پیدا کیے ہیں، تو پالو بھی!

جونہی کوئی معاملہ الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا کے ذریعےمنظرِ عام پر آتا ہے پاکستانی سوشل میڈیا کی بھی روزی روٹی نیز”فکری عیاشی” کا بندوبست اگلی “بریکنگ نیوز” تک تو ہو ہی جاتا ہے۔ مسئلہ چاہے کوئی بھی ہو آخری تان وفاقی حکومت پر ہی ٹوٹتی ہے۔

فرد معاشرے کی اکائی ہے۔حکومت، ریاست اور ادارے انسانوں ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔ ہم لوگ نہایت آسانی کےساتھ تمام تر مسائل ، غلطیوں،کوتاہیوں یا گناہوں کا سارا بار کسی ایک فرد یا ادارے پر ڈال کر بری الذمہ کیسے ہوسکتے ہیں؟

کوئی واقعہ منظرِ عام پر آجائےتواس کے محرکات ، اثرات اور نتائج کو یکسر نظرانداز کرکے جس بات پر سینہ کوبی کی جاتی ہے وہ ہے حکومت کی نااہلی، مانا کہ سسٹم گلا سڑا ہے، مگر کیا انفرادی حیثیت میں ہم اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں ؟کیاایک گھر  کی حثیت کسی ریاست کی بنیادی اکائی کی سی نہیں ہوتی؟

دو اصطلاحات جو کہ ہمارے ہاں کثرت سے استعمال کی جاتی ہیں “جنسی بےراہ روی” اور “عصمت ریزی”کیا ہم نے کبھی سوچا ہےکہ اس کی وجوہات اور محرکات کیا ہیں؟ایک  بچہ کیونکر جنسی طو پر بلیک میل ہوجاتاہے،بچہ تو خیر کیا والدین بھی بلیک میل ہوتےہیں۔کیوں؟

ابتداءگھرسے کیجیےنا! جنسی تعلیم و آگہی کےمعاملےپر خود کو “مذہبی” کہنےوالا یہ معاشرہ تو بچےکو جسمانی تبدیلیوں تک سے آگاہ نہیں کرتا بلکہ اسے “بےشرمی” کےزمرےمیں رکھتا ہے۔حکم تو یہ ہے کہ سنِ بلوغت سے پہلےبچے کو سمجھایاجائے۔ دوستانہ طریقےسے،یہ کام بیٹی کیلیے ماں،پھپھو،دادی کرے،بیٹوں کیلیے باپ اور بڑا بھائی ۔

مگر یہاں یا تو ان معاملات کیلیے بچوں کےوہ “دوست” معلومات فراہم کررہےہوتےہیں جواکثر کسی غلط سرگرمی میں ہی شامل ہوتےہیں یا پھرانٹرنیٹ کی بےہودہ سائٹس!

اس کے علاوہ معاشرتی گھٹن کوہی موردِ الزام مت ٹہرایے کہ آزاد معاشروں میں بھی بہت کچھ ہوتا ہےبچوں کےساتھ۔ والدین خود کتنے محتاط ہیں کہ بچےان کی کسی حرکت یا منظر کوذہن میں نقش کرکے “ٹوہ” میں نہ لگیں۔۔۔کبھی اس معاملےپرسوچاہے کہ ایک ہی کمرے میں والدین،بچےسو رہے ہیں تومعصوم اذہان پرکیا نفسیاتی اثرات ہوسکتےہیں ۔۔۔یونہی الگ کمروں کےمکین کبھی جھانکتےہیں کہ ساتھ والے کمرےمیں بچہ کس سرگرمی میں مصروف ہے۔۔

ذاتی رائے ہےکہ بچوں کو چند نکات چھوٹی عمرسے دھیرے دھیرے مختلف انداز سے ذہن نشین کروا دینے چاہییں۔

بچوں کو آگاہ کیجئےکہ ان کے جسم کے کچھ حصےماں کے علاوہ کسی بھی رشتہ دار یا باہر والے کو دیکھنےکی اجازت نہیں۔

بچوں کو سمجھایے کہ ان کے “پرائیویٹ پارٹس” کو چھونےکی اجازت نہیں اور نہ ہی کسی اور شخص کے جسم کے ان حصوں کو چھونا اچھی بات ہے۔والدین جملے کا دوسرا حصہ نہ تو خود ذہن نشین کرتےہیں اور نہ ہی بچے کوسمجھانا “مناسب” جانتےہیں۔جبکہ اکثرغلاظت کا “آغاز” اسی بات سے ہوتا ہے۔

غیرلوگوں کی گود میں بچے سوار کروانےسےپرہیزکریں۔ڈرائیورز،گھریلوملازمین کے سر پر بچوں کو مت پالیے۔

مدارس،سکولز اور دیگرجگہوں پربچوں کو ایسی کسی صورتحال سے نبٹنےکیلیےآسان الفاظ میں سمجھائیں کہ اگر ایسی کوئی بات ہو تو بچہ اونچی آواز میں “نہ” کرسکے یا کوئی بہانہ کرکےوہاں سے نکلے۔

