جنرل راحیل شریف صاحب کے نام کُھلا خط

جنابِ من: انٹرنیٹ کی بہت ساری موجیں ہیں۔ ایک موج یہ بھی ہے کہ چاہے مخاطب پڑھے نہ پڑھے، آپ کسی کو بھی  مخاطب کر سکتے ہیں۔ میں تو پہلے ہی کہتا ہوں کہ مجھے میرے ساتھ کے گھر میں رہنے والا ہمسایہ نہیں جانتا، آپ کیا جانیں گے، کہ آپکو تو ساری دنیا جانتی ہے، اور جسے ساری دنیا جانے، اسے کسی دوسرے کو جاننے کی ضرورت ہی پیش کیوں آئے بھلا؟

آپ پاکستان کے ایک طاقتور ادارے کے سربراہ ہیں، اور آپکے ادارے کی سیاسی غلطیاں اور قربانیاں، دونوں پاکستانی تاریخ کی حقیقت ہیں۔ مگر سچ یہ بھی ہے کہ میں نے بھی ، بحیثیت اک شہری،  کئی سطحوں پر قربانیاں دیں ہیں۔

آپکے ادارے کی تزویراتی چالوں کا ازالہ اپنے خون سے کیا،  حال ہی میں دلیپ ہیرو کی کتاب، دی لانگیسٹ آگسٹ، میں پڑھا کہ 1987 میں تمام دنیا میں ہونے والے بم دھماکوں کا 50٪ صرف پاکستان میں تھا، جو افغانستان میں بیٹھی را، موساد اور خاد پاکستانی پالیسیوں کے نتیجے میں جواب کے طور پر کروا رہی تھیں۔ ہزاروں تب بھی مارے گئے، اور پھر “جنرل سب سے پہلے پاکستان صاحب” کی پالیسیاں اس ملک کے کوئی ستر ہزار شہریوں کا خون پی گئیں۔ موصوف خود اک عدالت کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں، ویسے۔

جبکہ سیاسی غلطیوں کا ازالہ اپنی تمناؤں کے مسلسل کچلے جانے سے کیا کیونکہ، پاکستان کی سیاست میں آپکے ادارے کےلگائے گئے پودے ہی ابھی ، اور مسلسل پھل دے رہے ہیں۔ بھٹو، جنرل ایوب کی پنیری تھے، انہیں “ڈیڈی” کہتے تھے۔ نواز شریف، جنرل جیلانی و جنرل ضیاء کی مشترکہ پنیری رہے، اور جنرل ضیاء نے نواز شریف کو اپنی عمر بھی لگ جانے کی دعا دی اور کچھ ایسا ہی معاملہ محسوس بھی ہوتا ہے۔ حال ہی میں  ابھرنے والے، اور دنیا کے تمام عوارض، گناہوں، قباحتوں، آلائشوں اور ذاتی اور مالی کرپشن سے مکمل طور پر پاک، حضرت عمران خان مدظلہ علیہ کا تحفہ بھی آپکے ادارے کی ہی دین ہے۔ بس ایک کسر جو باقی رہ گئی انکے بنانے والوں سے کہ وہ آب زم زم کا چشمہ بنی گالہ سے جاری نہ کروا سکے، باقی تمام پاکیزگیاں تو بدرجہ اُتم پیش فرما دیں حضرت میں۔

جماعت اسلامی ایک عظیم سپہ سالار کہ جن کے کریڈٹ پر  اپنا ملک توڑ کر اک نیا ملک بنانا  بھی شامل ہے، کو امیرالمؤمنین بن جانے کا مشورہ دیتی رہی، اور یہ مشورہ، جناب والا، باہمی محبت و قربت کے بغیر تو ممکن نہیں ہوتا۔ ایم کیو ایم، جو آجکل کراچی آپریشن میں ماتم کنا ں ہے، اسی کے ساتھ  جنرل کمانڈو صاحب کی قربتیں اک طویل داستان ہیں اور اسی نو سالہ دور میں  ، اور بعد میں اسی دور کے تسلسل میں،کراچی کی تاریک گلیوں میں کتوں اور بلیوں کی طرح قتل کر دیئے جانے والے پاکستانی شہریوں کی ہزاروں لاشیں  بید اور بندوق کے خوف سے شاید سوال بھی کرنے سے کترا  رہی ہیں۔ کتےاوربلیاں مگر کم از کم بھونک اور میاؤں تو کرسکتےہیں۔

