عمر کی چوٹی سے زندگی کی وادی کو اک خط

میری پیاری “ت:”

آج میری سالگرہ ہے۔ چودہ ستمبر، سنہء 2042 ہے۔ آج میری عمر کی گھڑی نے سترہواں چکر پورا کرلیا۔ میں اتنا، بلکہ اس سے بھی لمبا جینا چاہتا تھا، بس یہ کہ اگر تم میرے ساتھ، میرے پاس، میرے کمپیوٹر ٹیبل کی اس کرسی کے ساتھ کھڑی ہوکرمیرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جھک کر یہ دیکھ رہی ہوتیں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔ حقیقت مگر آج یہ ہے کہ تم میرے ساتھ، میرے پاس نہیں ہو، پچھلے کئی سالوں سے، اور مجھے، میرا خدا جانتا ہے، کہ لمبی عمر کی خواہش ہی باقی نہ رہی۔ تمھارے بغیر، بس اک وجود ہے، اک ذات ہے کہ  جسے گھسیٹے پھرتا ہوں۔ اپنے ہاتھ میں تمھاری دی ہوئی اک انگوٹھی باقی ہے، جس کو چُھو کر یہ سوچتا رہتا ہوں کہ تمھارے ہاتھ میں کیا میری وہ انگوٹھی ابھی بھی موجود ہوگی، اور کیا تم میرے ہاتھ کا لمس مِس کرتی ہوگی، جو میں تمھارا ہاتھ تھام کر، تمھاری رِنگ فنگر کی جڑ میں اس انگوٹھی کو چھوتے ہوئے، گویا تم پر اپنی ملکیت جمایا کرتا تھا۔ نجانے تم کہاں ہو، اور  اس وقت کیا کر رہی ہوگی، کہ جب  میں بھری آنکھوں اور خالی دل میں تمھاری صورت لیے اکیلا، بہت اکیلا، بہت ہی اکیلا بیٹھا ہوا ہوں۔ بہت اکیلا، “ت،” بہت اکیلا!

بارش ہونے کا موسم  ہو رہا ہے۔ آج صبح ٹی وی پر خبروں میں دیکھا کہ شام چھ بجے کے آس پاس بارش برسے گی، یا کم از کم مجھے اپنی ٹوٹی پھوٹی سپینِش میں یہی سمجھ آئی۔ تم حیران ہورہی ہو گی کہ میرا سپینِش سے کیا تعلق بھلا؟ تم تو حیران بھی بہت پیارا ہوتی تھیں، مجھے یاد ہے، تو تمھیں بتاتا چلوں کہ ملکوال، اسلام آباد، اور پاکستان، اب کہیں دور، بہت دور رہ گئے ہیں۔ تمھیں یاد تو ہوگا کہ تمھیں بتایا تھا کہ مجھے  جنوبی امریکہ، پرانا اور مشرقی یورپ بہت فے-سینیٹ کرتا تھا، اور کبھی خیال کیا تھا کہ زندگی کے آخری سال، تمھارے ساتھ انہی دونوں خِطوں میں سے کسی ایک میں گزاروں گا۔ تمھیں اپنے ساتھ بوڑھا ہوتا دیکھوں گا، اور تمھارے چہرے پر نمودار ہونے والی ہر نئی  لائن میں اپنے ساتھ گزارے ہوئے ماہ و سال کی تصویریں اور یادیں دیکھ کر مسکرایا کروں گا، اور تمھارےہاتھ کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسا کر، کہ جیسے ہمیشہ سے ہی کیا کرتا تھا، دوسرے ہاتھ سے تھامے ہوئے ہاتھ کی پُشت کو تھپتھپا کر وہی کہوں گا کہ جو ہمیشہ سے کہا کرتا تھا: واچ می!

