میں ایک سینئر تجزیہ نگار ہوں

آئیے مجھ سے ملیے، جناب۔ مجھے جانیے۔ مجھے بولتے ہوئے سنیے، اور پھر سر دھنئیے۔ میرے لکھے ہوئے کو پڑھئیے، اور اس پر کسی آسمانی صحیفے کی مانند آنکھیں، اور دماغ، بند کرکے یقین کیجیے۔ میری سماجی پبلک ریلیشنز کی بنیاد پر کہ جہاں میں مخلتف “سینئر صحافیوں” کو  کھانے کھلا سکتا ہوں، ہی تو میری سینئر تجزیہ نگاری، اور دانشوری زندہ ہے۔ ان سینئر صحافیوں کے پاس جب تک پاکستانی اردو اور انگریزی اخبارات کے اداراتی صفحات تک رسائی ہے، اور ٹی وی کیمرے کے سامنے بٹھانے کی طاقت ہے تو میں آپکے بیڈ روم کے اندر گھُس کر آپکو اپنے دانش کے تازیانے سے پیٹوں گا۔ اتنا، مسلسل اور لگاتار پیٹوں گا کہ آپ یا تو مکمل طور پر میرے دماغی اختیار میں آ جائیں گے، یا پھر مجھے گالیاں دیتے ہوئے اپنا اخبار، یا ٹی وی  چینل بدل لیں گے۔

آپکی گالیوں کی فکر ا سلیے بالکل نہیں کہ مجھے اس سے فرق کوئی نہیں پڑتا۔ مجھے میرے ادارے سے ملنے والی پینشن، سیاسی جماعت کی جانب سے عطا کی جانے والی پوزیشن، اور صحافتی ادارے کی جانب سے دی جانے والی ماہانہ تنخواہ ہی کافی ہے۔ سماجی، سیاسی، قومی اور کبھی کبھار کی بین الاقوامی اثرپذیری بونس میں مل جاتی ہے۔  اور آپ کیا ہیں؟ گالیاں بکنے والے دو ٹکے کے عام پاکستانی شہری، جوگالیاں بھی مجھے دیتا ہے، مگر ہر روز رات سات بجے اپنے ٹی وی چینل کے سامنے ایسے بیٹھ جاتا ہے جیسے اک مرید بے مِثل، اپنے پیرِ کامل کے سامنے گھٹنوں، گھنٹوں بیٹھا رہتا ہے اور جیسے وہی اپنی عقل اور علم کو  پیر کے پیروں تلے گروی رکھ کر طریقت و روحانیت کی منازل طے کر رہا ہوتا ہے، ویسے ہی آپ اپنے سکون اور فہم کو میری شاندار تجزیہ نگاری کے بلڈوزر تلے روندوا رہے ہوتے ہیں، اور آپ کو اس میں اک لذتِ بےمثال  حاصل ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر آپکو میری دانشوری کی عظیم آبشار کے اک جانب کھڑے ہوکر، میری بقراطیوں کی رم جھم میں کھڑے ہو کر اک نشہ آورانہ مزہ نہ آ رہا ہوتا، تو جناب، کیا میں آج سینئر تجزیہ نگار ہوتا؟

یہ آپ ہی تو ہیں کہ جن کی بدولت میں پاکستان میں پچھلے تیرہ سال کی میڈیائی آزادی میں بالخصوص او رقریبا ستر سال کی صحافتی تاریخ میں آپ کے سامنے مختلف بیانیوں کا ننگا ناچ کر تا چلا آ رہا ہوں۔ یہ آپ ہی تو ہیں کہ جن کی عقل و ذہن کو میں نکیل ڈال کر کبھی اِس سمت میں گھسیٹتا ہوں، تو  کبھی اُس سمت میں۔ اور یہ آپکی شدید مہربانی ہی ہے، جذبہ ایثار و قربانی ہی ہے کہ آپ بھی اس نکیل کے کچے دھاگے میں، میری تجزیہ نگاری کی محبت میں گھسٹتے ہی چلے آ رہے ہیں۔ ستر سال تو گزار دئیے محترمین، آپ اپنی عقل، فہم، ذہانت، فطانت، اور ذہن میں میری نکیل پورے خشوع و خضوع سے ڈلوائے رکھیں، تو اگلے ستر نہیں، ستر ہزار سال، انشاءاللہ، آپکے سروں پر اور پاکستان کی معاشرت میں میری دانشوری اور تجزیہ نگاری کا سورج نصف نہیں، بلکہ ایک چوتھائی نیزے پر چمکتا رہے گا۔

