دیکھیں ابو!

میں یہ خط، آپکو کبھی تحریر نہ کرتی، اگر میں تھکن سے چور ہو کر گر نہ چکی ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ آپ منیر نیازی سے منسوب اک بات کہا کرتے تھے کہ: اے میری ماں، تُو نے مجھے کن زمینوں میں، اور کن زمانوں میں پیدا کر دیا؟ اور یہ بات آپ تب ہی کہا کرتے تھے، جب آپ اندر سے بہت تھک جایا کرتے تھے۔ مگر وہی کہ زندگی کی صلیب اٹھانا ہر اس پر فرض ٹھہرا، تو ہر اگلے روز، آپ سینہ ٹھونک کر دنیا کے میدان میں نکل جایا کرتے تھے۔ منیر نیازی کے کہنے اور اگلے روز اپنے محاذ پر جانے کے درمیان آپکو چند گھنٹوں کی نیند میسر ہوتی  اور دو محاذوں کے درمیان، آپ  کو سانس لینے کا کچھ موقع ملتا۔ آپکا دن ختم ہو جاتا تھا، ابو، مگر میرا دن لگتا ہے کہ ختم ہی نہیں ہو چکتا، اور میرا محاذ ہے کہ مسلسل ہے، میری تھکن ہے کہ مسلسل ہے، میری روح اور میرے وجود پر گھاؤ ہیں کہ مسلسل ہیں، اور میرے کندھوں پر میری زندگی  کی صلیب کا بوجھ ہے، کہ مسلسل ہے، اور اسے اٹھائے ہی پھرتے رہنا ہے۔

فرشتہ بننے کی دوڑ میں مصروف جس معاشرے میں، میں رہتی ہوں، میرے پیارے ابو، مجھے ہر پل گھاؤ سہنے پڑتے ہیں۔ میری ذات کے اوپر پہرے ہیں، میرے خیال پر قدغنیں، میری سوچ پر دباؤ اور میرے وجود پر چیر ڈالنے والی نظریں ہیں کہ ہر دم، ہر پل مجھ سے حساب مانگتی ہیں، مگر مجھے کوئی حساب دیتا نہیں۔ مجھ سے سب کی مختلف توقعات ہیں، اور میں ہوں کہ جیسے مسلسل اک امتحانی کمرہ میں بیٹھی اپنی زندگی کا پرچہ حل کرتے چلے جا رہی ہوں، مگر میرے پاس میرے  چند اک سادہ سوالوں کا جواب ہے کہ ملتا نہیں۔

میری گواہی آدھی ہے، آپ نے کہا تھا کہ اس مسئلہ پر خود ہی قران پڑھو، میں نے پڑھا ہے، اور اسکے حروف میں مجھے پورا انسان بتایا گیا ہے، آدھا نہیں۔ میں لونڈی ہوں، کنیز ہوں، اور میرے ساتھ  مرد ، میرا مالک بن کر مجھے غلامی پر مجبور کر سکتا ہے، اور پھر  اس ضمن میں پہلی  سانس میں  اس  معاملہ پر اسی دینِ فطرت کا حوالہ دیتا ہے  کہ جسکا دوسری سانس میں حوالہ میرے “مردوں سے زیادہ حقوق” کے بارے میں ہوتا ہے۔  مجھے پیٹنے کے معاملہ میں، مقدس کتاب کا حوالہ دے کر، مردوں کی اکثریت مجھ پر برتری کا دعویٰ کرتی ہے، مجھے اپنا تہی دست بناتی  اور بتاتی ہے، مگر جب میں اسی بابت سوال کروں کہ مردوں کو کتنی مرتبہ پیٹنے کا حکم ہے تو فرعوانہ مسکراہٹ سے میرے سوال کو کھڑکی سے اٹھا باہر پھینک دیا جاتا ہے، اور یہ مدعا بتایا جاتا ہے کہ ایسے معاملات پر سوالات نہیں کرتے، سوچتے نہیں، کہ الوہی حکم اور تقسیم ہے، اس کے بارے میں سوچنا بھی مجھے گناہ میں لتھڑ دے گا۔ پاک  اور مقدس لوگ ہیں کہ چہروں پر اپنے اپنے مسلک کی پہچان سجائے بھلے اک دوجے کے گلے کاٹنا  فخر کا مقام سمجھتے ہوں، مگر جب بھی میری بات کی باری آتی ہے تو یہ سب اکٹھے ہو کر، مجھے دبوچنے کے لیے میری جانب اپنے ہاتھ بڑھادیتے ہیں۔ ابو، مجھے انکے اس اکٹھ سے گھن آتی ہے،  مجھے ان سے بدبو آتی ہے، اور میں انکے رستے میں نہیں آنا چاہتی، مگر وہ ہیں کہ میرے رستے میں دیوار پر دیوار بنائے چلے جاتے ہیں۔ میں ہوں کہ ہر دیوار توڑتی اور ٹاپتی چلی جارہی ہوں، مگر سچ کہوں گی کہ  میرے جسم سے جڑے اس  مردانہ تصور کو کہ جسکو دینِ فطرت کی تقدیس کا لبادہ اوڑھا  کر حکمِ الہی بنا دیا گیا ہے، مجھے  میرے سوالوں کی قبرمیں دفن کیے چلے جا رہا ہے۔ کبھی کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ میں اس قبر میں اک مردے کی مانند لیٹی ہوں، اور سوالوں کی اس کالی مٹی کو اپنے اوپر سے ہٹا کر باہر نکلنا، شاید ناممکن ہوتا چلا جا رہا ہے کہ کہیں سے جواب نہیں مل پاتا کہ میں انسان ہوں، یا کوئی شےء ہوں؟ میرے پاس میرا حق کیا صرف  وہی ہے جو مرد اپنی معاشرتی اور صنفی زکوٰۃ سمجھ کر میری جھولی میں ڈالتا چلا آیا ہے، یا حقوق کے اس دائرے میں، میرا بھی کچھ ہے؟