میں جنوبی امریکہ آن پہنچا، ہوں میری دوست۔ کولمبیا کی “کوکورا”  وادی کے اک پہاڑ کی  ڈھلان پر دو کمروں کا اک گھر ہے، اک سِٹنگ ایریا ہے جسکے اک کونے  میں بک شیلف ہے، ساتھ ہی میں اک چھوٹا سا بار ہے، جس میں وائن رکھی ہوتی ہے، مگر تم فکر نہ کرو، کم کم ہی پیتا ہوں، ویسے بھی وائن ابھی اس عمر میں، کہتے ہیں، کہ دل کو چلاتی رہتی ہے۔ خالص کولمبیا کی کافی بھی ہے میرے پاس۔ تمھیں کافی کی خوشبو بھی بہت پسند تھی۔ مجھے یاد ہے۔

میں ہر صبح اپنے برآمدے میں بیٹھ کر، اپنے گھر کے سامنے کی ڈھلان کے اختتام پر اک چھوٹا سا قصبہ دیکھتا ہوں کہ جس کے گھر ساتھ ساتھ نہیں جڑے ہوئے، ہلکے سرخ رنگ کی چھتیں ہیں، اور پورے دن میں شاید گن کر کوئی چار یا پانچ کاریں گزرتی ہیں۔ صبح کے وقت کافی پیتے ہوئے، میں اس لمحہ کو یاد کرتا ہوں کہ جب دسمبر کے مہینہ میں تم سے پہلی ملاقات ہوئی تھی، اور ہم نے کافی اکھٹے پی تھی۔ اس کافی میں خاص بات بس یہی تھی کہ تم ساتھ تھیں، وگرنہ وہ کافی تو روز ہی پیا کرتا تھا۔ ابھی کولمبیا کی اصل، اور خود اپنے ہاتھ سے روسٹ اور گرائنڈ کی ہوئی کافی کی اپنی مہک بھلے ہے، تمھاری مہک کہیں اس گزرے وقت میں گم ہو گئی۔ وقت میں بھلے گم ہوگئی ہو، میرے وجود اور میری یادیں تمھاری  مہک کے  ستون  کے گرد ہی  چکر لگاتے رہتے ہیں، تھکتے نہیں۔ بالکل ویسے ہی کہ جیسے میں بہت لمبے پل تمھیں سوتے ہوئے دیکھ کر نہ تھکتا تھا۔ تمھارے چہرے پر اپنا ہاتھ نرمی سے پھیرتے ہوئے، تمھارے کانوں کی لو سے ہلکے ہلکے کھیلتے ، اور تمھارے کانوں سے، گالوں سے ہوتے اس چھوٹی سے ناک کی نتھلی کو اپنے انگلیوں تلے محسوس کرتے، کبھی نہ تھکتا تھا۔ یہ سب نجانے کہاں کھو گیا۔ یہ سب کھو گیا ہے، “ت،” اور میں تھک گیا ہوں، بہت تھک گیا ہوں۔ اک ذہن ہے، اک وجود ہے، اک روح ہے، اور ان سب پر تمھارے، میرے ساتھ نہ ہونے کا ایورسٹ ہے، مِٹھی، اور یہ سب مجھے کچلے جاتے ہیں، مسلسل، ہر روز، اور مجھے کچلتے ہوئے، یہ کبھی نہیں تھکتے۔ تم ساتھ ہوتیں، تو مجھے اپنے بازؤں میں ویسے سمیٹ لیتیں، کہ جیسے میں زمانے سے لڑ، تھک، اور ہار کر آتا تھا، اور تمھارے گلے لگ کر پھر سے اس لڑائی کے لیے تیار ہو جاتا تھا، جو مجھ جیسوں کی قسمت میں شاید انکی پیدائش سے بھی پہلے لکھ دی جاتی ہے۔