یقین کیجیے کہ میری تجزیہ نگاری اور دانشوری، آپکے خلجان، سازشی نظریات، ہذیان، سنسنی خیزی، کم علمی، جذباتیت، جلدبازی کی محتاج تو ہے ہی، مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ کی کم عقلی، کتب بینی سے دوری،  اور دھیرج کو برابر از گناہ جاننے کی عادت کی بھی مرہونِ منت اور شکر گزار ہے۔ پچھلے ستر سال کے رویے تو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آپ نے کچھ نہیں سیکھا، سیکھتے بھی کیسے کہ  جو مزہ نعرہ مارنے اور سازشی نظریات سننے میں ہے، وہ خاموشی سے کتب بینی، متوازن رویے اور  خاموشی سے اپنے کام سے کام رکھ کر شانداریت قائم کرنے میں کہاں ہے، جناب؟ ویسے بھی آپ سیکھتے کیسے کہ آپ سیکھنے، اپنی رائے بنانے اور اپنا بیانیہ بنانے کے لیے میرے الفاظ کے محتاج ہی تو رہے۔ اور میرا جو حال اصل میں ہے، وہ آپ بھلے نہ جانیں، میں تو جانتا ہوں نا۔ تو لہذا، آپ اپنی روش پر رہیں، میں اپنی جَون پر رہتا ہوں۔ آپ اپنے خول میں خوش و خرم، میں بقراطی کے ایورسٹ پر بیٹھا گیان بانٹتا مطمئن و مسرور۔

میں آپکو ماتھے پر محراب سجائے نیویارک میں نظر آتا ہوں، کہ جہاں اک بلٹ پروف گاڑی میں چند سال قبل میری  پھیلائی ہوئی “خوشبویات” کی کہانی آج بھی پاکستانی سفارتکاروں کے ذہن میں ہوگی۔  میں آپکو بریگیڈئیر امتیاز کی بغلیں صاف کرنے سے شروعات کرتے ہوئے، جماعت اسلامی کا رُوٹ اختیار کرتے ہوئے، میاں، بی بی، پھر بوبی کمانڈو سے محبت کے اظہار کے بعد، زرد-آری صاحب کی جیب میں پڑا  سفارت کرتا نظر آتا ہوں۔ میں آپکو روزنامہ اوصاف میں الیاس کشمیری کے ہاتھوں میں کٹے ہوئے اک انڈین فوجی کے سر کی تصاویر شائع کرتا نظر آتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ جہادی اور مذہبی طبقہ کا کوئی ذریعہ اظہار نہ تھا، لہذا بطور مدیر، انکو اک پلیٹ فارم مہیا کیا، وہ الگ بات کہ میرے والدِ محترم جو اصل میرِ کاررواں تھے، اسی طبقے کے ہاتھوں وقت سے پہلے عازم اجل ہوئے۔ میں آپکو شراب کے نشے میں دھت، پلاٹوں جیسے اہم قومی سلامتی کے مسئلے پر اسلام آباد کے اک صحافی کو فون پر ننگی گالیاں دیتا نظر آتا ہوں، اور اک  لاہوری اردو اخبار کا مدیر اعلیٰ ہوں۔ میں آپکو “ملک الپلاٹ” کی خوشامد کرنے میں اپنے ساتھ والی اینکر سے شدید مقابلہ کی ریس کرتا نظر آتا ہوں، مگر دیکھ لیجیے کہ ابھی بھی کھری باتیں آپکو کھینچ کھینچ کر مارتا ہوں، اور آپ کو ان چوٹوں میں مزہ آتا ہے۔ میں آپکو اسی ملک الپلاٹ کےلئے مختلف حوالوں سے لکھتا اور بیا نیہ بناتا نظر آتا ہوں، اور آپکو اشفاق احمد کی بنائی گئی  “بابا اینڈ کومپنی” کا جدید ترین ورژن ہر اتوار کر پڑھواتا ہوں، اور آپ مجھے پاکستان کا صف اول کا کالم نگار مانتے ہیں۔  میں شریف، لقمان، دانش، پیرزادہ، سلمان بن کر آپکو ٹھمکوں میں سے انقلاب و تبدیلی کی برآمدگی کی نوید سناتا، اور حروف پڑھواتا نظر آتا ہوں۔  میں دفاعی اداروں میں نوکری کرنے کے بعد جب ساری دنیا میں پاکستان اور اسلام کا عظیم پرچم بلند کر چکا ہوں تو آپکے سامنے بیٹھ کر آپکےہی ووٹ سے منتخب لوگوں کو جاہل، احمق، دغا باز، اور کبھی کبھار غدار ثابت کرتا دِکھتا ہوں۔ اور ہاں، چھ لاکھ سترہ ہزار روپے کی ماہانہ دانشوری بھی لال ٹوپی پہن کر کرتا ہوں، اور آپ مجھ میں اقبال کا شاہین تلاش کرتے  رہتے ہیں۔

میں اور بھی بہت/بہت کچھ ہوں، اتنا کچھ کہ آپ جیسے بد عقل، کج فہم اور کم علم لوگ میری عظمت کے رنگوں کا احاطہ کر ہی نہیں سکتے۔ یہاں لکھنے پر آؤں تو پاکستان کے تمام گندے نالوں میں بہتے خوشبودار جھرنوں کی سیاہی بھی میرے کارنامے لکھنے سے قاصر ہو گی۔

آپ میری اس مضمون میں لکھی تمام باتوں کو مانیں۔ اسی میں آپکی عقل ، فہم، فراست اور علم کی خیر ہے۔ کیونکہ آپ میری دانشوری کے جال میں پھنسی اک گندی مکھی ہیں، اور میں؟

جناب، میں اک سینئر تجزیہ نگار ہوں!

Share This:

تبصرے