کلمہ اور قوم – جیو دوعملی، جیو!

چڑہتے دن کی برفیلی تلوار کے سے وار کرتی ہوا   سے لڑنے کو گلے کے گِردمفلر  لپیٹتے ہوئے ،نظریں برقی ہندسوں کی چلتی اُلٹی گِنتی  پر ہی ٹکائے ہوئے تھا۔ وہ اِک کانوں کو ناگوار گُزرتی آواز تھی جِس نے یکایک بائیں دیکھنے پر مجبور کر دیا ۔جہاں چند لمحوں پہلے لال رنگ کی نئی لینڈ کروزر کھڑی تھی اب وہاں سڑک پر فقط ٹائروں کےچھوڑے نشان ہی دکھے ۔ پھٹ پھٹی کی ٹینکی پر بیٹھے مُنے نے پوری گردن گھُماتے ہوئے بڑی معصومیت سے پوچھا۔ “ابا ابھی تو لائٹ ریڈتھی تو پھر یہ گاڑی والے انکل تیزی سےچلے کیوں گئے ” ؟میرے پاس خاموشی کے سوا   کوئی جواب نہ تھا۔

چھے سالہ بچے کااِک معصوم سا سوال اُن مُردہ سوالوں کو بھی زندہ کرلایا جو زمانے کی گھٹن نے منوں مٹی تلے  دب چھوڑے تھے ۔ دادا کی اُنگلی پکڑے سکول جاتے ہوئےجب کبھی ایسی بد نظمی نظر آجاتی تو داد اجی خود کلامی سے انداز میں ایک جُملہ کہ دیا کرتے تھے ۔ اسکول کی اسمبلی میں پڑہی جاتی ” لب پہ آتی ہے”کی دُعا ، لبوں ہی سے لپٹی رہ جاتی اور میں دادا جی کی کہی بات کا اپنے تئیں نت نیا مطلب نکالتا رہ جاتا تھا۔ کچی پکی کی دو دونی چار سے شروع ہوا تعلیمی سلسلہ مدارج طے کرتا مسئلہ فیثا غورث   تک جا پہنچا ۔اردو سے انگریزی ، اور پھر انگریز کی زنجیریں تُڑواتا ہوا اسلام و نظریہ پاکستان کے سرکاری بیانئے کے در پر دستک دیتا نظر آیا۔دس گیارہ سال پورے کئے ،جب ہم سکول سے نکلے تو حاصل ہونے والی کاغذ کی سند ہمارے ہاتھ میں تھی مگر پالینے والی تربیت ہمارے چلن میں کہیں   نہ جھلکتی تھی ۔ نظر آتی بھی کیسے؟ تربیت   تو بس اسمبلی کی چند منٹوں کی لفظی حاضری کے بعد رخصت ہوجایا کرتی تھی۔ نصاب کی کتب   میں الفاظ تو بہت تھے مگر عملیت کی پھونک مارے روح ڈالنے والے ناپید ۔اِس کم بخت تربیت کا بھی اپنا ہی الگ سا نخرہ ہوا کرتا ہے۔عملی نمونہ نہیں تو بس چھلکے کہئے چھلکے ، بنا دانوں کے مونگ پھلی کےچھلکے رستوں میں جگہ جگہ پڑےگند پھیلاتے تعلیمی نظام کے چھلکے ۔جہاں اندھے کی بانٹی ریوڑیوں کی طرح نوکریاں دی گئی ہوں ۔ ایسے تعلیمی نظام میں اُستادوں کی لگائی فصل چھولے دے کر پاس ہونے کے نت نئے طریقے ہی ایجاد کرے گی۔

