پاکستان-بھارت: بریکاں فیل!

میں جب پہلی بار موٹر سائکل پر چلانے کی نیت کئے سوار ہواتو کزن نے چند مِنٹ پر مُحیط ایک لیکچر کانوں میں گھسیڑ دیا تھا۔ جِس کا آغاز کلچ کے تعارف و مقصد یت سے ہواپھر ایکسیلیٹر کی اہمیت اُجاگر کی گئی  ، تیسرے نمبر پر گئر کا استعمال اورسب سے آخر میں  بریک کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی۔ ایک اہم بات یہ بھی بتائی گئی کہ کلچ اور ایکسیلیٹر کے اِستعمال کے لئے ایک خاص قِسم کی مہارت اور توجہ  درکار ہوتی ہےاور معمولی سی لغزش کِسی بڑے نُقصان کا باعث بن سکتی ہے۔  پانچ منٹ کے اِس لیکچر کے بعد میں نے اپنی  تمام تر  توانائیاں یکجا کرتے ہوئے  کلچ دبایا   بائک گئر میں ڈالی پھِر ایکسیلیٹر اور کلچ میں بیان کردہ ربط پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ میر ی یہ  عملی  کوشش  موٹربائک   کو باِلکُل پسند نہ آئی اور جوابی کاروائی میں اُس نے مُجھے   یوں نیچے گِرایا جیسے  ایک چالاک اور تجربہ کار گھوڑا اناڑی سوار کو اپنی پیٹھ سے نیچے  گِرا تا بلکہ پھینکتا ہے۔

چند سالوں ہماری  مسجد کے قاری صاحب موٹر سائکل سیکھنے کے شوق میں مُجھے اُستادی کا رُتبہ عطا کر تے ہوئے خود کو میری شاگردی میں دے   بیٹھے ،کزن کا مِلا ہوا وہی لیکچر میں نے آگے   پاس اون کر دیا ۔ قاری صاحب  جیسےہی اِس لرننگ  مِشن پر نِکلنے لگے تو  اُن کی ہمت بندہانے کو میں بھی ساتھ ہو لیا۔ ہمارے قاری صاحب ایک جہادی ہونے کےناطے اعصابی طور پر مضبوط اعصاب کے مالک تھے ۔اُنہوں نے بڑے اعتماد  کے  ساتھ بائک کو گئر میں ڈالا اور معیار ی آہنگ سے کلچ اور ایکسیلٹر   سے دبایا اور پھر  چل سو چل   ،بات    پانچ مِنٹوں میں چوتھے گئر تک جاپہنچی  ،سپیڈ و میٹر کی سوئی ساٹھ سے ستر تک تو جیسے ایک نینو سیکنڈ میں پہنچی   مگر اگلا لمحہ نانی کے یاد آنے کا تھا۔ ایوب زرعی ترقیاتی اِدارہ فیصل آباد کی بیرونی دیوار مُجھے اپنی طرف بھاگتی ہوئی محسوس ہونے لگی ۔ میں نے فورا ً سے قاری صاحب کو رفتار آہستہ کرنے کو کہا اُن کا   جواب میں شدید خطرے کی علامت بنا سوالہ نشان بھی تھا”ی ی یار سپیڈ آہستہ کیسے کروں؟؟” تب جا کر مُجھے یاد آیا  کہ   ڈرائیونگ بابت دیئے گئے لیکچر  میں بریک  کا  حِصہ تو میں سہوا چھو ڑ ہی گیا تھا۔بس پھر کیا تھا مُجھے دیوار نہیں دوزخ کے داروغے ہاتھ پھیلائے نظر آنے لگے ، یقینا ہ اُس لمحے ہمارے قاری صاحب حوروں ک  کا نظارہ کر رہے ہوں گے بس  اِنہی میں سے کسِی  ایک حور کو دیکھ کر قاری صاحب جذباتی ہوئے اور  فُل کلچ دبا بیٹھے    یوں جنت کی سواری صِراط مُسقیم سےبھٹک کر سڑک سے نیچے  اُترتی فُٹ بال گراؤنڈ میں جاپہنچی  ۔ بچانے والے کا لاکھ احسان کہ اُس وقت  گراؤنڈ میں گھُٹنے  گھُٹنے  بارش کا پانی  جمع تھا اور یوں ہم تفریق ہونے سے بال بال بچ گئے۔

