لکھاری کا فلسفہ – اِک اداریہ آپکےلیے

تجسس، تفکر، اور تلاش تو فطری ہے اور ہر وہ جو ارتقاء کی لڑی سے پرویا ہوا ہے اور تجسیم کی چکی سے پِس کر تکمیل کا فریب خوردہ ہے اس کا مادی وجود اس امر کا مستحق ہے کہ وہ آسائش پائے۔ رنج و الم اور کلفت و تکلیف سے محفوظ رہے ۔ اور اس کا فکری وجود اس شئے کا متقاضی ہے کہ وہ ہر آن ایک نئی دنیا منکشف کرے۔

25 لاکھ سال کے تکلیف دہ اور مسلسل ارتقائی سفر کے بعد سماج ایک ایسے عملی ادارے کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں قبیلے کی ابتداء کےدور کی کوتاہ عمری ، سرداری نطام کے ابتدا ء کی سختی ، زراعت کے دور کے آغاز کی تن مشقتی اور مشینی دور کے ابتداء کی سخت اوقاتی کے اژدھے کو فکرِ انسانی کا مثبت عروج نگل چکا ہے ۔ ایک نیا سویرا طلوع ہو چکا ہے جس نے سوئے ازہان پر دستک دینی شروع کر دی ہے۔ اٹھئے اپنا قلم تھامئے اور اس قافلے کا حصہ بن جائیے جس کی حدود مشرق و مغرب سے آگے نکلتی جا رہی ہیں۔

اربوں آئے اور گئے کوئی نام و نشان تک باقی نہیں رہا ۔ وقت کی چھلنی سے چھن کر وہی بام ِ انسان کے عروج کا تارا بنے جو مؤثر ہوئے ۔ قدرت بہت مہربان ہے مگر اپنے قاعدے کی بہت پابند ۔ وہ ہر اُس شے کو وقت کی گرد میں دفن کردیا کرتی ہے جس میں ارتقاء و تبدیلی کی گنجائش نہ ہو ۔ تلوار کے ذریعے عروج کا دور خواب ہوا،  جسموں کی غلامی عنقا ہوئی۔ یہ دلیل کا جہاں ہے، سائنس کی دنیا ہے ، عمل کی رزم گاہ ہے اور قلم کی معجز بیانی کا دور ہے۔

اگر آپ فلک سے پرے جھانک سکتے ہیں، ستاروں کی خبر لا سکتے ہیں، سینوں میں گُھٹی سسکیاں سُن سکتے ہیں، امید کا دیا جلا سکتے ہیں اور کچھ بھی ایسا تحریر کر سکتے ہیں جو  سا کت معاشروں اور سوئے ہوئے ذہن و ضمیر میں ارتعاش بلکہ زلزلہ پیدا کر سکتا ہو تو یقین جانئے آپ لکھاری کے مصنفین کا حصہ ہیں ۔ ہمیں آپ کی تحریر کا انتظار رہے گا ۔

یاد رہے اظہار کی زبان اردو ہے اور موضوع کا کینوس پورا سماج ۔ قلم سے جیسے چاہیئے سٹروک لگایئے ۔ قلم عصا موسیٰ ہے ، قلم دم عیسیٰ ہے،قلم نغمہ داودی ہے،قلم بصیرت سقراط ہے،قلم حقیقت کائنات ہے،قلم شکسپئر ہے ، قلم منٹو ہے،قلم آپ ہیں۔لکھاری کے صٖفحات مسلسل اور مستقل ارتقاء آپ ہی کی تحریروں سے پا سکتے ہیں لکھاری کو زندہ کیجئے یہ معاشر ے کو زندہ و جاوید کرنے کی مختصر مگر پر اثر کوشش ہے ۔

خود فریبی چھوڑے بنا اور خود احتسابی اپنائے بنا اقوام ِ عالم کی دوڑ جیتنا تو درکنار اس کا حصہ بننا بھی محض دیوانے کا خواب ہے ۔ پدرم سلطان بود کے خول کو توڑیئے ایک نیا زندہ جہان آپ کا منتظر ہے۔

وہ سب جنہوں نے خواب دیکھے اور پھر انہیں حقیقت میں ڈھال گئے درحقیقت وہی انسان ہیں باقی سب تو بس آئے اور گئے ۔ کیا فرق پڑتا ہے کوئی آئے یا نہ آئے ؟

سوچئے ، ہمارے اردگرد جو کچھ بھی ہے ایسا کیوں ہے کیا ہم اسے مزید بہتر نہیں  بنا سکتے ؟

وزٹ کیجئے ، لائک کیجئے ، شئیر کیجئے ، کیونکہ ہمیں کرکے دکھانے والے مفکرین کی ضرورت ہے ۔

Share This:

تبصرے