میں تحریک انصاف سے مایوس کیوں ہوں؟

 

ابھی کچھ دیر پہلے، اپنے ایک دوست فصیح سے کہا کہ اپنی زندگی کی ماراماری کے بعد اک حقیقت یہ آشکار ہوئی ہے کہ دوسروں کو امپریس کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے آپکو مناسب پیرائے، اور اگر اجازت ہو تو تھوڑی بے تکلفی سے، ایکسپریس کر لیا جائے۔ امپریس کرنے کا کیمیاء یہ ہے کہ یہ آپ دوسروں کے لیے کرتے ہیں، جبکہ ایکسپریس، آپ اصل میں لیے کررہے ہوتے ہیں۔ اسی عمل میں اگر امپریشن بھی بنتا چلا جاتا ہے تو صاحبو، وہ گویا بونس ہوا۔

میرے کئی اک اصل اور ای-دوست مجھے تحریک انصاف کا مخالف سمجھتے ہیں۔ انکے لیے اہم اعلان یہ ہے کہ میں پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کا مخالف نہیں ہوں۔ سیاسی جماعتیں، لوگوں اور قوموں کا اثاثہ ہوتی ہیں۔ یہ اک دن میں نہ بنتی ہیں، اور نہ ہی ختم کی جاسکتی ہیں۔ لوگ، بالخصوص نوجوان، اپنی آنکھوں میں بہتر مستقبل کے دئیے روشن کیے ان سیاسی رہنماؤں کے ہاتھوں میں گویا اپنی زندگی کی ڈور دے ڈالتے ہیں، کہ جہاں چاہے یہ رہنمانانِ کرام انکو اپنے ساتھ لیے چلیں۔ خود کا ڈھول کیا پیٹنا، دوستو، مگر سچ کہتا ہوں کہ زندگی کے پیشہ وارانہ سفر میں، میں 1997 سے سیاست و سماج کے موضوعات سے منسلک ہوں۔ شروع میں یہ عمل مجبوری تھا، پھر شوق بنا، پھر پیشہ، اور اب شوق اور پیشہ کا مرکب ہے۔ اپنے تمام دوستوں سے ہمیشہ کہتا ہوں کہ سیاست و ریاست سازی، نہایت سست رو، ٹھنڈے دماغ اور دھیمی آواز کے کام ہوتے ہیں۔ جلدی میں تو آپ چائے کا ایک کپ درست نہیں بنا سکتے، قوم ، معاشرہ، ملک کیا بنائیے گا؟

خیر، میری ووٹنگ پروفائل یہ ہے کہ میں نے 1993 اور 1997 میں پی پی پی کو ووٹ دیا۔ 2002 اور 2008 میں مسلم لیگ نواز کو اور 2013 میں پاکستان تحریک انصاف کو (آہ!)۔ میرا اگلا ووٹ شاید دوبارہ سے مسلم لیگ نواز کو جائے گا، اور اسکی وجہ میری نواز شریف صاحب سے عشق نہیں، ووٹنگ پیٹرنز پر انکی جماعت کی مختلف پالیسیوں کے حوالے سے اک مناسب سی پختگی ہے، جو دوسری جماعتوں میں، ماضی قریب اور موجودہ حال میں مفقود نظر آتی ہے۔ ووٹنگ پیٹرنز پر جلد ہی کچھ تحریر کرونگا، مگر قومی اسمبلی کا ووٹ آپ، پارٹی کو دیتے ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کا ووٹ آپ پارٹی اور امیدوار کے مکسچر کو، جبکہ بلدیاتی انتخابات میں آپکا ووٹ امیدوار کو جاتا ہے۔ یہ براڈ آؤٹ لائن ہے، تفصیل پھر کبھی سہی۔