“ہمارےاثاثے” جب تک کشمیر اور افغانستان میں خونریزی کرتے رہے، پاکستان کے بہت سارے  “نامور” صحافی، جن میں بنگلہ دیش میں کچھ سال پہلے ایوارڈ پانے والے اک میرِکاررواں ، تمنائے ناتمام کے استاذی خلیفہ اور قوم کو کل تک کی خبریں سنانے والے کہانی گر، بھی شامل ہیں،  ان اثاثوں اور انکے رہنماؤں کو اپنے اخبارات میں اداراتی اور  فرنٹ پیج کی زینت بنا کر لوگوں کی ذہن سازی اور اک متشدد قومی بیانیہ تشکیل دیتے رہے۔ یہ سلسلہ تب تک کھلے عام جاری رہا کہ جب تک  اک بھگوڑا میل فوجی نرس، عقیل عرف ڈاکٹر عثمان جی ایچ کیو میں نہ گھُسا اور اس وقت کے سپہ سالار، جنرل  اشفاق پرویز کیانی کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔ للعجب کہ عقیل کو منوانے کے لیے بھی اسی کی برادری کے اثاثوں کا سہارا لیا گیا، کہ جن میں سے ایک کو حال ہی میں مظفر گڑھ کے قریب  انکی دلی خواہش، یعنی انکے بقول، سفرِ جنت پر روانہ کردیا گیا۔

مگر اس تمام سینہ کوبی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ آپکی ادارہ جاتی قربانیوں کو میں اپنا خون نہیں سمجھتا۔ میں عمر کے تینتالیسویں سال میں ہوں جناب۔ سوات، کراچی، وزیرستان، مہمند، باجوڑ، تیراہ، مشکے، حب، ڈیرہ بگٹی میں لڑنے والے سپاہی میرے ہی بچے، میرے  ہی بھائی ہیں۔ سیاچن میں ڈٹ کر کھڑے، بہاولنگر کی شدید تپتی دھوپ اور ریت میں تن کر وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے، میرے ہی بچے، میرے ہی بھائی ہیں۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ ایک متشدد بارڈر پر عین اس وقت، کہ جب میں یہ سطور تحریر کررہا ہوں، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر روز شہید ہونے والے، میرے ہی بچے، میرے ہی بھائی ہیں۔  بھارت کے ساتھ، سیالکوٹ سے شروع ہونے والی ورکنگ باؤنڈری، اور پھر جموں و کشمیر کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر موجود، اپنی شہادتیں دے کر وطن کا پرچم تھامے اور وہاں کی مٹی کو اپنے خون سے رنگ دینے والے، میرے ہی بچے، میرے ہی بھائی ہیں۔ دفاع کے بغیر، جدید قوم کا تصور ممکن نہیں۔

لوگ فیشن میں یورپی اقوام کی مثالیں دیتے ہیں، مگر چھوڑئیے کہ موئے کفار سے کیا سیکھنا یا موازنہ کرنا، سچ مگر، بقول بروس رائیڈل کے،  یہی ہے کہ پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جو بیک وقت دو بارڈر ڈسپیوٹس میں الجھی ہوئی ہے۔ اک جانب سر پر چڑھتا بھارت ہے، کہ جو شاید قومی برابری کی بنیاد پر امن کی خواہش نہیں رکھتا تو دوسری جانب  ہلکی پھلکی مگر مسلسل ضربیں لگاتا افغانستان ہے۔ ایک کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ، تو دوجے کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کا قضیہ ہے۔ پاکستان اس خطے میں، پھر بقول بروس رائیڈل کے، اک نارمل ریاست نہیں۔ اس پس منظر میں، مجھے بحیثیت پاکستانی شہری، آپکے ادارے کی مضبوطی، صحت، طاقت، اور دلیری پر نہ صرف کوئی اعتراض نہیں، بلکہ فخر ہے۔ میں اس فیشن ایبل ڈسکورس کا حصہ نہیں جو  ازل سے لے کر ابد تک ہونے والے تمام کائناتی مسائل کا منبع آپکے ادارے میں تلاش کرتے ہیں، مگر میں اسی ڈسکورس کی دوسری جانب کا حصہ بھی نہیں جو آجکل “شکریہ راحیل شریف” کی مسلسل تسبیح کرتے ہیں۔

