کتے کی نسل!

فاطمہ کُنالی میں آٹا لیے چولہے کے پاس چلی آئی۔سلگتی لکڑیاں آگے پیچھے کرتی اور جلدی میں آٹے کو “مُکی” دیتے بار بار برآمدےکی جانب منہ کرکے آوز بھی لگا رہی تھی۔۔۔” سانول پتر ! چھیتی سے آجا میرا شہزادہ۔۔۔۔ پراٹھا کھائے گا نا چائے کےساتھ ؟”  سانول تیل لگے بالوں کو ٹھیک سے جماتا ہوا ،بستہ کاندھے پر ڈالے باہر نکلا ۔۔۔”اماں پہلے ابا کو دے۔۔آج اس نے ڈیرے جانا ہے نمبردار کے۔۔میں سکول دیر سے بھی پہنچا تو ماسٹر صاحب نے بس دو بید ہی مارنے ہیں۔۔یاد کر پچھلی بار نمبردار نے کتنی بے عزتی کی تھی ۔ مجھے اچھا نہیں لگا تھا۔” یہ کہہ کر پیالےمیں کچھ دودھ لے کر رات کی روٹی توڑنے لگا۔

سانول کا ایک ہی تو دوست تھا۔۔۔”شَکری” اسےسکول سے واپسی پر سڑک کنارے زخمی حالت میں ملاتھا۔ فاطمہ نے اسےگھر نہیں رکھنے دیاتھا کہ “رحمت کے فرشتے” نہیں آتے۔مگر سانول کا معمول تھا کہ روزانہسکول جانے سے پہلےباہر گلی میں “شَکری” کو دودھ روٹی ڈال کرجاتا۔

سانول اپنے والدین فاطمہ اور اکبر کی مَنتوں مُرادوں والی اکلوتی اولاد تھا۔ شاید اسی لیےاس کی ضد مان لی جاتی تھی۔بیبا بچہ تھا۔۔رنگ روپ ماں کا چُرایا تھا اور سب قصبے والے کہتے کہ باپ کی طرح قد کاٹھ نکالے گا۔ابھی تو پانچویں میں ہی پڑھتا تھا۔فاطمہ خیالوں میں اسے کبھی ڈاکٹر کے روپ میں سوچتی تو کبھی جہاز اڑاتے دیکھتی۔ہر روز میاں بیوی اپنے بیٹے کے لیے ایک نیا خواب آنکھوں میں سجاتے۔

اس قصبےکی اچھی بات یہ تھی کہ آس پڑوس میں آباد سب گھرانے کم وبیش رشتےدار تھے۔ایک دوسرے کا دکھ سُکھ سانجھا تھا۔کھیتی باڑی ،مزدوری اور نمبردار کے ڈیرے پرخدمت گزاری سے دال روٹی سب کی چل ہی رہی تھی۔مشکل مگرتب پیش آتی جب کوئی “لیڈی ھیلتھ وزیٹر” بچوں کی تعداد کے حوالے سے “مرن کنارے” پہنچی کسی خاتون کو سمجھانے کی کوشش کرتی۔یہ قصبہ بھی تو اسی معاشرے کا حصہ تھا جہاں بچوں کی تعداد کو  فخر اورخاندان کی طاقت کا سرچشمہ سمجھا جاتا تھا۔

اکبر کو اکثر ہی طعنے ملتے کہ دوسری شادی کرلے۔بیٹے تو باپ کے بازو ہوتے ہیں۔مگر اسے ہر بار فاطمہ کے آنسو دھیان میں آ جاتے۔ ہنس کر ٹال دیتا کہ “شیر دا اک ای بچہ ہندا اے یار ۔”

آج نمبردار کے ڈیرے پر معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔اکبر بھی ایک کونے میں جا بیٹھا۔چوہدی صاحب کے پانچ بیٹھے تھے۔اور اس وقت سب ہی موجود تھے۔کچھ دیرحقہ “گُڑگُڑانے” کے بعد چوہدری نےمونچھوں کو تاؤ دیا اور ہنکارا بھر کر کڑک دار آواز میں بولا ۔۔۔۔” آپ سب کو اس لیے بلوایا ہے کہ الیکشن سر پر ہے۔ٹھپہ آپ نے “گھنٹی” پر ہی لگانا ہے۔۔۔اپنا بھتیجا ہے اور آپ کے “سیاپے” بھی یہی دیکھ سکتا ہے۔کیا کرنا ہےزیادہ پڑھےلکھے نمونوں کو؟ اپنا مارے بھی تو چھاؤں میں ہی بٹھاتا ہے۔۔۔باقی یاد رکھنا “وائی بیجی” تھانہ کچہری میں کسی بابو نے نہیں مدد کرنی تم لوگوں کی۔۔۔۔”