میں جنرل ضیاء، کہ انکا نام لکھتے میرے کی-بورڈ کو دکھ ہوتا ہے، کے فراہم کردہ  ریاستی پروپیگنڈہ کی متاثر نسل سے ہوں۔ سماج، معاشرت، ریاست  و سیاست سے غلط اور جھوٹ سکھایا گیا۔ ذہنی بلوغت کچھ حاصل ہوئی تو سیکھے ہوئے تو غیر-سیکھنا نہایت ہی مشکل کام ثابت ہوا، یہ کام ویسے مشکل ہی ہوتا ہے، اور زندگی کے 35ویں سال میں مذہب، معاشرت، سیاست، آئین، سسٹمز، سماج  وغیرہ اور انکے اردگرد بُنے ہوئے تانے بانے: ان تمام کے بارے میں اک نیوٹرل پرسپیکٹو سے سیکھنا، اک اعصاب شکن مرحلہ رہا۔ یہاں پر مضمون کے اس بہاؤ  کو روکتے ہوئے، اسے ٹاپ سے شروع کیے دوسرے پیراگراف سے جوڑوں گا جہاں میں نے سیاسی جماعتوں کی بابت بات کی تھی۔

میں نے پاکستانی سیاست میں 1988-1999 تک کے سرکس کو دیکھا ہے۔ اسمبلی میں بےنظیر بھٹو شہید اور نواز شریف صاحب کے “سیاسی کتھک” دیکھے اور برداشت کیے ہیں۔ ایم کیو ایم کی بندرانہ چھلانگیں اور مڈل کلاس پارٹی ہونے کی ٹرک کی بتی کو بھی سہا ہے۔ مجھے تو عمران فاروق مرحوم کی وہ تقریر بھی یاد ہے جو انہوں نے بی بی کی پہلی حکومت کے خلاف میاں صاحب (اسکو آئی ایس آئی پڑھئیے) سپانسرڈ تحریک عدم اعتماد کے موقع پر کی اور اس میں اک شعر  کی پیروڈی کی تھی کہ: غضب کیا، جو تیرے وعدے پر اعتبار کیا – گیارہ ماہ قیامت کا انتظار کیا!

بےنظیر بھٹو کا “گو بابا گو” بھی یاد ہے، اور تہمینہ دولتانہ کا صدر فاروق لغاری پر چوڑیاں پھینکنا بھی۔ ایٹمی دھماکہ نہ کرنے پر بی بی کا حیدرآباد جلسے میں نواز شریف کو چوڑیوں کا تحفہ بھیجنا بھی یاد ہے۔ بےنظیربھٹو کا اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل اور مری آباد کرنا بھی یاد ہے اور نواز شریف  کا چھانگا مانگا جنگل میں  ممبران قومی اسمبلی کا منگل بازار لگانا بھی یاد ہے،  اور کہ جن کو میں تحریک انصاف کے تایا ابو جان کہتا ہوں، شیخ رشید کا بی بی کو اک عوامی جلسہ میں یہ کہنا بھی یاد ہے کہ “یہ آگے سے تنویر اور پیچھے سے پروین ہے!”  بی بی حکومت نے انکی اس تقریر کے بعد، لال حویلی سے صوفے کے نیچے سے کلاشنکوف برآمد کرکے شیخ صاحب کو میانوالی اور بہاولپور جیلز میں بھیجا، جہاں سے وہ فرزندِ پاکستان بن کر نکلے، جبکہ یہی کلاشنکوف جب اعجاز الحق نے لہرائی، تو وہ صوفے کے نیچے سے برآمد ہونے کی بجائے، لکڑی کی بن گئی۔ وردی کے اپنے ہی معجزے ہیں، بھائیو!

سنہء1988-1999 تک کے بارہ سالہ سرکس نے پاکستان کو کچھ نہ دیا کہ مسلسل شورش، شوریدگی، جلدی کی جذباتیت اور اونچی نعرہ بازی رہی۔ ترقی کیا ہوتی، ترقئی معکوس کا اک سفر جو جاری رہا، جو میاں نواز شریف  کی انانیت و حکومت میں ہونے کے تکبر  (جی یہ فقرہ درست ہے کہ  اک نہایت بااختیار، میاں صاحب، مارچ 2000 میں امیرالمؤمنین بننے کے چکروں میں تھے) کی وجہ سے اکتوبر 1999 میں فوجی بوٹ کے تلے چلا گیا، جس نے اگلے دس سال تک اس منفیت کی سپیڈ خوب تیز کرکے رکھی۔