میرے پیارے ابو، میں تھکن سے چور ہوتی چلی جا رہی ہوں، شاید ہو چکی ہوں۔ تھکن اتنی ہے کہ اب اسکا احساس بھی باقی نہیں۔ اک گنگ اور سُن  کر دینے والی سی کیفیت ہے کہ جس میں میں خود کو گھسیٹے چلی جا رہی ہوں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ میرے آس پاس کے سارے لوگ، مجھے میرے بالوں سے گھسیٹے چلے جا رہے ہیں،  اور میں صرف زندہ رہنے کی خاطر خود کو گھسٹواتے ہی چلے جانے میں مجبور ہوں کہ چلو، کم از کم سانس تو آ رہا ہے نا۔ مگر زندگی بھی ساتھ میں گزرے چلے جا رہی ہے۔ گزر گئے، اور گزرتے اس وقت کا میں کس سے حساب مانگوں؟ کیا میں اپنی مرضی سے اس دنیا میں آئی؟ کیا عورت ہونا، میں نے اپنی مرضی سے اپنی ماں کے پیٹ میں چُنا؟  اپنے سر میں اک  سوچنے والا دماغ کا میری تخلیق ہے، اور اگر مجھے اپنے دماغ کے ہونے کا معلوم ہے تو سوچنا  اور سوال کب سے کیونکر جرم ٹھہرا؟

چیخیں اتنی ہیں کہ شمار نہیں، آپ بھی تو نہیں کہ جس سے کہہ سکوں۔ آپ منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں، اور یہی پاک اور مقدس لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں آپ سے ملنے بھی نہیں آ سکتی۔ آپ  پر پڑے مٹی کے اس ڈھیر میں ہاتھ پھیر کر، اس ڈھیری کو اپنے بازوں میں سمیٹ کر، یا اسکے اک طرف سمٹ کر لیٹ کر یہ تصور بھی نہیں کرسکتی کہ میں آپکی گود میں محفوظ ہوں۔ میرے ابو، میں بہت غیرمحفوظ ہوں۔ آپ مجھے سوال کرنا اور سوچنا کیوں سکھا گئے؟

اپنے ذہن، وجود، خیال، سوچ، روح، اور فکر پر جب لوگوں کی نظروں اور انکے خیالوں کے چرکے سہتی ہوں تو آپ کا کہا ہوا ٹھیک لگتا ہے کہ: اے میری ماں، تُو نے مجھے کن زمینوں میں، اور کن زمانوں میں پیدا کر دیا؟

کیوں پیدا کر دیا؟

Share This:

تبصرے