مدارِ میڈیا, یا مداری میڈیا؟

Media Essayجس تس کو دیکھو بُقراط بنا بیٹھا ہے ۔ میڈیائی دانشور ہیں کہ گننے میں نہیں آتے اور سیاسی ، تجزیاتی و تزویراتی تحاریر ہیں کہ پڑھنے کو ایک جگرِ بے کراں اور وقتِ لامکاں چاہیئے ۔ گویا مداری ہیں کہ نچاتے پھِرتے ہیں۔ بچہ جمُورا، گھوم جا، گھوم گیا۔ جھُوم جا، جھوم گیا!

حکم ِ حاکم مرگ ِ مفاجات ۔ بھئی نہ لکھیں تو کھائیں کہاں سے ؟ اور جو اگر لکھنے بیٹھ جائیں تو الفاظ مورکھ ، کالے کوّے کی مانند ایک جگہ ٹکنے کو ہی نہیں آتے ۔ خیالات ہیں کہ عربی گھوڑے بنے ہوئے ہیں ۔

شام کے اجڑے لوگوں کا نوحہ لکھنے جو بیٹھو تو یہ لگتا ہے کہ سبھی کچھ تو کہا سنا جا چکا ہے اپنےالفاظ گزرے سانپ کی لکیر پیٹنے جیسے لگتے ہیں ۔

فاطمہ ، نوروز کا قصہ لکھنے کا حوصلہ جمع کروں تو جی میں آتا ہے کہ معصوم محبت کی توصیف کیسے بیان ہو سکتی ہے اور یوں بھی کہ یہاں محبت کے قصے میں دلچسپی ہی کسے ہے ۔ اُن کے واقعے کا دوسرا رخ خودکشی ہے اور میاں خودکشی کی تعریف تو یوں بھی ایک لایعنی و تخریبی فعل ہے کہ یہاں خودکشی کرنے کو ہزاروں تیار بیٹھے ہیں بس ایک تحریک درکار ہے ۔

ایلان کرد کے معصوم بدن کو دیکھ کر جو آنکھیں برسیں تھیں وہ ہچکیوں پہ آکر رک گئیں ۔ احساسات الفاظ کا روپ نہ دھار پائیں تو تحریر سوائے ایک نوشتی مشقت کے بھلا کیا حثیت رکھتی ہے ؟

دو چار لکھاریوں سے پوچھا کہ کیا لکھا جائے تو کہنے لگے کہ کچھ نیا لکھا نہیں جا رہا تو کسی پرانی تحریر کی نوک پلک سنوار لو اور بھیج دو۔ شائع ہو جائے گی۔

اب جو پرانی تحریروں پہ نگاہ ہوئی تو انہیں پڑھنا خود کو بھی محال لگا چہ جائیکہ قارئین پہ ستم ڈھایا جائے۔

سو جی میں یہی آیا ہے کہ یورپ کی انسان دوستی کو موضوع بنا لیا جائے کہ یہ عنوان دسترس کا بھی ہے اور ان دنوں کا چلن بھی ۔۔۔۔ !!

اب صاحب قلم جو اٹھایا ہی تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کی جڑیں ایک ایک کرکے کھُلنے لگیں ۔ ایک ایک رُخ پہ غور ہوا تو صاف صاف دکھائی پڑتا ہے کہ یہ آج کل کی قتل وغارت اور انسانیت سوز مظالم یونہی ایک دم سے برپا نہیں ہورہے

بلکہ ایک صدی پہلے انہی یورپی اقوام کے بڑوں نے کچھ فیصلے ہی ایسے کئے تھے کہ سب کو اندازہ تھا یہ بارود ایک روز بھک سے اڑے گا۔

اور جن کے دامن آج اس بارود سے اڑی چنگاریوں کی زد میں ہیں یہ آگ بھی تو انہی کی ہی بھڑکائی ہوئی ہے ۔ تعریف تو تب کروں ناں کہ اگر یہ لگے کہ اب اس بھڑکتی آگ پہ پانی ڈالنے کا مستحسن فعل سرانجام دیا جارہا ہے ۔ ایسا بھی تو نہیں ہے ترکی سے لے کر یورپی اتحاد تک اور پھر اوقیانوس کے پار امریکہ بہادر تک ، سبھی مشرق ِ وسطیٰ کو لہولہان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ۔ عربوں اور عجمیوں سے کیا گلہ کریں کہ وہ تو ابھی تک تہذیبی ارتقاء کے سفر میں مسلکی جنگ کے زمانے سے گزر رہے ہیں یورپ تو چار صدیاں پہلے یہ کشت و خون دیکھ چکا۔

اب ایک کچھڑی پکی ہے خیالات کی ، کیا لکھیں اور کیوںکر لکھیں ؟

سوشل میڈیا پہ جائیں تو لبرل دوست آج کے دن احمدیوں کو غیر مسلم قرار دئیے جانے پہ نوحہ کناں ہیں ، مذہبی دوست ملاحظہ ہوئے تو وہ ختم نبوت کا یوم الفتح مناتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور یہ موضوع ویسے ہی حساس ہے ۔ اس پرتو کچھ بھی لکھنا خطرے سے خالی نہیں ۔

بعضے ہیں کہ پچاس سال پرانی جنگ کا سچ جھوٹ تلاش کررہے ہیں ۔ کچھ کہتے ہیں ہم جیتے ، کچھ کہتے ہیں کہ وہ جیتے ۔ جائیں تو جائیں کہاں مانیں تو کس کی مانیں ؟

انگشت بدنداں ہوں کہ ابھی مہینہ بھر پہلے قصور میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کا روح فرسا انکشاف ہوا ہے سینکڑوں معصوم ہمیشہ رہنے والے ذہنی کرب سے گزرے ہیں اور میڈیائی تماشہ تھا کہ چار روز کے بعد یوں تھم گیا کہ جیسے ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا ۔

ویسے آپس کی بات ہے ملکی دفاع کے لئے متحد عناصر کی سماعتوں پر اگر گراں نہ گزرے تو آج بھی اردو زبان کے چار بڑے اخباروں میں جرائم کے صفحات پر ایک لڑکی اور دو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی چار کالمی خبریں شائع ہوئی ہیں ۔۔۔ چپ !!!

؎ قبول کر میرے چہرے کی جھریاں جن میں ۔۔۔ کہیں دھرم کہیں تہذیب کے طمانچے ہیں!! (نامعلوم)

Share This:

تبصرے