غریبوں کے بچے مرتے کیوں نہیں؟

کچھ دن پہلے اسلام آباد کے ایک تعلیمی ادارے کے ایک کمرہِ جماعت سے گزر ہوا۔ یہ لفظوں کا کسان ہے ہی درس و تدریس سے منسلک تو اور کس حرم میں جائے، کمرہِ جماعت ہی جائے گا۔ اس ادارے کے ماتھے پر لگے نیلے رنگ کے آہنی تختے پر خوش رنگ انداز اس کے نام کو “ماڈل” یعنی ایک اچھے نمونے کے طور تجویز کیا گیا ہے۔ تو پھر دیکھتے کہ نمونے کی کیا حالت ہے۔ یہ کمرہِ جماعت طالب علموں سے بھرا پڑا ہے اور اس طور بھرا پڑا ہے کہ اگر ہمارے دین نے انسان کو اشرف المخلوقات نا کہا ہوتا تو بہ آسانی ان انسان کے بچوں کی شبیہ بھیڑوں کی کہی جا سکتی تھی۔

لیکن ہم ایسے جانورانہ استعارے نہیں برتیں گے کہ خود بھی تو کچھ ایسے ہی ہیں۔ اپنے آپ کو بُری شبیہوں میں دیکھیں گے؛ اور باعزت اور خوشامدانہ استعاروں میں کریم پاؤڈر لگا کر نہیں دیکھیں گے تو ہم انبیاء کے وارثان کیونکر بن پائیں گے؛ اور یہی تو وہ ہر وقت ناراض پروفیسر کے کڑھتے رہنے کی وجہ ہے، وہ کہتا رہتا ہے اور ہم سُنتے سُنتے اپنی ذات پر طنز کا نشتر سمجھ کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ سجا لیتے ہیں۔ کچھ لمحے بعد ہی  اس زہر کو پہلے کی طرح سے اپنے پِتّے میں محفوظ کر لیتے ہیں ۔ اور دیگر احوال بھی تو یہی ہیں کہ اساتذہ کے اندر اپنی حیثیت کی بابت قائم ہونے والے لمحے کے سوالیہ نشان پر انبیاء کے وارثان ہونے کی ٹھنڈی ٹھار تسبیح کا دانہ گرا دیا جاتا ہے؛ اور ساتھ ہی ہدیتاً ایک عدد خوبرُو سُچے پلاسٹک کے موتیوں کی چائنہ کی تسبیح ارزاں کر بھی دی جاتی ہے۔

باتوں کے اندر باتیں ہیں اور اتنی ہیں کہ ایک اچھے مضمون کے تقاضے ہرگِز نا نبھائے جائیں گے، you know a well-made piece؛ اور خلقتِ شہر کو تو حُسن آفرینی سے مطلب ہے، معنوی اور حقائق کے دُنیا کی “بُو” سے انہیں گھِن آتی ہے۔ دوبارہ سے پریشان اور ہلچلاں دماغ کو مرتکز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مکرر اس کمرہِ جماعت میں ان بھیڑ کے بچوں، معذرت زبان پِھسل گئی تھی، اشرف المخلوقات کے بچوں کا ذکرِ پُر خار سامنے لاتے ہیں۔ آج سے ان کی پہلی ٹرم کے امتحان کا آغاز ہے۔ کمرہِ جماعت کی استطاعت سے زیادہ، کہیں زیادہ طالبِ علم ٹُھنسے ہوئے ہیں، بجلی نہیں ہے؛ جنریٹر تو بڑے دفتروں میں ہی بس ضروری ہوتے ہیں جہاں چائے اور سگریٹ پر چرچا، معذرت، میٹنگیں ہوتی ہیں؛ کمرہِ جماعت کے شاہ جہانی ماہرِ تعمیر کے ذوقِ پُر جلال و جمال کے عین مطابق کوئی کھڑکی بھی نہیں ہے؛ کاش کہ گرم ہوا ہی آس پاس سے گزر تو جائے کہ وہ آدم کے پڑپوتے اپنے جسم کے پسینے سے ہی کچھ راحت کشید کرلیں، عیاشی کرلیں، ہیں نا ایک پُر لذت گناہ جیسا خیال! حبس ہے کہ میر انیس و میر دبیر ہوتے تو کہہ اٹھتے کہ آج خِشت بھی آبلہ پا ہے!

