چودری دا جوید پھوڑا!

اگر پاکستان کا کوئی شہری اردو اخبار کی جان نکالنا چاہتا ہے تو وہ اس میں سے عامل بابوں اور حکیم حضرات کےساتھ موٹاپےسے چھٹکارہ اور ضرورتِ رشتہ کے اشتہارات نکال دے۔ یہ اخبار چند سیکنڈ میں بے روح ہوجائیں گے۔اور اگر کوئی شخص اُس اخبار کو بے ادب کرنا چاہتا ہے جس میں خاکسار کالم نویسی کرتا ہو تو۔۔۔۔ کالم نگاری کی دنیا ویران ہوجائے گی جب اس میں سیاست کو سمجھانے کے لیے سیاحت،ادب،سائنس،شاعری اور صوفی ازم کا تڑکا لگانے والا موجود نہ ہوگا۔

کل شام بارش کا مزہ لوٹنے رین کوٹ پہن کرگاڑی میں باہر نکلا تو گلی کی نکڑ پر کھڑا پکوڑے بیچنے والا مجھے پاؤ بھر بینگن اور ہری مرچ کے پکوڑے اخبار کے اس تراشے پر رکھ کر تھما گیا جہاں میرا کالم چھپا تھا۔آپ اس شخص کی عقیدت کا اندازہ لگایے۔آپ اس کے حلال رزق میں برکت کا تصور کیجیے۔آپ سوچیے کہ اس ملک میں ایک پکوڑے والا خاکسار کے کالم کو اپنے رزق کمانے کا ذریعہ بنائے ہوئے ہے۔آنکھیں بھیگ گئیں اور چشمِ تصور سے ان بزرگ کو سلامِ محبت پیش کیا جنہوں نے بچپن میں میری گردن کا پھوڑا اپنے انگوٹھے سے پھوڑ ڈالا تھا۔ورنہ میں تو مجذوب بن کر آخرت سنوار بیٹھتا مگر آپ کو گھر بیٹھے دنیا جہاں کی سیرکون کرواتا؟ میٹا فزکس کی گتھیاں کون سلجھا پاتا اور ایک ہی کالم میں سکندرِ اعظم کے ١٧ لاکھ مربع میل کے ساتھ فاروق اعظمؓ کے ٢٢ لاکھ مربع میل کی فتح کا موازنہ کون فطین کر پاتا۔۔۔۔

اسی قوم کا غم پالتےنہایت کم عمری میں خون کی شکر بڑھا بیٹھا۔مٹھاس تو میرے لہو میں شامل ہے۔آپ کبھی مجھے غصے میں کرسیاں اچھالتے،پستول تانتے نہیں دیکھیں گے۔

اسی پھوڑے کا فیض ہے کہ مجھے ہر بات جان لینے کی جستو بچپن سے ہی ہے۔گھر کی لائبریری میں پڑی ہرے سروق والی واحد ضخیم کتاب میری پسندیدہ رہی۔آپ اس کتاب کو پڑھیں۔یہ دین و دنیا سنوار کر آپ کوکسی اور ہی جہان میں لے جائے گی۔آپ اس کے ان ابواب کا مطالعہ کیجیے جو شبِ زفاف سے متعلق ہیں۔۔حقوق و فرائض کی ایسی ضخامت،تفسیر و تفصیل آپ کو کہیں نہیں ملے گی۔یہی وہ باب ہے جہاں میں نے سعادت حسن منٹو جیسے فحش نگار کی “اوپر،نیچے اور درمیان” چھپا کر پڑھی۔گھر میں بہن۔ بیٹوں کی موجودگی میں اس شخص کی تصانیف سرِعام پڑھنا کوئی شریف النفس انسان تصور نہیں کر سکتا۔

منٹو ایک “فحش نگار اور بے حیاء ” لکھاری ہے۔ اس بات کا ادراک مجھے اس وقت ہوا جب میں نے اس کی “باردہ شمالی”پڑھی۔آپ اس کے استعارے دیکھیے،اس کی چالاکی اور ہوشیاری سمجھیے۔میں ایک معصوم بچہ ہوتے “گوگلز،بش شرٹ،لائبریری” جیسے استعاروں کی چال سمجھ گیا تو آج کا نوجوان یہ سب پڑھ کر کیوں نہ بہکے گا۔

آپ علم کی تڑپ اور جان لینے کی جستجو میں میری تکلیف کا اندازہ کیجیے کہ ٹوائلٹ سیٹس جیسی سہولت کی عدم دستیابی کے باوجود “الٹی شلوار” میں نے قدمچے پر بیٹھ کر پڑھی۔۔۔۔جس روز سٹور روم میں لحاف کی اوٹ میں چھپ کر “کھول دو” پڑھی تو میں آب آب ہوگیا۔
کالج دور میں ایک بولڈ کلاس فیلو خاکسار سےبہت متاثر تھی اسی لیے اچھی گپ شپ تھی۔تحائف کا لین دین بھی ہوجاتا۔ “ٹھنڈا گوشت” کا تحفہ میں نے کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر پڑھا۔۔۔۔۔آنکھیں پھوٹ گئیں ایسی بے شرمی اور غلاظت پڑھتے۔جانے کون لوگ ہوتے ہیں جو اپنے گھر کی طاقچوں میں منٹونامہ سجاتے ہیں۔بہن اور بیٹی کو ایسی تحاریر پڑھانا کسی حیاءدار گھرانے کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔

لوگ مجھے کہتے ہیں کہ منٹو نے بہت کچھ اچھا لکھا۔مگر میرے دل کا گھڑا بھر چکا ہے اس کی درج بالا تحاریر پڑھنے کے بعد میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ “موج دین” ہو یا “تیقن” یا ایسی کوئی بھی تحریر منٹو جیسا شرابی،ضدی اور بےحس انسان کچھ اچھا لکھ ہی نہیں سکتا۔آپ بتایےاقبال اور جناح کے بنائے اس ارضِ پاک میں طوائف اور جنسیات جیسے معاملات کیسے پنپ سکتے ہیں۔۔۔ معاشرے میں کیسی ہی گندگی ہو مگر اسے اچھالنے کا فن سراہنے کے لائق نہیں ہوسکتا۔
میں نے آخری کوشش میں سرمد کھوسٹ کی “منٹو” بھی دیکھ ڈالی۔۔ دل مکدر ہوگیا کہ جو اور جیسا میں نے پڑھا تھا وہ مناظر اسی طرح پکچرائز نہ کیے گئےجس طرح میرے ذہن کے پردے پر چلا کرتے تھے۔یہ سرمد کی مذموم چال ہے کہ لوگ ایک شرابی،ضدی اور بے حیاء افسانہ نگار سے عقیدت پال لیں۔

مانا کہ کوئی فلم شکتی کپور،گلشن گروور اور پریم چوپڑا کے بنا ادھوری ہے۔سیدھی بات ہے یہ ولن اگر ھیروئن کو اغواء نہیں کرے گا تو لوگ ھیرو کی عظمت کیسے سمجھیں گے۔۔۔یہ ولن پریش راول ہی تھا جس نے اجے دیوگن کو پاگل بنا کر “اک ایسی لڑکی تھی جسے میں پیار کرتا تھا” جیسے لازوال نغمے کا موقع فراہم کیا ورنہ “دل والے” جیسی فلم ڈبہ ثابت ہوتی۔۔

اس تمہید کا مطلب یہ ہے کہ اگر منٹو کی فحش نگاری کا راستہ بند نہ کیا جاتا تو سوچیے آج اس جیسے افسانہ نگار پر فلم بن سکتی تھی جو شراب نوشی کے باعث بیالیس سال میں ہی چل بسا ہو۔۔۔سرمد نے بہت نا انصافی کی ہے۔چوھدری صاحب نےہر وہ رسالہ بند کروایا جس نے منٹو کا فحش نامہ چھاپنے کا گناہ کیا۔۔۔وہ پڑھ کرہی فیصلہ کرتے ہوں گے نا کہ اس کا مواد اقبال کے شاہین پڑھ کر گمراہ ہوجائیں گے۔۔۔یتیموں کی کفالت کرنے والے نے کیا برا کیا جو منٹو پر زندگی تنگ کی،کوئی گناہ نہیں اگر ایک کچرہ نگار کو راہِ راست پر لانے کےلیے اس کی روزی روٹی پر لات ماری جائے۔۔

اب منٹو کبڑا ہوتا تو کُب نکل بھی جاتا۔وہ بےحس تو جگر پانی اور پھیپھڑے دھواں کرکے مرگیا اور آپ یقین مانیے آج بھی اسے ھیرو سمجھنے والے منٹو کا کوئی افسانہ اپنی بہن کے ہاتھ میں دیکھ کر زمین میں گڑ جاتے ہیں۔چوھدری کو ولن نہیں ثمرن کے باپ کا کردار ہی دےدیاجاتا جو آخری سین میں زندگی جی لینے کا سُکھ دیتا ہے۔۔۔۔آپ تصور کیجیےکہ اگر منٹو کےتمام افسانے چھپ جاتے تو آج اقبال کے پاکستان میں لوگ خودی بیچنے کی بجائے غریبی میں نام پیدا کرنے کا ہنر نہ سیکھ پاتے۔

بالکل ویسے کہ جیسے مجھ جیسا عظیم کالم نگار رقوم کے بحریہ، اور زر والی حکومت کے قلم کاروں کو دیئے گئے پلاٹ قبول کرکے غریبی میں نام پیدا کر رہا ہے۔ اور اگر یہ کام میں کر سکتا ہوں، تو جناب، صرف میں ہی کرسکتا ہوں۔

آپکو اصلی پیغام یہ ہے کہ “جسم نہ بیچ ، غریبی میں بھوک سے مرجا۔” جائیں، اور غریبی سے اپنی ٹکور کریں۔ شکریہ!

Share This:

تبصرے