عورت، اور صدیوں کی چیخ کا مستقل دائرہ

میرا نام “عورت ” ہے۔ کہانی میری پیدائش سے بہت پہلے شروع ہوتی ہے ۔

شاید میری اماں یا پھران کی والدہ کی پیدائش سے بھی پہلے سے پنپتی اس داستان کو ہزاروں زاویوں سے لکھا جا چکا ہوگا۔کیسا عجب معاملہ ہے کہ صدیاں گزر جانےکے باوجود بھی بنیادی معاملات میں قلیل کمی بیشی کے بعد کہانی یوں ہی ایک رہٹ کی مانند چلتی چلی جا رہی ہے۔ اور نجانے کب تلک ایسے ہی چلتی رہے گی!

میرا جنم اپنے ددھیال اور ننھیال کی اگلی نسل کے پہلے بچے کے طور پر ہوا تھا۔کیسا لمحہ ہوگا کہ جب ہندؤوں کے دور کی بنی اک عمارت کے تہہ خانےمیں دائی ماں نے ایک گل گوتھنا وجود ساڑھے پندرہ سال کی لڑکی کےپہلومیں یہ کہتے ڈالا ہوگا کہ “بیٹی، دھی رانی آئی ہے، رحمت اتری ہے ۔” سنا ہے اس لمحے میری ماں کی دادی نے اپنے پلو سے آنسو پونچھے تھے کہ “ہائے ! میری پھولوں جیسی پوتی ایک بیٹی کی ماں بن گئی۔آج سے جہیز کی فکر شروع ہوگئی۔” اور ایک سرد آہ کھینچی تھی۔ آج بھی حیرت ہوتی ہے کسی کو یہ دُکھ نہ تھا کہ سولہ سال سے بھی کم عمر بچی اب ماں بن گئی بلکہ غم تھا تو یہ کہ بیٹی آگئی ہے۔ابا بھی یہی کوئی ساڑھے اکیس بائیس برس کے تھے۔اور یونہی ایک بار دل پر گھونسا سا پڑا تھا جب انہوں نے کہا تھا “سلکھی (جمعدارنی) نے لڈوکھاتےکہا تھا کہ: دھی آئی تے ویہڑے جوائی!” اور پھر اگلے ہی سال اُس سولہ برس کی ماں نے ایک حسین بیٹے کو جنم دیا۔

ددھیال نے پوتی کی پیدائش پر لڈو بانٹے تھے۔دادا نےہمیشہ پوتی کوگود اٹھایا اور ایک برس چھوٹے پوتے کا ہاتھ پکڑتے۔ لوگ کہتے تھےکہ “بابوؤں کے گھر پوتی کو بہت مان دیتے ہیں۔”

مگر اسے اپنی پھوپھیاں یادہیں جو شام کو تَوی لگا کرپھونکنی سےلکڑیاں سلگاتے، دھوئیں میں آنسو پونچھتے ڈھیروں ڈھیرروٹیاں پکایا کرتی تھیں۔اور رات کو لالٹین کی روشنی میں صبح کے امتحان کی تیاری کرتیں۔بقول ابا کی پھپھو ، اِن لڑکیوں کا پڑھ لکھ جانا ہی اچھے رشتوں کی تلاش میں حائل تھا۔ قطع نظر اس کے کہ برادری ازم دادا کا پیچھا نہیں چھوڑ پایا تھا مگر بیٹیاں پڑھتی چلی گئیں۔ہاں مگر بیٹی کی کمائی کھانے کاطعنہ ایسا سخت گیر تھا کہ انہیں کبھی نوکری کی اجازت ہی نہ ملی۔بہرحال شادی تو ہونا ہی تھی۔بہت کچھ کمپرومائز کرکے ہو ہی گئی۔

خاندان کی اگلی نسل کی عورت نازوں پلی پوتی، جسے پڑھنے کی بھرپور آزادی تھی مگر کچھ مضامین، موضوعات اور بہت سی کتب کے علاوہ کہ وہی بےراہ روی کے خیالات کے حوالہ جات اور مردانہ غیرت کا کوڑا کہ جو مرد اپنے ہاتھ میں ہر وقت سجا کر رکھتا ہے۔

بےچین روح مگرروزِ اول سے ہر وہ کام کرتی چلی گئی جس سے منع کیاجاتا رہا۔الجبرا اور انگریزی گرائمر دادا سے ایسا سیکھا کہ پھرچپکےسے زندگی کی پہلی کمائی ٹیوشن فیس کی صورت ڈیڑھ سوروپیہ پڑوس کی بچی کوپڑھاتے وصول کی۔طوفان جانتے ہیں کب کھڑا ہوا؟ جب اسی بچی کے بارہ سالہ بھائی کو ٹیوشن پڑھانے بٹھایا۔اور اس روز احساس ہوا کہ پھپھو کی نشست پر چپکے سے ہی سہی مگر زبردستی بٹھا دیا گیا ہے۔بہت مضبوط دکھائی دینے والی وہ لڑکی کہ جسے گھر کے اندر سے ابا موٹر بائیک پر بٹھاتے اور سکول کالج سے واپسی پر گھر کے صحن میں ہی آکر اتارتے۔ہونق بنی لڑکیوں کے پبلک ٹرانسپورٹ کے رونے سنا کرتی۔

وقت چلتا رہا کہ ایک باغی عورت نے مرضی کے مضامین ضد میں ہی سہی پڑھ کر دکھادیے تھے۔اور پوسٹ گریجویٹ کے لیے جس مضمون کا ارادہ تھا اس کے لیےتو بہت رقم کی ضرورت تھی۔جو فی الحال مڈل کلاس گھرانہ افورڈ نہ کرسکتاتھا۔