ابھی چوہدری نے “احسان” جتانےکا سلسلہ شروع کرنا ہی تھا کہ چھوٹے چوہدری کی راج دُلاری “مکھنی” کو جانے کیا بات گراں گزری،مسلسل غراتے ہوئے لال پٹے کیساتھ الجھ رہی تھی ۔ نمبر دار نے دو موٹی گالیاں بخشو کی سات نسلوں کی خواتین کو بھیج کر چھوٹے چوہدری کو اشارہ کیا۔اس نے جاکر “مکھنی” کو بہلایا اور “بخشو” کو جوتے کی نوک سے “ٹھڈے” مار کر احاطے سے باہر بھیج دیا۔۔۔۔اورسب کو شام میں آنے کا حکم مل گیا۔

” شہد رنگ “مکھنی” ۔۔۔۔۔3 سال پہلے چھوٹے چوہدری کی سالگرہ پر کسی سیاستدان نے تحفے میں دی تھی۔نمبردارکے گھرمیں تو اسے بچوں کی طرح ہی سمجھا جاتا ہے۔سب لاڈ نخرے اٹھاتے تھکتے نہیں اورشہر سے لائی گئی خاص خوراک جن رنگ برنگ برتنوں میں “پیش” کی جاتی ہے وہ بھی شاندار ہے۔سنا ہے کہاس کے نہانے کو خاص شیمپو شہر کے بڑے سٹورسے آتا ہے۔ دیکھ بھال کا سب انتظام بخشو کے ذمے ۔۔۔ بتا رہا تھا کہ اسے شہر لے کر جاناہے۔ بھلا بتاؤ، کتے کی نسل بڑھانے کو بھی اونچی نسل کا دھیان رکھتے ہیں۔۔۔۔۔”

اکبر نے یہ سب تفصیل فاطمہ کو جانے کتنی بار سنائی تھی اور آخر میں ایک بڑی سی “ہونہہ” کرکے ایک ہی جملے پر بات ختم ہوتی “امیراں ہائیں۔۔۔۔وڈے لوکاں دیاں وڈیاں گلاں۔”

چوہدری کے گھر کُتے بھی تھے، اور رحمت بھی تھی کہ کئی نسلوں سے کبھی ہُن کی بارش ہی نہ تھمی۔ وائے قدرت!

انتخابات کے دن قریب تھے اور روزانہ شام کونمبردار کے ڈیرے پر “حاضری” ضروری تھی۔اگرچہ قصبے کے مردوں اور بچوں کی وجہ سے “ڈیرے” پر اچھی خاصی رونق لگ جاتی تھی، اکبر بہرحال سانول کو لے جانے سے ہچکچاتا تھا۔آج بھی سانول نے بہت ضد کی تو ساتھ لے آیا۔مگرآغوش میں یوں دبوچے بیٹھا تھا جیسے مرغی نے چوزے کو سمیٹا ہو۔

چھوٹا چوھدری “مکھنی ” کی کمر پر ہاتھ پھیرتا مونچھوں کو تاؤ دیتا جا کر باپ کے برابر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔ سانول کا دل چاہ رہا تھا کہ جیسے وہ “شَکری” کے ساتھ کھیلتا ہے اس شہد رنگ مکھنی کو بھی چھو کر دیکھے۔باپ سے نظر بچا کر اس کے قریب پہنچا توبخشو نے دور سے آواز لگائی۔۔۔”اوئے ! ہاتھ نہ لگانا۔۔۔ گندے سندے اٹھ کر چلے آتےہیں۔” سانول سہم کرواپس باپ کے پاس چلا آیا۔

