مدیراتی پالیسی

لکھاری کے صفحات آپ کی تحریروں کے لئے ہی ترتیب دیئے گئے ہیں لہذا آپ سنسرشپ کے روایتی نشتر کی پروا کئے بغیر ان تمام موضوعات پر خامہ فرسائی فرما سکتے ہیں جو آپ کی تخلیقی و فکری صلاحیتوں کا میدان ہیں ۔ لکھاری کے ذمہ داران  کا اک اصول بہرحال یہ ہے کہ ایک وقت میں “لکھاری کے لکھاریوں ” کی تعدا کسی طور بھی پندرہ (15) سے زیادہ نہ ہوگی، جو کم از کم ایک  ماہانہ مضمون لکھاری کے لیے لکھا کریں گے۔

درج ذیل  چند مختصر سی ہدایات کو ملحوظ رکھنا صرف اس واسطے ضروری ہے کہ لکھاری کا مقصد آپ کی حوصلہ افزائی  تو ہے ہی ،مگر  کسی کی دل آزاری  بھی ہرگز نہیں لہذا :

۔۔ ایسی  تمام تحاریر ناقابل اشاعت ہوں گی جو کسی بھی فرد، نسل، گروہ، نظریے،  جماعت یا ادارے پر تنقید برائے تنقید کی طرز اپنائے ہوئے ہوں گی ، البتہ مثبت تنقید اور تعمیری فکر کے لئے آپ بلاجھجک لکھ سکتے ہیں۔

۔۔ مستند اور بادلیل تحریر کا رستہ اپناتے ہوئے، آپ تمام روایتی نظریات کو چیلنج یا اُن کے رخ کی من چاہی تشریح کر سکتے ہیں مگر صرف ایک شرط لاگو ہے کہ آپ کی تحریر  ردعمل، تعصب، اور نفرت پر مبنی نہ ہو بلکہ اس میں دلیل اور منطق کی بنیاد پر اپنی گفتگو اک مکالمہ کے اندازمیں پیش کی گئی ہو ۔

۔۔ سیاسیات اور مذہبیات دونوں ہی ازحد حساس موضوعات ہیں ،لکھاری کے صفحات نہ تو تعصب پر مبنی سیاسی و مذہبی تنقید کے لئے ہیں اور نہ ہی کسی مخصوص سیاسی و مذہبی نظریے کے پرچار کے لئے ، البتہ آپ چاہیں تو کسی بھی  سیاسی نظریے اور مذہبی فکر کے اثرات  و سماجی/سیاسی تشریحات پر بادلیل تنقید و تحسین فرما سکتے ہیں ۔

۔۔ لکھاریوں سے توقع ہے کہ ان کی تحریریں معاشرے کے مجموعی رنگ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کی اصلاح پر مرکوز ہوں گی نہ کہ من گھڑت سازشی نظریات کی پرچارک ہوں۔ لہذا ہمیں اک مضبوط امید ہے کہ تمام لکھاری ، آئینِ پاکستان، پارلیمان، معزز عدلیہ و سیاستدان، افواج ِپاکستان یا ملک کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی حامل تحریریں ارسال کرنے سے گریز کریں گے ۔ اسکے ساتھ ساتھ ہی دیگر اقوام، ممالک ، مذاہب و نظریات  وغیرہ کے حوالے سے بھی منفی سوچ کی تحاریر کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ اس معاملہ میں آپ سے گزارش ہے کہ  لکھاری کے ذمہ داران کے معیارِ انتخاب پر یقین رکھیے۔

۔۔ تمام معزز لکھاریوں سے توقع ہے کہ ان کی تحریروں میں درج اقوال یا اشعار ،جو کسی اور کی تخلیق ہوں گے،  ان کے حوالہ جات ضرور شامل ہوں ۔

۔۔ لکھاری کے صفحات کو صرف سنجیدہ موضوعات اور علمی انداز کا کوئی نصابی شمارہ نہ سمجھئے گا،  بلکہ یہاں طنز و مزاح اور منفرد فکاہیہ انداز کی تحریروں کو بھی اہمیت دی جائے گی ۔ علاوہ ازیں،  معاشی/سماجی/معاشرتی معاملات، سفرنامے، انٹرویوز، شخصی خاکے، تاثرات اور اردو کی دیگر اصناف وغیرہ کی بھی پورے خلوص سے حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

۔۔ ادب اور ادیب دونوں ہی لکھاری کے لئے محترم ہیں، آپ ادب کی کسی بھی صنف پر لکھنا چاہیں تو لکھاری کے صفحات کو حاضر پائیں گے چاہے وہ طویل افسانہ ہو یا مختصر افسانچہ ، سلسلہ وار ناول ہو آذاد نظم ۔ اشاعت کے لئے شرط صرف تخلیق کا معیاری ہونا ہے ۔ لکھاری ایک وقت میں پندرہ سو (1،500) الفاظ سے زیادہ کا مضمون نہیں چھاپے گا اور ایسے مضامین کو قسطوں میں شائع کیا جائے گا۔ اسکی وجہ صرف یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر پڑھنے والوں کی توجہ کا دورانیہء ارتکاز عموما کم ہوتا ہے۔ لمبے اور پیچیدہ موضوعات کو ایک ہی قسط میں پڑھنا نہ صرف مشکل محسوس ہوتا ہے، بلکہ لکھنے والے کی منشاء، کہ اسکے مضمون کی اثرپذیری محسوس کی جائے، بھی پوری نہیں ہو پاتی۔

ان مختصر ہدایات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں لکھ بھیجئے وہ سب کچھ جو آپ لکھنا چاہتے ہیں۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کی تحریر کو مسترد کرنے کا حق کم سے کم استعمال کیا جائے گا۔

آپکے تعاون اور معاملہ فہمی کا بہت بہت شکریہ۔

Share This: