کوئی مسئلہ نہ ہوگا اور تمھارے خاندان کو یہاں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ تمھاری عظیم قربانی کے ہم پورے پندرہ لاکھ دیں گے، کبھی دیکھے ہیں پندرہ لاکھ، قاری حسین نے اس سے پوچھا تھا۔ “جی نہیں، کبھی نہیں دیکھے،” حافظ شراکت نے جواب دیا تھا۔ “پندرہ لاکھ لاؤ، اور اسے دکھاؤ،” قاری حسین نے اپنے کسی شاگرد کو حکم دیا اور یوں حافظ شراکت نے زندگی میں پہلی بار پندرہ لاکھ روپے ایک تھیلے میں اکٹھے دیکھے۔

“یہ سب تمھاری بیوی اور بچوں کے پاس جائیں گے، فکر نہ کرو،” قاری حسین نے کہا اور قران پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی تھی۔

—–

زمان و مکان کی قید سے اب وہ آزاد تھا۔ مگر میرا بلاوا کیوں نہیں آ رہا جنت کے لیے، حافظ شراکت نے سوچا۔ اسی بے وزنی کی کیفیت میں باالآخر اسے یکدم بڑی شدت سے سخت جلتی ہوئی زمین پر گھسیٹے جانے کا احساس ہوا۔ اس نے آس پاس دیکھا تو نہایت ہی خوفناک شکلوں والی مخلوق اسکے گرد گھیرا ڈالے اسے بے دردی سے گھسیٹ کے لیے جا رہی تھی۔

میں جنتی ہوں، میرے ساتھ یہ سلوک نہ کرو، حافظ شراکت چلایا۔

تُوجنتی نہیں، جہنمی ہے۔ تُونے اللہ کی دی ہوئی زندگی اپنی مرضی سے ختم کر ڈالی، تُو نے چار معصوم بچے مار ڈالے، تُو نے دو عورتیں، تین مرد اور ایک بزرگ قتل کر ڈالا، تُو، توُ کہاں سے جنتی ہے؟ جواب آیا۔

نہیں، نہیں، تمھیں کوئی غلطی لگی ہے، میں تو پکا جنتی ہوں، مجھے قاری حسین نے خود بتایا تھا، حافظ شراکت نے جواب دیا اور انکے نرغے سے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی۔

قاری حسین جب آئے گا، اسکا اپنا حساب ہو گا۔ ابھی تو تیری پیشی پکی ہے جہنم میں۔ اب تو آگ سے زیادہ دور نہیں، جہاں تو رہے گا، اسے جواب ملا۔

جہنم ٹھکانہ کا سن کر وہ چیخا، اور کہا کہ میں تو جنت کا متلاشی تھا۔ اور مجھ سے یہ کام صرف اللہ کے دین کی بلندی کی خاطر ہی سرزد ہوا۔ میری سن لو۔ قاری حسین سے پوچھ لو۔ اس نے بشارت دی تھی۔میں حافظ ہوں، قران میرے سینے میں ہے، کچھ اسکا خیال کرو۔میری تین بیٹیاں ہیں، میں نے انکی بڑے پیار سے پرورش کی ہے، کیا یہ بھی میرے اور جہنم کے درمیان دیوار نہ بنے گا؟ میرے ساتھ تو جنت کی کنواریوں کا وعدہ تھا، دوزخ کے شیاطین کا نہیں ، حافظ شراکت نے چلا چلا کر منت کی۔

جو مرگئے، وہ بھی کسے کے بچے تھے، ان میں بھی حفاظ اور نمازی تھے، اور تیری طرح اللہ کی رحمت سے مایوس نہ تھے کہ اپنے بچوں کی خاطر دوسروں کے بچوں کو یتیم کرتے پھرتے۔ مگر تیرے سینے میں کسی زمانے میں قران تھا، جو کہ اب نہیں، مگر بتا کہ تیری ایک خواہش پوری ہو سکتی ہے، بول کیا خواہش کرے گا تُؤ؟

حافظ شراکت نے ایک لمحے کے لیے سوچا کہ نامعلوم کتنا عرصہ بیت گیا اسکے مشن اور اسکی اس حالت کے درمیان۔ بےبسی کے عالم میں اسے سکینہ، کلثوم اور عتیقہ بہت یاد آئیں۔ “مجھے اپنی بیٹیوں کو دیکھنے دو کہ کس حال میں ہیں۔ مجھے ان کو دیکھنے دو، میرے جگر کا ٹکڑا ہیں، میں نے ان سے کسی بھی باپ سے بڑھ کر پیار کیا ہے۔ مجھے انکو دکھا دو۔ میں نے دیکھنا ہے۔

اور اسکی خواہش کے مطابق اسے کچھ دیر کے لیے وہی مخلوق زمین پر دوبارہ لے کر آئی۔

—–

حافظ شراکت نے اپنا گھر پہچانا۔ اپنی بوڑھی ہوتی ہوئی بیوی کو پہچانا۔ سکینہ، کلثوم اور عتیقہ کو پہچانا۔ “بڑی ہو گئیں ہیں،” اس نے سوچا اور انکو زور سے آواز دی۔ مگر اسکی آواز نہ سنی گئی۔ پھر اسے اپنے قاری صاحب کا پڑھایا سبق یاد آیا کہ دو مختلف جہانوں کی مخلوقات ایک دوسرے سے عالم اسباب میں بات نہیں کر سکتیں۔ مگر وہ اپنے خاندان کے آس پاس ہونے والی بات سن سکتا تھا۔

یہ، یہ دو مرد کون ہیں، میرے گھر میں اور میری بیٹیوں کے پاس بیٹھا کیا کر رہےہیں؟ اس نے شدید غصہ محسوس کیا اور جیسے ہی وہ قریب گیا تو اسے نے سنا کہ ایک گہرے پکے سانولے رنگ والا دوسرے ذرا امیر دکھنے والے شخص سے کہہ رہا تھا:

او شاہ جی، فکر نہ کریں۔ اصلی مال ہے۔ آپ کو پہلے کبھی کوئی شکایت ہوئی جو اب ہو گی، آپ انکو دیکھیں تو سہی میرے کہنے پر۔ مال پسند نہ آئے تو آپکو جرمانہ دونگا۔

“دیکھ لےبِلے، اس سے پہلے بھی تو نے پچھلے ہفتے ایسی ہی بات کی تھی، مگر مال ٹھیک نہ تھا،” جواب آیا۔

او نا جی موتیاں والیو۔ آپ دیکھیں گے تو آپ بھی کہیں گے یہ تو پوری کی پوری “جنت کی کنواریاں ہیں۔”
حافظ شراکت اس سے آگے اور کچھ نہ سن سکا۔

—–

قاری حسین نے نصیب گل کو دیکھا اور کہا، فکر نہ کر میرے بیٹے، تیری ماں اور باپ کو پورے پندرہ لاکھ ملیں گے، پورے پندرہ لاکھ۔ کبھی دیکھے ہیں پہلے اپنی زندگی میں؟

—-

کہانی ختم ہوئی

Share This:

تبصرے