جلال آباد کا “فاتح” اور قصور کے مظلوم بچے

پاکستان میں اک مخصوص طبقہ جنرل حمید گل کو “جہاد کا امام” سمجھتا ہے۔ جس جمہوریت کو گالیاں اور پٹڑی سے اتارتے مرحوم جنرل صاحب اور انکے مصاحبین کی عمریں گزر گئیں، اسی جمہوریت کے سماجی او رسیاسی فریم ورک میں، سیاسی نظام اور سیاسی رہنماؤں کو تبریٰ فرمانا انکا حق ہے، اور میں انکے اس حق کو  کھلے دل اور کشادہ دماغ سےتسلیم کرتا ہوں، بخدا۔ مگر کچھ ایسا ہی حق کسی جمہور پسند کو کسی  “خلافت،” “ولایت،” یا “ملوکیت” میں ذرا تلاش کرکے تو دکھلا دیجیے، پلیز؟

جنرل صاحب کا معاملہ اللہ کی عدالت میں ہے، اور ہمارے کلچر کے مطابق، اس دنیا سے گزر جانے والوں کے بارے میں بات کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ میرا نظریہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اس لیے کہ اگر گزر جانے والا عامی ہو، اور اسکے کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے دوسرے انسانوں کی زندگیوں میں کوئی اچھا، یا برا اثر نہ پڑتا ہو، تو شاید یہ اصول لاگو ہوتا ہے، مگر وہ جو کہ اپنے کئے گئے کاموں کی اثرات کی وجہ سے بھی معاشروں، اور انسانوں کی زندگیوں میں موجود رہتے ہیں، وہ اک لحاظ سے زندہ ہی ہوتے ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ کئے گئے کاموں کے اثرات ہی معاشروں کی تواریخ میں انکا مقام متعین کرتے ہیں۔ بات مزید کلئیر اک مثال سے کرونگا کہ مسلمان، میرے سمیت، آج بھی خلیفہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی مثالیں دیتے ہیں۔ تمام دنیا کو انکا نام معلوم ہے شاید، مگر یہ تو ذرا بتائیں کہ انکے گھر کے دائیں جانب سات گھر چھوڑ کر آٹھویں گھر کی بالائی منزل پر کون رہتا تھا؟ آپ کو معلوم نہیں، مجھے بھی معلوم نہیں۔ اور وہ اس لیے کہ آقا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دائیں جانب والے آٹھویں گھر میں رہنے والے صاحب، یا خاتون کا انسانی زندگی، معاشرے، اور تاریخ میں کوئی کردار نہ تھا۔ لہذا ان پر بات بھی نہیں ہوتی،  نہ ہوگی، اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کون تھے!

جنرل صاحب گھڑے گھڑائے فوجی تھے، کوئی شک نہیں۔ اور جس ادارے میں انہوں نے خدمات سرانجام دیں، وہ ادارہ ڈسپلن کی پاسداری کو اپنے سر کا تاج سمجھتا ہے، اور درست طریقے سے ہی سمجھتا ہے، کیونکہ وطن اور قوم کے لیے مرنے، مارنے، جان دینے اور اپنے پیاروں کی پرواہ کیے بغیر سربلند کھڑے ہونے کے لیے نظم و ضبط میں رہنا ہی پڑتا ہے، اور یہی سپاہی کی شان بھی ہے۔ مگر جنرل صاحب مرحوم کا کیا کیجیے کہ جب انہیں انکی مرضی کی پوزیشن نہ ملی، تو انہوں نے دفاعی پیداواری ادارے کی سربراہی کو “میں فیکٹری مینیجر کیوں بنتا” کہہ کر ٹھوکر ماری اور یوں زندگی میں پہلی بار سپاہ گری کی وردی اپنی الماری میں موجود ہینگر پر ٹانگ دی۔

لوگ بھول جاتے ہیں کہ بھولنا سب سے آسان کام ہے، اور بہت آزادی فراہم کرتا ہے۔ مگر یاددہانی کرواتا چلوں کہ جنرل صاحب نے سنہ 1997 میں پاکستان میں “نرم انقلاب” کی ٹرم  متعارف کروائی، اور اس پر پاکستان کے اردو اخبارات میں مکالمہ بھی شروع ہوگیا۔ جمہوریت اور جمہوری روایات کا تسلسل، دکھ، درد، تکلیف کے ساتھ ساتھ، آزمائش کا بھی معاملہ ہوتا ہے، تبھی جا کر قومیں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی وغیرہ بنتی ہیں، مگر  پاکستانی میں سیاسی مسلم نفسیات اک مسیحا اور امام مہدی کی شکل میں فرد کی ہی منتظر رہی ہے، لہذا آج بھی ٹرکوں کے پیچھے جنرل ایوب خان کی تصاویر کے ساتھ “تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد” لکھا نظر آتا ہے۔ یار لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ مصرعہ بھی اک انڈین نغمے کا ہے، مگر خیر، سب چلتا ہے، بالکل ویسے جیسے جنرل حمید گل صاحب کا جہادی فلسفہ آج پاکستان کی گلیوں میں چل رہا ہے، اور ریاست اپنے اندر موجود چند جہادی گروپس پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے کچھ لرز سی جاتی ہے۔