میں بھی شکریہ راحیل شریف کا قائل ہوں کہ اگر آپ اک سپاہی کی مانند  ڈٹ کر اس ملک کا دفاع کریں۔ بحیثیت سپہ سالار اپنے ادارے کو ہمارے سروں پر دفاع و حفاظت کی چھتری کےطور پرقائم رکھیں۔ بحیثیت فیصلہ ساز، اپنے ادارہ جاتی میکنزم کو سیاسی معاملات سے پاک کروا دیں۔ کوشش کریں کہ آپکا پورا ادارہ، اک پروفیشنل میکینزم کے مطابق چلے، چلتا رہے، نہ کہ سپہ سالار اپنی ذاتی  مرضی کے مطابق کبھی پورا ملک  انڈسٹرلائز کرتا پھرے، پھر  سیاسی معاملات کو فوجی تناظر میں دیکھ کر ملک توڑتا پھرے، پھر ایک دم سے ہڑبڑا کر اٹھے اور اسلام کو خطرے میں دیکھ کر، ہر کسی کو گیارہ سال مسلمان کرنے کے درپے ہو، اور بعد میں بغلوں میں اپنے کُتے،  ڈاٹ اور بڈی دبا کر آئے اور پھر دس سالوں کے بعد، پوری قوم کو ڈاٹ اور بڈی بنا کر چلتا بنے۔ آپکا ادارہ صرف آپکا ہی نہیں، میرا بھی ہے۔ میں تو بحیثیت  پاکستانی شہری، آپکے ادارے کو اون کرتا ہوں اور اس دن کا منتظر ہوں کہ آپکا ادارہ بھی مجھے بحیثیت پاکستانی شہری، اون کرے گا، نہ کہ اپنی تزویراتی چالوں کا چارہ سمجھے اور استعمال کردیا جانے والا اک پیادہ جانے۔

آپ نے ڈٹ کر اپنے ادارے کی قیادت کی ہے جناب۔ آپ نے اپنا کردار اپنے تئیں بہترین طریقہ سے ادا کیا ہے۔ آپ کی کمانڈ میں پاکستانی دفاعی اداروں نے  پاکستان میں بےشمار کامیاب آپریشن کیے ہیں، کہ جس کے نتیجے میں آج میرے وطن کی گلیوں میں کچھ امن ہے۔ آپ اپنا سپاہیانہ کردار ادا کیجے، کرتے رہیئے اور پھر وقت آنے پر اک آنرایبل طریقہ سے اپنی کمان کی چھڑی، آنے والے نئے سپہ سالار کے حوالے کیجیے کہ جسکی تقرری، ریاست پاکستان کے  انتظامی سربراہ، وزیراعظم پاکستان کریں گے، اور اپنے ادارے کو  نئی قابلیت کے  حوالے کر کے، تاریخ میں اپنا نام رقم کر کے اپنی زندگی کا اک نیا باب شروع کیجیے۔ ادارے کو ادارے کی طرح ہی چلنا چاہیے اور اسکی پالیسیاں اک فردواحد کے تبخیری خوابوں کی محتاج نہ ہوں۔ ایسا ہو، تو ہی بہتر ہے کیونکہ بحیثیت پاکستانی شہری، میں نے ابھی بمشکل  خود کو ڈاٹ اور بڈی سمجھنے کے احساس سے باہر نکالنا شروع کیا ہے۔

جنرل راحیل شریف صاحب، آپکا بہت شکریہ۔

پاکستان زندہ  باد۔

دعا گو،

مبشر اکرم

Share This:

تبصرے