وی سی آر چوک فیصل آباد اور گلوبل چوہدری

سوہنے  شہر فیصل آبادکی بکر منڈی   کا چوک ، جس سے لکڑ منڈی کا قصد کئے قدم اُٹھیں  تو فرلانگ  ڈیڑھ فرلانگ کی  دوری    پر  ایک اور تنگ  سا چوک آیا کرتا تھا۔ رستہ تو پتھریلانہیں تھا مگر  گُزرنے والوں کے کانوں  میں پتھر  یاں بھر جایا کرتی تھیں۔ چاروں  اطراف لگی پاور لومز کی کی ٹھک ٹھک اور پسینہ بہاتے مزدوروں کی چخ چخ سنگ چل پھرتی  تھی ۔  مذکورہ چوک  کی پہچان  فور  ڈائمنشنل بکھرتے سُر ، چیخم دھاڑ   اور دلوں کو گل رنگ کرتے محبت بھرے ڈائیلاگز کانوں سے ٹکرانے  لگتے  کِسی رُ خ سے امیتابھ کی  کھنکتی آواز توجہ کھینچتی  تو  اگلے ہی لمحے سلطان راہی گرج کر سب  بولتیوں کو  اپنے لییٹے میں لے  لیتا تھا ۔ ہر طرف   یہاں ہوٹل  ہی تھے  تندوروں کا بالن ختم ہونے کی نسبت وی سی آر میں   گھومنے والی ریل  کو بریک  لگنا   زیادہ  گھاٹے کا سودا  ہوا کرتا  تھا ۔فیکٹری ایریا کے مزدور  روٹی   پیٹ میں اُتارتے ہوئے خیالوں کی آوارگی کو کِسی فلمی پرستان  کی سیر کراتے،شاداں نظر آتے تھے  ۔   یہاں کُچھ غلط ملط اور  غیر اخلاقی پروگراموں  کے چلنے کا  دھواں بھی اُٹھا کرتا تھا ۔ ایسے میں سماج سدھارن    مفکر  حضرات ، بے بس  ہوئے اپنا خون  ہی جلاتے   رہ جاتے ۔اس چوک     میں چلتا   روٹی دال بوٹی کا یہ کاروبار پولیس کی چشم پوشی کا بھی محتاج تھا ۔ مگر پولیس کے چاند  چہروں پر لگے دو  کالے بٹنوں پر  سے  کبھی کبھار ایمانداری کے” چشمے ” ڈنڈے لاتوں گھونسوں کی صورت  میں  پھوٹ پڑا کرتے تھے ۔

آج اُس وی سی آر چوک کا نام  لینے والا  بھی کوئی نہیں۔  پولیس کی کارکردگی  تھی اور نہ ہی    کسی ایمانی بارش کا  معجزہ،  بس یوں سمجھئے جِس نے میلہ سجایا تھا اُسی نے  نٹ بولٹ کھول کر اُکھاڑ ڈالا۔ ٹیکنالوجی  کی لگائی ”  رونق  “وی سی آر   کی ایکسپائری ڈیٹ آنے پر  ما رکیٹ سے اُٹھ  گئی ۔ یہی  “رونقیں “آج   ہتھیلی   کی لکیر بنے  موبائل  سیٹوں میں جا سمائی ہیں  ۔ فیصل آباد کے  وی سی آر  چوک   کی موت  تو  خیر فطری تھی مگر اپنے علاقائی  موسم اور ثقافت سے جُڑے  میلوں ٹھیلوں کو  کالی   زبان  کے پھکڑ بول بول  کر ہم  نے  زندہ درگور  کر ڈالا۔