لیکن عجب بات ہے کہ یہ غریبوں کے بچے اس گرمی سے بھی ابھی مرے نہیں۔ ان کو قدم بہ قدم موت سے لڑتے رہنے کی تربیت جو ملتی رہی ہے شاید: کبھی مناسب تغذیہ سے چشم پوشی، کبھی انتہائی غلیظ اور ملاوٹ شدہ میسر غذا کو بھی ان کے معدوں نے ہرا دیا ہے۔ یہ قدرت کی پروردگاری کے امکانات کا اثبات ہیں، یہ پرانی اندرون شہر کی اونچی دیواروں والی حویلیوں کے باہری حصے پر اُگ نکلے ہوئے پِیپل کے پودے ہیں۔ ان کے جنم لینے کا لمحہ سے لے کر ان کا آج تک حبس میں سانسیں لیتے رہنا اور روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنا ایک معجزہ ہے۔ اے اہلِ عقل اپنی نکٹائیاں اور کوٹ سنبھال کر مست بیٹھے رہو کہ یہ حیرت کا مقام ہے!

ان پر پہلے ہی وطن عزیز میں امداد و قرض دہندگان کے بے جا دباؤ کے تحت دستوری شِق پچیس الف کا احسان کردیا گیا ہے؛ فیسیں معاف جو کر دی گئی ہیں۔ اب یہ تازہ ہوا بھی مفت میں چاہتے ہیں؛ بہت ہی ناشکرے ہیں۔

دیکھیں نا ان کے اداروں کے ذمے داران اور ان ذمے داروں کے نگہبان ان کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ یہ مت پوچھئے گا کہ کِس کام کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ بس اتنا جان لیجئے کہ وہ مصروفِ کار ہیں۔ امریکہ کے صدر کی زوجہ محترمہ نے جو اتنے ڈالر دئیے تھے ان کو بھی تو کہیں مصرف میں لانا ہے، ظاہر ان کو لیپس (lapse) ہو جانے دینا گورنینس کے بنیادی تقاضوں کی نفی ہے۔ اور ہمارے ذمے داران اچھی حکومت کے تصور کو دل کے پاس والی جیب سے لگا کے رکھتے ہیں۔

یہ بچے حبس سے نہیں مریں گے؛ یہ کوئی نازک اندام بچے ہیں، یہ سخت جان ہیں؛ یہ پتھر کے بنے ہیں، انہوں نے لکڑ خوراک میں کھائی ہوئی ہے، یہ معدنی دھاتوں سے مَسح کیا ہوا پانی پئے ہوئے بچے ہیں۔ آرسینک دھات انہوں نے بھی اپنے گھر آنے والے سپلائی کے پانی میں سے اپنے سر میں کشید کی ہوئی ہے۔ لیکن یہ آرسینک دماغوں میں اگر جا کر بسیرا کئے ہوئے ہے تو ان پالیسی سازوں کے، ان فیصلہ سازوں کے اور ان عملدرآمد کرانے والوں کے جو ان کے والدین کو کہتے ہیں کہ ہم غریب ملک ہیں، ٹیکس لوگ دیتے نہیں ہیں؛ کہاں سے آئیں پیسے؟

لیکن انہیں کیسے کوئی ان کے خوش رنگ بالوں کے نیچے چھپے دماغوں سے تھوڑی آرسینک پگھلا کے بتائے کہ ان بچوں کے والدین نے صبح کو انہیں تعلیمی ادارے میں چھوڑنے سے پہلے رستے میں اپنی موٹر سائیکل میں جو پٹرول ڈلوایا تھا اس کے پینسٹھ روپے فی لٹر میں سے انہوں نے پینتیس روپے کا ٹیکس دیا تھا؛ تین لیٹر پٹرول ڈلوایا تھا تو ایک سو پانچ روپے تو وہ صبح سات بج کر پچاس منٹ پر ہی ٹیکس دے آئے ہیں۔ اور ہاں کل شام کو وہ بتا رہے تھے کہ ان میں سے ایک نے اپنے موبائل فون میں سو روپے کا کارڈ بھرا تھا؛ اس میں سے بھی لگ بھگ پینتیس روپے بطور ٹیکس کاٹے گئے تھے؛ کل اپنی بُوڑھی ماں کے لئے کچھ دوائیں خریدیں تھیں تو وہاں بھی دوا کے اصل نرخوں کے ساتھ ٹیکس دیا تو دوا ملی۔ ہیں کیا کہہ رہیں وزیر خزانہ؟ ٹیکس گوشوارے نہیں بھرتے؟

واہ حضور، آپ نے بنیادی گناہ تو ڈھونڈ لیا۔ آپ کی روشن دماغی بگڑی ہوئی حالتوں اور لتھڑی ہوئی روحوں کے عارضے ڈھونڈ ہی نکالتی ہے۔ مستند بات سامنے آگئی، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ کے عذر میں بلا کا وزن ہے؛ اب مر جانے دیجئے ان غریبوں، غداروں کے بچوں کو حبس سے کہ ان کے ابا کون سے ٹیکس کے گوشوارے بھرتے ہیں، اور ہاں صرف ٹیکس دے کر کون سا احسان کرتے ہیں، ٹیکس کی روح تو اس کے جمع کردہ گوشوارہ میں ہوتی ہے۔

Share This:

تبصرے