لکھاری کیا ہے؟

پاکستان میں اردو زبان کی ترویج اور اظہارِ موضوعات کے لیے اخبارات ہی مختلف خواتین وحضرات کا ذاتی، پیشہ وارانہ اور ادبی تعارف فراہم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اک احساس ہے کہ پاکستان میں کتب و ادب دوستی کچھ بحران کا شکار رہی ہے، اور یہ سلسلہ پچھلی تین چار دہائیوں میں بڑھتا چلا گیا۔ یہ افسوس کا مقام ہے کہ تقریبا بیس کروڑ کی آبادی میں چھپنے والی کتب عموما پانچ سو یا ایک ہزار کی تعداد میں چھپتی ہیں، اور ان میں سے اکثریت اپنا ایک ایڈیشن بھی کھلی مارکیٹ میں فروخت  نہیں کر پاتیں۔ پھر یہ بھی کہ عوام کو اردو زبان اور مختلف موضوعات پر رائے اور رائے سازی کے مواقع فراہم کرنے کے سب سے اہم ذریعہ، اخبار، میں تقریبا پچانوے فیصدی تحریری مواد سیاست، علاقائی یا دنیا کے بحرانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ افغانستان، فلسطین، اسرائیل، امریکہ، انڈیا وغیرہ اخباری لکھاریوں کے پسندیدہ ترین موضوعات محسوس ہوتے ہیں، اور عمومی معیار اور مواد مختلف اقسام کے سازشی نظریات کے گرد طواف کرتے ہوئے ملتا ہے۔ یہ سلسلہ تقریبا دو نسلوں سے جاری ہے، اور کوئی حیرانگی نہیں ہوتی کہ پاکستان میں اظہار رائے، رائے سازی، اور اختلافی رائے پر ردعمل کے معاملات میں شدت پسندی اور اک دبی سی متشدد خواہش کے عناصر کیوں ملتےہیں، اور موضوعاتی اختلاف، ذاتی اختلاف، اور بعض اوقات، ذاتی دشمنی کیوں بن جاتاہے!

لکھاری، ادبی مزاج رکھنے والے چند اک دوستوں کی مشترکہ کوشش ہے جو اپنے پڑھنے والوں تک  وہ تحاریر،  لکھنے والے اور موضوعات لے کر آنا چاہتی ہے جو  گنتی کے چند گنے چنے اخبارات اپنے صفحات کی زینت  نہیں بناتے، اور کسی بھی نئے لکھاری کو عمومی طور پر حوصلہ فراہم کرنا تو دور کی بات، حوصلہ شکنی کے رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لکھاری آپ تک وہ تحاریر، موضوعات اور صاحبانِ فکر و خیال لے کر آنا چاہتی ہے جو پاکستانی، اور اردو پڑھنے بولنے والے دوسرے لوگوں میں موجود تو ہیں، مگر نظر میں نہیں۔

اور جو نظر میں نہیں ہوتا، صاحبو، وہ بھی موجود ہوتا ہے، اور شاید موجود-شدہ سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔

لکھاری آپ تک نئے اور تازہ زاویے لے کر آنا چاہتی ہے۔ وہ موضوعات جن پر “المشہور اخباری صنعت” کے جریدوں میں بات چیت نہیں کی جاتی کہ ان پر تدوینی اور مدیراتی چھریاں چل جاتی ہیں۔ لکھاری آپکو ان لوگوں کی تخلقیات سے جوڑنا چاہتی ہے جو موجود ہیں، متحرک ہیں، مگر بس اوجھل ہیں۔ لکھاری آپکو خیالات اور موضوعات کے وہ پہلو پیش کرنا چاہتی ہے جو آپکے تخیل کو چٹکی کاٹیں گے اور آپکی موجود سوچ کو چبھیں گے بھی۔ لکھاری کی تحاریر آپکو اختلاف پر ابھاریں گی کہ جسکا مہذب اظہار آپکے اور ہمارے سیکھنے کا سبب بنے گا، شدت کا ردعمل آپکے معیار سوچ اور فہم میں صرف گراوٹ کا سبب بنے گا، اور کچھ نہ کرے گا۔ لکھاری میں سیاسی موضوعات ہونگے، سماجی، معاشرتی، مذہبی، ادبی اور ذاتی خیالات بھی۔ لکھاری میں لکھنے والے اک دوسرے کے نظریات سےاختلاف کرتے ہوئے مکالمے کےرجحان کو پروان چڑھائیں گےاور آپ تک سوچ و فکر کےنئے زاویے لےکرآئیں گے۔ اختلاف و اتفاق آپکا بنیادی حق ٹھہرے گا، مگر وہ موضوع، رویے، حقائق اور معاملات جو پاکستانی، انسانی معاشرت میں موجود ہیں، ان پر بات لازما ہوگی۔

یاد رکھیے کہ مہذب اختلاف کرکے ہی لوگ اور معاشرے اک دوسرے سےجڑے رہ سکتےہیں، اور آگے بڑھ سکتےہیں۔

آتے رہیے، پڑھتے رہیئے، بات کرتے رہیئے، کیونکہ، بات کرو گے، بات سنو گے،تب ہی تو بات بنے گی!

لکھاری کےبارے میں پڑھنے کا شکریہ۔

Share This: