لکھاری کے لکھاری

لکھاری کے لکھاری چنے جائیں گے، اور یہ کام اک تین رکنی کمیٹی کرے گی۔ کسی بھی وقت لکھاری کے لکھاریوں کی تعداد پندرہ سے زیادہ نہ ہوگی، جو مہنیے میں کم از کم ایک مضمون، کسی بھی پیرائے یا کیٹیگری میں، لکھاری کے لیے لکھا کریں گے۔ ایک ہی مصنف کے لکھے جانے والے مضامین کی تعداد، کسی بھی مہینے میں چار سے زیادہ نہ ہو سکےگی تاکہ خیال کی شگفتگی اور اوریجنیلیٹی قائم رہے۔

لکھاری ڈاٹ پی کے، دوستو، کوئی کاروباری مہم یا ادارہ نہیں۔ یہ تو اردو کے کم جانے جانے والے، مگر جاندار لکھاریوں کےلیے اک پلیٹ فارم ہے جو ایسے موضوعات پر اپنے خیال کی امانت آپ تک پہنچائیں گے جو مختلف کاروباری معاملات میں الجھے بڑے میڈیائی اداروں کے جملہ اخبارات آپ تک نہیں لے کر آتے۔ ان اردو کے لکھاریوں کے تعارف اس صفحہ پر بتدریج آتے چلے جائیں گے۔ انکے بارے میں مزید جاننے کےلیے اس صفحہ پر آتے رہیئے۔ کچھ وقت ابھی لگ جائے گا، مگر کام جاری ہے۔

آپکا بہت شکریہ!

Share This:

  • مبشر اکرم

    مبشر اکرم


    برصغیر کے سماج و معاشرت، ادب، سیاست و تاریخ کے طالبعلم ہیں۔ کتب بینی فرد ومعاشرے کی آکسیجن سمجھتے ہیں۔ مزاج کے ترقی پسند ناقد ہیں، اسلوب کے پرستار اور آواز کو شور سے بہتر جانتے ہیں۔ جدیدیت پر بنیاد کی گئی جمہوریت کے حامی ہیں، اور فرد کے مسلسل فکری ردعمل وتیزابیت کو حیواناتی فعل گردانتےہیں۔

  • افشاں مصعب

    افشاں مصعب


    خاتون تلخ کو شیریں بنا کر پیش کرنے پر کمال رکھتی ہیں۔ زندگی کے حوادث سے سیکھنے اور سبق کشید کرنے کی عادت ہے اور ان اسباق کو ادبی اسلوب دینے کا گُر آتا ہے۔ افسانہ نگاری، کہانی نویسی سے لیے کر جگ بیتی اور ہڈ بیتی: اک تخیلیقی طریقہ سے کہہ دینے میں ماہر ہیں۔ مہذب انداز کی نرم خو مبصر اور ناقد بھی ہیں۔

  • حسیب حیات

    حسیب حیات


    صاحب طنز کا صرف نشتر نہیں، کبھی کبھار تو ہتھوڑا اور چھینی ہاتھ میں لیے دوڑے پھرتے ہیں؛ کسی کو نہیں بخشتے، حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی! اردو کے معاملہ میں سنجیدہ اور اپنے خیال کی نوک پلک درست کرنے میں خود پر کڑے نگران۔ جدید تنقیدی شعور کے حامل، محنت کی محبت کے عادی، اور مشاہدہ میں کمال رکھتے ہیں۔

  • شوذب عسکری

    شوذب عسکری


    برِصغیر کی بالخصوص، اور دنیائے اسلام کی بالعموم، ادبی/سیاسی/معاشرتی تاریخ میں اک شدت کی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ذاتی مزاج کے حوالے سے جدت پسند اور آزاد فکر شخص ہیں۔ منطق اور دلیل پر بنیاد کرتے ہوئے پاکستان میں فرد اور معاشرے کے ارتقاء پر اک بےٹوک مکالمے اور گفتگو کے حامی ہیں۔ فکری نشترزنی کو لازم جانتےہیں۔

  • عمران خوشحال راجہ

    عمران خوشحال راجہ


    اپنے اسلوب میں منفرد، انجمن ترقی پسند مصنفین اسلام آباد کے پریس سیکرٹری ہیں۔ "آن کشمیر اینڈ ٹیررزم" اور "دریدہ دہن" کے مصنف اورانٹرنشنیل ریلیشنز کے طالب علم ہیں۔ وقتاً فوقتاً شعر و شاعری کی آمد بھی ہوتی ہے۔ محقق طبع اور خود کے فہم پر صرف تشریح نہیں، دنیا میں اک مثبت تبدیلی کے رومان پسند بھی ہیں۔

  • یاسر چٹھہ

    یاسر چٹھہ


    یاسر، ادبی مزاج کے "استاد" آدمی ہیں۔ استاد، استادی کے پیرائے میں نہیں، پڑھنے پڑھانے کے حوالے سے۔ مشرقی اور مغربی ادب کے طالبعلم ہیں۔ ترقی پسند سوچ کے مالک ہیں، اس لئے عموما مشکل میں ہی رہتے ہیں، مگر وہ کہ مشکل ایسی مونہہ کو لگی، کہ چھٹتی نہیں جناب۔ نہایت تہذیب کے ساتھ بےباکی کا مرکب ہیں۔

  • خرم مشتاق

    خرم مشتاق


    خرم کے اپنے الفاظ میں، ادب "میری پہلی محبت تھی، ہے اور رہے گی۔" قصباتی پس منظر رکھنےوالے، زندگی کی تلخیوں اور چاشنیوں سے واقف، خرم فلسفہ کی گہرائیوں میں جائے بغیر، بات کہنے کے عادی ہیں۔ لاہور سے دوستی کرنے کے بعد، مشاہدات میں اضافہ ہی ہوا۔ گویا، جو دیکھا، اب لوٹانے پر مصر ہیں، مگر اک پیرائے میں!