بہار کی بسنت کو ہندؤں کی سازش سے جوڑ ا اور  طہارت کا اعلی مقام پایا۔ سرا تو  خیر ہم نے  کبھی ڈھونڈا نہیں  مگر  ڈور الجھانے والوں کو  ہم دور سے  ہی پہچان  جاتے  ہیں ۔جیسے پاؤں بھاری  ہوئی  ناری   کے قدم ماپ کر  آنے  والی خبر کے بہت  سے اندازے لگا لیا کرتے ہیں ۔۔  کُتے سے ناپاک ہندومت اورلومڑی  سے چالاک یہودیت  کی چالوں کی  پہچان  ہم سے بہتر کون جانے ۔  ابھی بہار کی چہکتی  بسنتیوں کو  بمشکل چھتوں سے اُتار  پائے  تھے   کہ یہودی  ہماری  ثقافت کی شاہ رگ”  حیا ”  کو گلاب کی پتی سے کاٹنے لگے  مگر  بھلا  ہو  اُن   ڈٹ  جانے والے باڈی گارڈوں کا ۔اپنی   الگ شناخت  ، تہذیب  و ثقافت   کی راکھی کا دل سے قائل ہونے  کے  باوجود ان باڈی گارڈ ٹائپ حضرات کی طرف   سے ہلکا  پھلکا سا،  ہوا  میں اُچھلتا   محسوس ہوتا “غیرت   کا  بیانیہ    ” میرے خیالوں  میں  سبز   رنگ کی میز  پر بے وزن  اور  بے داغ  ، ٹک  ٹک  کرتی اچھلتی  سفید پنگ پانگ بال کا تصور بنے  ابھرتا  ہے ۔ آنکھوں  میں ٹھنڈے پانی کے چھٹے مار   کر  اگر سوچا  جائے  تو  غیرت اللہ والوں کا وصف   ہوا  کرتا ہے جِسے اسقدر  ہلکا  بے وزن  بطور استعارہ بھی   استعمال نہیں ہونا چاہئے ۔

فیصل آباد کے  ایک غیر معروف چوک سے شروع   ہوئی بات  گھنٹہ گھر   سے جُڑے  بھوانہ بازار تک جا پہنچی ہے  جہاں  کِسی  دُکان پر  لگے  بورڈ پر  ایک ہاتھی بنا دیکھا  تھا تو میں  حیران و پریشان   دیدے پھاڑ ے دیکھتا ہی رہ  گیا تھا ۔  حیرانگی کی وجہ ہاتھی کی اُٹھی سونڈ پر بنا  ہوا  گلوب تھا ۔ آج  بتیس  سال بعد وہ حیران کرتی ہوئی تصویر حقیقت بنے میرے سامنے ہے ۔ آج  کی  اس  چھوٹی سی دُنیا    کو کارپوریٹ کے بڑے  ہاتھی نے ایسے ہی  اپنی سونڈ پر اُٹھا  رکھا ہے ۔ ہم  اور  کُچھ  نہیں  بس اس دُنیا میں رہنے والے ” گلوبل پینڈو” ہی بن کر رہ گئے ہیں ۔  ہم گاؤں کے چوہدری کی مرضی کا کھاتے، پیتے  اور پہنتے ہیں ۔ اگر یقین  نہیں آتا تو  برکتوں   رحمتوں والے گُزرے مہینے کو   یاد رکر کے دیکھ لیجئے ۔ سحری میں   کون سا دہی ،دودھ اور افطاری میں کونسا مشروب  پینے سے  دن بھر فرشتے آپ  پر رحمتوں کی بارش کرتے رہیں گے  یہ سب باتیں اب  ہمیں پنڈ کے چوہدری  ہی  بتاتے ہیں۔

کیا ہی بہتر ہے کہ ان  چوہدریوں کے کمی بنے ایک دوسرے  کا گریبان   بھاڑنے کی بجائے ،  بھیس بدل کر دشمن کی صفوں میں گھسے وار کیا جائے۔ مکار  دشمن کے مقابلے میں چالاک چال چلی جائے ۔ لال گلاب اور اس دن سے جڑی کہانی کو اس قدر گڈ مڈ کر دیا جائے کہ سازش  کا پہلو ہی اپنی موت آپ مر جائے ۔ کُچھ  ایسا مُشکل  بھی نہیں ہے  یہی کام ہم  برگر  کے ساتھ کر چکے ہیں  ، بھلا ہیمبرگ کے برگر نے کب سوچا ہوگاکہ وہ  کبھی دُنیا کے کسی خطے میں “شامی  انڈا “کے نام سے پُکارا جائے گا۔

Share This:

تبصرے