اپنی ہی زِندگی سے جُڑے کلچ بریک  سے سجے یہ واقعات نہ جانے کیوں سِتمبر کے آغاز  ہی  میں مُجھے یاد آنے لگے۔ ایسا ہی موسم تھا یہی مہینہ اور تاریخیں مگر اُس واقعے کو بیتے نصف صدی ہو چلی ۔جب ہمارا”موروثی دُشمن ” رات کے اُس پہر ہم پر حملہ آور ہوا جب ہم بقول شخصے، شرافت کی بھنگ پئے گہری نیند سو رہے تھے۔

اِس جنگ کے کُچھ واقعات بتاتے ہوئے گوہر ایوب  فرماتے ہیں ۔ ہندُستان کے حملے کے جواب میں  ہم نے کھیم کرن کے مقام پر حملے کا ایک  منصوبہ بنایا تھا  جِس کی منظوری جنرل ایوب خان نے خود دی تھی اور وہ اِس  آپریشن بارے میں بہت پُر اُمید تھے۔ کھیم کرن (قصور سے ملحقہ عِلاقہ) کے مُحاذ  پر ہم پیش قدمی کر رہے تھے ۔ایک نہر کے پُل پر سے گزرتے ہوئے ایک ڈرائیور نے کلچ دبا دیااور ٹینک وہیں پھنس گیا ۔ پُل مزید بوجھ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا  ہمیں پُل مُرمت کرتے ہوئے چھتیس گھنٹے لگ گئے فیلڈ مارشل بار بار  پُل کی مُرمت بارے میں پوچھتے رہے مگر اِس دوران ہندُستان  والوں  نے دریا جِتنی بڑی  مادھو پور نہر کو توڑ کر پورے عِلاقے میں سیلاب کی سی کیفیت پیدا کر دی   ۔ ہم وہا ں بُری طرح پھنس گئے اور یو ں یہ جنگ 11 ستمبر ہی کو ختم ہوگئی۔ الطاف گوہر  نے بھی اپنی کِتاب ” فوجی راج کے دس سال “میں  اِ س واقعے کو تفصیل سے بیان کیاہے۔

دھکے پر دھکا اور مارا ماری کی بیماری     کا اینٹی وائرس بنانے کو پچاس سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ ہم اچھے دوست نہ سہی دور سے ایک دوسرے کو ہاتھ ہلادینے والے خاموش تو ہمسائے بن کر رہ ہی سکتے ہیں۔ ایک بات یاد رکھنے کی ہے آج کی جدید لُغت میں جنگ کا مطلب جہنم کا وہ گہرا کنواں ہے جِس میں   سے جیتنے والے کا باہر نِکلنا بھی ناممکن ۔اپنے ٹینکوں کے کلچ دبانے کی بجائے   ترقی کی گاڑی کے ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھئے۔

اُدھر تُم اِدھر ہم   ،  ہم بھلے شب برات پر نوافل پڑھیں، اور وہ دیوالی پر پھوڑیں پٹاخے، کاش کہ بھول کر تاریخ کے پُرانے زخم ،لڑیں غربت سے ملا ئے قدم سے قدم، اُدھر تُم اِدھر ہم   جئیں زِندگی خوش و خُرم!

دنیا، علاقہ، خطہ، کہیں کا کہیں جا نکلا، اور ادھر ہم ہیں کہ اپنی موٹرسائیکلوں کو ریس تو دئیے جا رہے ہیں، اور بریک نامی کسی شے کا وجود ہی نہیں۔ پاکستان اور بھارت کوئی ڈیڑھ ارب کی آبادی کے دو ممالک ہیں۔ جتنا بڑا خطہ ہے، اتنے ہی بڑے ممکنات اور مواقع ہونگے، مگر ادھر کی سیاست و معاشرت کی “بریکاں ہی فیل” ہوں تو توازن اور ٹھہراؤ کیسے ممکن ہوگا؟

Share This:

تبصرے