سانول سکول سے واپسی پرنمبردار کی حویلی کے سامنے سے گزرا تو “مکھنی” کو دیکھتے ہی اس کی جانب بڑھ گیا۔مگر چھوٹے چوہدری کو دیکھ کر واپس ہونے لگا تو آواز آئی “اوئے کاکے ! ادھر کیا کررہاہے؟” سانول نے ڈرتے ڈرتے “مکھنی ” کی جانب اشارہ کیا تو قہقہہ لگاتے چھوٹے چوہدری نے اسے گود میں اٹھا لیا۔۔”اندر آجاؤ شہزادے۔۔۔جی بھر کر کھیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

شام ہونے آرہی تھی۔۔فاطمہ نے پانچویں بار دیوار پر ٹنگی گھڑی دیکھی اورپریشانی میں چادر اٹھائےگھر سے باہر آگئی۔سانول کا “شکری” بھی ہانپتا ہوا دروازے کے باہر شاید اسی کا منتظر تھا۔۔۔اکبر آج شہر گیا ہواتھا۔فاطمہ آس پڑوس میں بچوں سے پوچھ رہی تھی مگر سب نے یہی بتایا کہ سانول چھٹی کے بعد ساتھ ہی نکلا تھا۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی سکول کی جانب چل پڑی۔۔۔حویلی کے سامنے کھیتوں سے گزرتے اسے محسوس ہوا کہ کوئی کراہ رہا ہے۔آگے بڑھ کر دیکھا تو سانول لت پت ، زخمی حالت میں پڑا تھا اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔

اکبر گھر میں داخل ہوا تو غیرمعمولی خاموشی نے پریشان کردیا۔سانول کو آوازیں دیتا برآمدے کی جانب بڑھا تو فاطمہ کی سسکیاں اور بخار میں تپتے زخمی سانول کے ہنکاروں نے استقبال کیا۔

اکبر علاقے کے تھانے میں پہلی بار آیا تھا۔”ہاں بھئی جواناں۔۔۔۔ کوئی ڈنگر چوری ہوگیا؟” حوالدار نے اسے راہداری میں بیٹھے دیکھ کر پوچھا تو اکبر ہاتھ جوڑے کھڑا ہوگیا ، ہکلاتے ہوئے بولا ” جناب بڑا ظلم ہوگیا ہے۔۔۔ میرے معصوم بچے پر بہت ظلم ہوگیا ہے۔۔۔۔وہ نمبردار کے پتر نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

حوالدار نے اس کی کلائی پکڑی اور ساتھ والے کمرے میں گھسیٹ لیا “دیکھ جواناں۔۔۔۔۔ تیری اس بکواس کو میں نے تو سن لیا مگر کہیں اور یہ بات کی تو کتے چھڑوادے گا نمبردار تیرے خاندان پر۔۔۔۔او یار! تیرے اپنے بیٹے کی بدنامی ہوگی۔شکر کر تیرے گھر والی کی عزت محفوظ ہے ۔۔۔۔۔اور ہاں دوبارہ یہاں آیا تو پہلا چھتر تیری تشریف پرمیں نے رسید کرنا ہے۔۔چل شاباش۔۔۔ جا اپنے گھر اور شکر کر کہ عورت کی عزت بچ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اکبر خشک آنکھوں اور غائب دماغی سے باہر نکل آیا۔ گھر کے دروازے پر “شکری” کو دیکھ کر جانے کیا سوجھی ۔۔۔۔ا سے گود میں اٹھائےحویلی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“اوئے بے غیرتو۔۔۔۔۔ اوئے کتے دے پترو۔۔۔۔ نسل خراب کر دی۔۔۔ میں پوچھتا ہوں یہ آوارہ کتا اندر آیا کیسے؟ تم لوگ بھنگ پیے سو مر رہے تھے کیا ؟؟ حرام خورو۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔نسل خراب ہو گئی تمھاری وجہ سے” چھوٹا چوہدری پاگلوں کی طرح چیخ رہا تھا۔ سانول کا شکری حویلی کے دروازے سےباہر کی جانب بھاگ رہا تھا، اور “مکھنی” ایک کونے میں بیٹھی ہانپ رہی تھی۔

حویلی کے باہر اکبر گھر کو واپس لوٹتے عجب طریقے سےمسکرا رہا تھا۔ آج اسے بھی، سانول کی طرح، شکری پر بےحد پیار آ رہا تھا۔

Share This:

تبصرے