ماں نے اپنی سونے کی چوڑیاں بیچ دی تھیں۔بھائی کو اچھےنام والے پرائیویٹ کالج میں داخلہ لینا تھا۔بیٹا پڑھے تو سارے گھر کو کھلاتا ہے تو بس اس کی تعلیم پر لگا سرمایہ واپس ہی تو آنا تھا۔

مگر اسی ضدی عورت نے دو سال گھر سنبھالا،کینسر کی مریضہ ماں کو لے کر دھکے کھائے۔ٹیوشنز پڑھائیں۔اسے یادہےکہ دوسرےہی مہینے ابا نےٹیوشن فیس سے حاصل ہوئے اٹھارہ ہزار لینےسے انکار کردیا کہ بیٹی کی کمائی نہیں کھانی۔ہاں مگر اسی رقم سے ماں کی کیموتھراپی اور دیگراخراجات پورے کردیے۔شام کی کلاسز سے تعلیم کا سلسلہ پھرسےجوڑ لیا اور پھرایک روز سکول میں نوکری بھی کرڈالی۔ابا اس بار سختی سے انکار بھی نہ کرپائے کہ حالات ہی ایسے تھے۔بس یہ ہوا کہ لانے لیجانے کی ذمہ داری پھر ابا ہی کے کندھوں پر تھی۔سینئر سیکشن میں لڑکوں کو پڑھاتے اسے اکثر خیال آجاتا کہ اگر گھر والوں کو خبر ہوجائے کہ “جوان” لڑکوں کو پڑھا رہی ہے تو کیسی درگت بنے خاندان بھر میں۔اس خیال کے آتے ہی ہر طالب علم بیٹا/بچہ ہی بنتا چلا گیا۔ گویا “محرمی” رشتے ہی پڑھانے والی عورت کی تقدیس کی ضمانت ٹھہرے۔

سٹاف روم کی سیاست اور قصے کہانیوں سے دور اسے فرصت ہی نہ ملتی کہ کبھی کاپیاں چیک کرنےاور ٹائم ٹیبل بنانے کے علاوہ ارد گرد بھی جھانک سکے۔ عجب عورت تھی۔سب کی دوست،سب کی سامع مگر پلٹ کر نہ سوال نہ کرید یاٹوہ، بس یہ کہ یہاں بھی کچھ نظروں کو سرزنش کرنے کا خمیازہ استعفیٰ کی صورت بھگتنا پڑا۔ وہ اپنی حدود سے آگاہ تھی۔

پڑھنے اور پڑھانے کے سوا اس کی زندگی کا تیسرا محور باورچی خانہ تھا۔دراصل اس کی پناہ گاہ بھی یہی کونہ تھا کہ جب خاندان کی عورتوں کا محبوب مشغلہ اس کی ہم عمر لڑکیوں کی شادیاں،ازدواجی و زچگی کے معاملات کو سرگوشیوں میں چسکے لے کر جتلانا ہوتا۔ مقصد ان کا یہ بھی ہوتا کہ اتنا ہی پڑھا جائےکہ برادری میں سے کوئی اچھا رشتہ مل جائے۔

وہ بھی کیا کرتیں، کہ ضرورت سے زیادہ پڑھ لکھ جانے والیاں کبھی اچھی بہو بنتے نہ دیکھی تھیں اور اب تو نوکری اور لڑکوں کو ٹیوشن پڑھانے کا اضافی کلنک بھی موجود تھا۔ لہذا، شادی بیاہ اور دیگر خاندانی تقریبات پر موضوعِ سخن صرف اسی کی ذات ہونے لگی تھی جہاں پہلے اس کے اماں باوا کے جھگڑوں کے قصے چٹخارے لے کر سنائے جاتے تھے۔ اب وہاں اسکی ذات پر لئے جانے والے چسکے تھے۔

ہمارے معاشرے کا اہم ترین اور شاید واحد کام جس کے لیے انسان ، او ربالخصوص عورت، اس دنیا اور اس معاشرے میں آتا ہے :”شادی” سرانجام پا ہی گیا۔ مگر وہی اپنی پھپھیوں جیسے کمپرومائزز کی بھرمار کے ساتھ۔ رکنا نصیب میں تھا ہی نہیں، کہ شادی کے ڈیڑھ ہفتے بعدہی خوشخبری کے لیے ترسے کانوں کے لیے عورت ایک بار پھر امیدوں کا گہوارہ بن بیٹھی۔ کچھ مہینوں بعد وہی زبانیں اب آہیں بھرنے لگیں۔الگ بات کہ بیٹی ہوجاتی تو بیٹے کامطالبہ ہوتا۔بیٹا جنا جاتا تو جوڑی مِلانے کی آس۔یعنی ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ۔مگر اس کا اختتام یوں تو نہ سوچا تھا کہ جیسا ہو گیا۔

زندگی نے پھر پلٹا کھایا تھا اور عورت کو اپنی زندگی جینےکے بنیادی حق کے لیے ایک بار پھر مردوں کے معاشرے کا سامنا تھا۔جینے کاحق اور چھیننے کا فن بھی سیکھ گئی اور گِدھ بنے ، اپنی آنکھوں، اشاروں اور باتوں سے جنسی لذت کشید کرتے “باغیرت مردوں” کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا ہنربھی وقت سکھاتا چلاگیا۔

عورت تو آگے بڑھ گئی، بڑھنا چاہتی ہے، مگر سنا ہے کہ وہ اب بھی کئی محافل میں” سُٹ پنجا” اور “ہتھ آوے فیر” کے فقرات پر پسندیدہ موضوع ہوتی ہے۔

وہ یہ بھی سنتی ہے کہ کچھ بدل چکا ہے۔ کیا بدلا ہے؟ آپ کو معلوم ہو تو بتائیے گا!

Share This:

تبصرے