جنرل صاحب جس ادارے سے جڑے رہے، اس ادارے سے سوال پوچھنا، گویا “آ بیل مجھے مار” کے مترادف ہی رہا، اور ابھی بھی ہے، مگر تاریخ عالم میں جنرلز اپنی کامیابیوں کی بنیاد پر جانے جاتے ہیں،  جنرل حمید گل صاحب کو شاید آج بھی اپنی قبر میں “آپریشن جلال آباد” کہہ کہہ کر آس پاس کی روحیں چھیڑتی ہونگی۔ جنرل صاحب کی کامیابیوں کی داستان بھی ہوگی، لازمی ہوگی، مگر آہ ! کہ انہیں اپنے لیے کوئی ہارون الرشید میسر نہ ہو سکا،  جیسا کہ جنرل اختر عبدل الرحمٰن کو مہیا تھا، اور اک کتاب  بعنوان “فاتح،” جو جنگ پبلشرز نے چھاپی،مگر ہائے افسوس کہ جنرل حمید گل صاحب کی شان اقدس میں “فاتح ثانی” کے نام کی کتاب کوئی کتاب نہ آ سکی۔ سنہ 2011 کے آخری کوارٹر میں آٹھ دس گھنٹے کی مسلسل میڈیا کوریج سے پاکستانی نوجوانوں کے دلوں اور دماغوں پر “چھا جانے” والی اک جماعت کے عظیم عبقری رہنما کی اک ملاقات بھی جنرل حمید گل صاحب کے ساتھ 1997 میں رقم ہے، اور پھر اسکے بعد کوئی پندرہ سال تک مختلف اخبارات میں  انکے حق میں خلیفہ صاحب کی مسلسل مہم بھی کہ جس کا وہ برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ جنرل صاحب کو کوئی جا کر عالم ارواح میں خبر تو دے کہ انکے نرم انقلاب سے پچھلے چار پانچ سالوں میں، پاکستانی معاشرت میں ہر طرف گرم گرم گالیوں کا اک طوفان ہے۔

جنرل صاحب کے نرم انقلاب کے فلسفہ کی بطن سے پاکستان کو، اللہ کے فضل و کرم سے، لال ٹوپی والی اک میڈیائی سرکار بھی مہیا ہوئیں، جنکی مجاہدانہ قیمت مبلغ چھ لاکھ سترہ ہزار روپے ماہانہ سکہ رائج الوقت کی خبریں بھی زبانِ زدِ عام رہیں۔ اور پھر جنرل صاحب کے ہی فرزند ارجمند، جنابِ عبداللہ گل صاحب، جو “انجمن  نوجوانان ملت” کے امام ہیں پر محترم عمر چیمہ صاحب کی اک رپورٹ، روزنامہ جنگ میں جنوری  تیرہ ، 2016کو شائع ہوئی ہے جس میں جناب عبداللہ گل صاحب کا تعلق اس شخص سے ثابت ہوتا ہے کہ جو پچھلے سال قصور کے اک گاؤں میں پیش آنے والے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اور انکی فلمیں بنا کر فروخت کرنے والے اک گروہ سے ہے۔ اس شخص کا نام مبین غزنوی ہے، اور یہ صاحب، جنرل حمید گل پر تین کتابوں کے مصنف بھی ہیں، ہائے مگر وہ ہارون الرشید نہیں ہیں!

غزنوی صاحب پر اک لڑکی کو اغوا کرنے کا الزام بھی رہا ہے سنہ 2012 میں، اور بقول رپورٹ کے “جسے اسلام آباد میں جنرل حمید گل مرحوم کے بیٹے عبداللہ گل نے چند ماہ کے لیے  پناہ بھی فراہم کی۔” غزنوی صاحب جماعت الدعوۃ کے ممبر بھی رہے، اور آجکل، تاحال عبداللہ گل صاحب کی انجمن نوجوانان ملت کے ساتھ منسلک ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں، فرد اور مسیحا کے انتظار کی علت میں مبتلا، بالخصوص نوجوانوں کے لیے اس میں اک سبق ہے اور وہ یہ کہ  اپنی ساری عمر مذہب کی بنیاد پر اک متشدد فلسفہ کا پرچار کرنے والے، سیاست، جمہور، شہریوں، جمہوری رویوں اور عوامل کی ٹھٹھہ اڑانے اور انکی ناکامی کی کوشش کرنے والے، اور ارتقاء کی تکالیف کو بائی پاس کرکے، اک متشدد فساد، کہ جسے وہ جہاد کا نام دیتے رہے، کی بنیاد پر معاشرت کو اپنے تئیں اپنی مرضی پر لانے کی کوشش کرنے والے، قبلہ جنرل صاحب مرحوم کا پیغام، شاید اپنے ہی گھر  میں موجود فرزند ارجمند پر بے اثر رہا!

زندگی، معاشرت، سیاست، ریاست اور ترقی، میرے دوستو، ریاضت، کوشش، محنت، مسلسل محنت اور جان ماری مانگتی ہیں۔ کوئی مسیحا نہ آج تک آیا ہے، نہ آئے گا۔ مسیحا کا انتظار دماغ کی “علت مشائخ” ہے کہ یہ کوشش، محنت کی ہمت کی بجائے، ذہنیت  کو اک افیون زدہ خواہش میں تبدیل کردیتا ہے اور جسکی عدم تکمیل، تشدد کو جنم دیتی ہے۔ یہ لمبی بحث ہے، پھر کبھی سہی۔

پاکستانی معاشرے میں زندگی گزارنے والے، ہر شخص، بالخصوص، نوجوان سے یہ درخواست ہے کہ زندگی دوسروں کی جانب دیکھتے نہیں، اپنی جانب دیکھتے، اور محنت کرتے بنائیں، اور گزاریں، وگرنہ عمومی مسیحا یا تو آپریشن جلال آباد کرتے ہیں، یا پھر انکے نرم انقلاب سے گرم گالیوں کا اک طوفان برآمد ہوتا ہے۔

باقی آپکی اپنی مرضی!

Share This:

تبصرے