تم تو جانتی ہی ہو، دوست کہ مذہب، قسمت، مقدر اور دیگر معاملات پر میرا یقین واجبی ہی تھا۔ اب بھی واجبی ہی ہے۔ تم میری زندگی میں اس وقت آئی تھیں کہ جب میں بہت سے عذابوں کے گرداب میں تھا۔ تم اپنے عذابوں کے گرداب سے تھپیڑے کھاتے کھاتے، مجھ سے آن ملی تھیں۔ میں یہ تو نہیں جانتا کہ میں نے تمھاری زندگی کی کلفتیں کم کیں، یا نہ کیں، مگر تم نے اپنے ہاتھوں کے لمس، وجود کی خوشبو، ماتھے پر اپنے بوسے سے مجھے میرے عذاب سے نکال باہر کیا۔ اب عمر کے ستر سال دیکھ چکا، کولمبیا میں ہوں اور مجھے میریانہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ تم غصہ مت کرنا کہ تمھیں کسی اور کی جانب میرا دیکھنا بھی برا لگتا تھا۔ میریانہ ہفتے میں اک دن آکر گھر صاف کرکے پورے ہفتے کا کھانا پکا کر محفوظ کر دیتی ہے،  اور پہاڑ کی اس ڈھلان پر مجھے کسی پاکستانی مُلا  کا کوئی خوف نہیں۔ تو کہنا یہ ہے کہ مجھے مقدر، قسمت نے کیا بچانا تھا، تم نے بچایا تھا۔ مقدر، قسمت سے تو میں لڑتا ہی رہا، تم سے لڑ ہی نہ سکتا تھا، کہ تم تو مجھے بچانے والی تھیں۔ بچا کر سمیٹ لینے والی تھیں۔ تم نے بچایا بھی، سمیٹا بھی، ساتھ بھی دیا، سنبھالا بھی۔ آؤ، خدارا  آؤ، اور دیکھو کہ اب میں پھر اپنے عذابوں میں ہوں، میں پھر اپنی ذات کی اذیت کے گرداب میں ہوں، مگر تم نہیں ہو۔

مجھے اب کون سنبھالے گا، کون بچائے گا؟ اسی لیے تو کہا کہ اپنے وجود اور اپنی ذات کو گھسیٹے پھر رہا ہوں۔

بادل ابھی گرجا ہے “ت،” اور لگتا ہے کہ آج کوکورا وادی کے اس پہاڑ کی ڈھلان پر بہت کھل کر بارش ہوگی۔  بادل آج بہت بھرے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ تمھیں آج یہ خط لکھتے ہوئے، جو تم کبھی نہ پڑھ پاؤ گی، یہ خط جو تمھیں کبھی نہیں مل پائے گا، میری آنکھیں بھی بھر آئی ہیں، “ت۔” میں آج پھر رو پڑوں گا۔ اکیلا مرد ہوں۔ کوئی آس پاس نہیں، تو رونے کی عیاشی کر لیتا ہوں۔  تمھارے سامنے بھی بکھر جایا کرتا تھا تو، ہمیشہ کی طرح تم اپنے بازؤں سمیٹ کر میرے سر کی پُشت سہلاتے ہوئے، اپنے ہونے کی تسلی اور اپنے وجود کا یقین دیا کرتی تھیں۔آج یہ کون کرے گا؟

اور آج، میں ہوں،  کوکورا وادی کے اس پہاڑ کی ڈھلان پر  دو کمروں کا گھر ہے۔ سِٹنگ ایریا میں لکڑیاں سلگ رہی ہیں۔ وائن کا اک گلاس ہے۔ پرانی کتابوں کی خوشبو ہے۔ میرے من کی مٹی  پر یادوں کی بارش  برس  رہی ہے، اور تمھاری خوشبو ہے کہ  خس کی طرح  مجھے معطر کرتی بھگوتی جا رہی ہے۔ میری زندگی میں وہ سب ہے اس وقت کہ جسکی تمھارے ساتھ رہتے ہوئے کی خواہش کرتا تھا۔ تمھیں یاد تو ہوگا نا؟ مگر  “ت،”  کمی بس تمھاری ہے۔ تمھارے بغیر میں اکیلا ہوں۔ بہت اکیلا ہوں۔

اکیلا  رہ گیا ہوں، تو آج تمھیں یاد کرتے کرتے، اور  شاید چند آنسو بہاتےہوئے، سو جاؤں گا۔ میرے خواب میں تو آؤ گی نا؟

پلیز!

Share This:

تبصرے