سویرا، جو حسِیں سوچوں کا قاتل ہے!

شب بھر تجھے سوچنا

اور پھر صبح کچھ اور

سویرا

یہ کیسا سویرا ہے

جو حسیں سوچوں کا قاتل ہے

اس کے ہونے تک کرنا تجھ سے گفتگو

اور اس کے ہوتے ہی

ہم میں جیسے یہ حائل ہے

اسکو تو مداواِ ظلمتِ شب ہونا تھا

اور یہ ہے کہ اور بھی باعثِ یاسِ دل ہے

دمِ صبح ہی تم،

مٹتی دھنک کے جیسے

مدھم سی ہو جاتی ہو

میری سوچ کے پردے پر نہیں رہتی

پسِ منظر میں کہیں کھو جاتی ہو

اور

کئی غم اور چلے آتے ہیں

صبح صبح سڑک پے

ننگے پاؤں کوڑا چنتے بچے

تار تار آنچلوں میں

آدھی ڈھکی

بھیک مانگتی

حوٌا کی بیٹیاں

بیساکھیوں پر تنے

ابنِ آدم کے آدھے تن

شکستہ بدن

بریدہ من

اور دیدہِ نمناک لیے

چلے آتے ہیں کتنے غم

راہوں کی خاک لیے

ہمیں تو کہا گیا تھا یہ

’’چند اور فقط چند ہی روز‘‘

مگر یہ کیا

کہ اندھیروں سے بھی سوا

یہاں اُجالے ہوئے ہیں

قلم پابند ہیں سارے

اور زبانوں پے تالے ہوئے ہیں

کوئی نہیں جو بتلائے

پیغامِ صبحِ صادق لے کر آئے

اُمیدِ نویدِ سحر بنے

سچے سویرے کی راہ دکھلائے

وہ سویرا کہ جس سے ہوں

جہانِ غم کے، غم تمام

دکھ درد اور الم تمام

جس سے ہو ہر شے مکمل

جسے ہوں دونوں

ہم تم تمام

Share This:

تبصرے