میری تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی وجہ انکا اک مڈل کلاس آؤٹ لُک اور بیانیہ بنا اور یہ امید کہ  یہ جماعت اک سیاسی متبادل بھی فراہم کرے گی، بوجود اسکے کہ اس جماعت کی پنیری جنرل حمید گل اور بعد میں تناوری اک پاشائی معجزہ کے حوالے سے میرے علم میں تھی۔ مگر سچ ہے کہ کہا جائے، بھٹو، نواز، اصغر وغیرہ بھی چھڑی کے نل سے پانی وصول کرتے رہے۔ عمران نیازی صاحب کو جون 2013 سے  “راگ دھاندلی” گاتے دیکھنا شروع کیا، بیچ میں “پینتی پینچر” آئے، جسٹس افتخار چوہدری ہیرو سے زیرو بنے، جسٹس ریاض بھی کرپشن کے ساتھی بتائے گئے، ایمپائر کی انگلی، گیلی شلواریں، اوئے نوازُو، گونواز گو، ہیلی کاپٹر نوازو کو لینے آ رہا ہے، ادھر احتجاج، اُدھر احتجاج، دھرنا، گفتار و زبان پر مسلسل تیزابیت، اسمبلیوں اور نظام کو گالیاں، قومی اسمبلی پر لعنت (اور بعد میں اسی کا حصہ!)، اپنے ساتھ تحریک انصاف کے تایا ابو، شیخ رشید، تحریک انصاف کے چاچو، جناب مبشر لقمان مدظلہ علیہ، تحریک انصاف کے ماموں (جو خود انہیں ماموں بنا گئے) طاہرالقادری الکینیڈوی، سکاٹ لینڈ میں مسلمانوں کے امیر، چوہدری سرور کا ساتھ، اور مسلسل “میں نے یہ کیا، میں نے وہ کیا، میں نے یہ کہا، میں نے وہ کہا” وغیرہ نے مجھے ہمیشہ شیخ رشید صاحب کی تنویر اور پروین کی تقریر ہی یاد دلائے رکھی۔ بات بات پر دھرنا، احتجاج کی دھمکی، اک قومی رہنما سے “قومی یو-ٹرن سپیشلسٹ” بن کر “ابھرنا،” اور آخر میں کانوں اور زبان کا کچا ہونے کے علاوہ، پاکستانی مذہبی سیاسی جماعتوں کی ہی طرز پر مذہب و خدا کی تربیت و حکمت کی خود سے کچی پکی تشریح کرکے، پھر سے جنرل ضیائی بیانیہ کی ترویج!

ابھی چوالیس سال کی دھیرج والی عمر میں، مجھے تو 50 سی سی موٹرسائیکل میں اک جیٹ ہوائی جہاز کا انجن لگانے کی کوئی تُک سمجھ میں نہیں آتی، بالخصوص جب اپنی حکومت کے صوبے کے تقریبا 80 فیصد اشارئیے یا تو منجمد ہیں، یا منفی۔ موجودہ رویے کے ساتھ، میرے یارو، تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں۔ ا س جماعت کی لیڈرشپ کو اپنی، اپنے جماعت کے نظریہ اور اپنی جماعت کے کارکنان کی تربیت کرنا ہوگی، جو کہ شدید مشکل اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ بگاڑ کے بعد سدھار، شروع سے ہی سدھار سے کہیں زیادہ مشکل اور پسینہ نکال دینے والا ہوتا ہے۔

میں ووٹ لازما” دونگا کہ یہ میرا سیاسی فرض ہے، مگر میری ذات کا آخری سیاسی سچ یہی ہے کہ میں جیسے 1988-1999 کی سیاسی شورش سے مایوس ہو گیا تھا (ووٹ بہرحال میں لازمی دیتا رہا)، بالکل ویسے ہی عمران نیازی صاحب اور تحریک انصاف کی موجودہ روش، اور آنے والے مستقبل کے حوالے سے چاہی جانے والی  Solidity  سے مایوس ہوں۔ جب یہ میرا، اور مجھ جیسوں کا عمومی سچ بن چکا ہے، تو محترمین، مایوسی میں انویسٹمنٹ کون کرتا ہے؟

اس سوال کا جواب خود سے پوچھ لیجیے۔

پس تحریر: اب تحریک انصاف کے صاحبان مجھے ہر لحاظ سے تولنے میں آزاد ہیں۔ بسم اللہ، شروع کیجیے!

Share This:

تبصرے