بچےکوسمجھانا آپ ہی کا فرض ہےکہ “بےلباسی ” کیا ہے اور ایسی حالت میں کسی کو فوٹو یا وڈیو شرارت کے نام پربنانےکی اجازت نہیں۔بالفرضِ محال ایسا کچھ ہوگیا ہےتو “راز” بنانا نقصان کا باعث ہے۔

اکثردیکھاہےکہ بچہ کسی خاص مہمان کی آمد پر گھبراہٹ کا شکار ہوتا ہے۔والدین اس معاملےکوسمجھنےکی بجائے ڈانٹ ڈپٹ سےکام لیتےہیں۔نتیجتاً بچہ اس دلدل میں دھنستےہوئے نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔

بچے کو یقین ہو کہ گھر اُس کے لئے دارالامان ہے اور والدین ہی اس کے رکھوالے ہیں۔

ابتدائی عمرمیں بچوں کو مشکل اصطلاحوں جیسا کہ ”بیڈٹچ یا گُڈٹچ ” سے کنفیوز مت کیجیے۔سادہ اصول اور آسان زبان ہی واحد حل ہے کہ بچوں کو جنسی پجاریوں سےبچایا جائے۔

اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ تمام باتیں نہ صرف اس کی ذات کیلیے بلکہ کسی دوسرے کیلیے بھی یوں ہی اہم ہیں۔

والدین،بڑے بھائی بہن کے بعد اہم فریضہ اساتذہ کا بھی بنتا ہے کہ وہ طلباء کوغیرمحسوس طریقے سے اس سلسلے میں رہنمائی دیں۔۔۔یہاں لفظ “استاد” انہی کےلیے استعمال ہواہے جو اس کی حرمت سے آگاہ ہیں۔

کتنے ہی واقعات ہیں جنہیں والدین خود دبا دیتے ہیں کہ خاندان اور معاشرے میں “بدنامی” ہوگی۔۔۔اسی طرح چند کیسز ہیں کہ آپ انگلیوں پر گِن لیجیے جنہیں ان جرائم کی سزا دے کر عبرت کا نشان بنایا گیا ہو۔۔۔۔

حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں “ریاستی پالیسی سازی” نہیں ہوتی بلکہ حکومتی/سیاسی جماعت کی پالیسیاں بنتی ہیں جو ہر حکومت کے ساتھ ہی دفن ہوجاتی ہیں۔

آج “میڈیا رپورٹ” کے مطابق قصورشہر میں284 بچے سالوں سے “جنسی زیادتی” کا نشانہ بنتے رہے۔اس قوم کے بچے “انجیکشنز” اور بلیک میلنگ کے سر پر “جنسی کھلونا” بنے وڈیوز کی صورت “عالمی جِنسی منڈی” میں بِکتے رہے۔اور والدین سے لے کرپولیس، “عوامی نمائندے” سے لے کر سارا نظام اپنے اپنے گرداب میں پھنسا چُپ کا لبادہ پہنے یا رشوت بٹور کر جرم میں حصہ دار بنا رہا۔سوال میرا سب سے پہلے ان والدین سے ہے جوبرسوں”عزت” کے نام پر  بلیک میل ہوکر رقوم ان “خنزیروں” کو دیتے رہے جبکہ اسی رقم سے معاملہ قانون کےسامنے لایا جاسکتا تھا۔

سوال تو پھر یہ بھی ہے کہ عوام کو قانون پر اعتبار ہی کتنا ہے۔بقول اخباری رپورٹر، آپ کے “عوامی نمائندے”  کا اس سارے اسکینڈل میں براہِ راست ملوث ہونا اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ نظام میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کس قدر راج کررہی ہے۔

اب یہ معاملہ سامنے آیا ہےتو قانون جانے کب حرکت میں آئے گا ۔۔ لوگ بہرحال اس پر بھی “ایک” نہیں ہوں گے،وہی پشاور سانحہ والا معاملہ ہوگا۔کچھ روز بعد نہ صرف بھول جائیں گے بلکہ نیا جھنجھنا ملنے پر اس کھلونے سے منہ بھی موڑ لیں گے۔فی الحال تو صبح سے لوگوں کو “مسلکی،مذہبی،معاشرتی اور سیاسی” گروہوں میں تقسیم ہی دیکھ رہی ہوں۔سب اپنی “دکان” پر “بازار سے بارعایت خریدیں” کا بورڈ آویزاں کیے سودا بیچ رہے ہیں۔خریدنے والے ہر قسم کی “تھیوری” خرید بھی رہے ہیں اور کوسنے بھی جاری ہیں۔

ترجیحات۔۔۔۔ جی ہاں !جب تک گھریلو،معاشرتی اور ریاستی ترجیحات میں سرفہرست امور صرف پیسے کمانا، مفت انٹرنیٹ پیکجز یا ذرائع آمدو رفت ہی رہےگا تو قصورشہر جیسے معاملات سامنے آتےرہیں گےاوریا پھر ہم انہیں “عزت” کے نام پر دباتے رہیں گے۔

Share This:

تبصرے