زمانے کی تپتی دھوپ میں گیان کی پیاس بڑہنے لگی تو محلے کی مسجد   نے من کو شانت کرتا ایمانی مشروب سے سینہ ٹھنڈا کیا ۔ اللہ کے گھر میں ہمیں اللہ والے بھی مل گئے ،   اور اس سے قرب کی راہ   دکھلانے والے بھی ۔مگر   شارک مچھلی کی طرح ہم پر حملہ کردینے والے  آوارہ سوالوں کا جواب ہر بار یہی مِلا “بس آپ اپنا ایمان بنائیے ، باقی سب اللہ پر چھوڑ دیجئے وہ راستہ دکھائے گا”۔ گویا ایمان نہ ہوا ساٹھ فٹ چوڑی کوئی سڑک ہوئی جِسے بنانے کے لئے لُک بجری اور ہیوی مشینری درکار اور یہ لوگ سڑک بنانے کے ٹھیکیدار۔ زندگی کی گاڑی دھکیلتے ہوئے ایسی ہی سڑکوں کے قریب سے جب بھی گُزرہوا اک بورڈ ایستادہ دیکھا “یہ شاہراہ عام نہیں ہے “۔ خاص ہونے کی کوشش میں جانے کس اندھیری رات ہم بھٹکے اور جنت کے شارٹ کٹ پر آنکلے ۔طاغوتی فوجوں کی   گولیاں سینوں پر کھانے والے سرفروشان کے قِصے کانوں میں پڑتے تو جی چاہنے لگتا کہ اسلاف کی زنگ آلود تلوار اُٹھا کر کافر وں کے خون سے لش پش چمکا ڈالیں۔ وہ تو بھلا ہو اُن کمانڈر صاحب کا جو اپنی شجاعت کے قِصے سُناتے ہوئے اک دن فرمانے لگے ۔ “جہاد انسان کو نڈر بنا دیتا ہے ۔ ابھی آپ کی طرف آتے ہوئے رستے میں ہم تین سواریاں بٹھائے سگنل توڑتے ہوئے آگے بڑہے تو سارجنٹ رستے کی دیوار بنا کھڑا ملا ۔ ہمارا بس اک ہاتھ ہی گھمانا تھا کہ کہ سب قائدہ قانون بھول کر اپنی گال سہلاتا نظر آیا۔” میں نے اِنتہائی ادب سے سوال کیا ، “محترم کمانڈر صاحب کیا جہاد کی کِتابوں میں قانون کی پاسداری کا باب سرے سے موجود ہی نہیں؟۔ بس پھر کیا تھا اُن کے چہرے کی شوخی پر سنجیدگی غالب ہوئی ، لمحہ بھر کے توقف   کے بعد ارشاد فرمایا ۔ “میرے دوست ہمارا خُدا آسانیاں پید ا کرنے والاغیر ضروری پابندیاں   لگانے والا نہیں ۔ کمانڈر صاحب کے استدلال نے میر ے لئے بہت آسان کر دیا یہ سمجھنا کہ بڑے بڑے پراجیکٹس کے ٹھیکیدار صفائی سُتھرائی کے چھوٹے موٹے کام اپنے سر لیانہیں کرتے۔

یہ جو آج کسی کوٹھے پر بیٹھی طوائف جیسی حرکتیں کرتی پھِرتی ہے ،جِسکی گز بھر ننگی زبان روکنا   بھی ممکن نہیں رہا ، ایک دور تھا جب یہ نیک پروین بہو ہوا کرتی تھی ۔ بھلے ہی گھر والا چُٹیا پکڑے پنکھے سے لٹکا چھوڑ ےمگر مجال کہ اُف تک بھی زبان سے نِکلے ۔یہ کِسی دور کےڈھول کی تھاپ کا قِصہ نہیں۔بلکہ گھر گھر پڑے  ٹی وی کی دُنیا کی کہانی سُنا رہا ہوں ، جی وہی اپنا گُزرے وقت کا اکلوتا پی ٹی وی۔ یہی پی ٹی وی ہی تو تھا جس نے   ہمارا کرکٹ سے ناطہ جوڑا ، گردنوں کو تالا لگائے پانچ پانچ دن کے لئے قوم ٹیوی سکرینوں سے آجُڑتی تھی ۔ اس صبر آزما چلے کے وقفوں کے دوران مُفاد عامہ کے بہت سے اشتہارات بھی چلا کرتے تھے۔ ۔ ہم نے اس دوران بہت کُچھ سیکھا ۔ کِس کھلاڑی کو ،کن حالات میں گیند ،کہاں پر رکھ کر ، کیسے کرائی جائے تو وکٹوں پر رکھی بیلز ہوا میں اُڑتی ہوئی کِتنی دور جا گِریں گی ۔یہ سب کُچھ ہم ٹی وی پر لگے میچز دیکھ دیکھ کر سیکھ گئے ،بس نہ سیکھا تو مُفاد عامہ کے چلتے پیغامات سے کُچھ سیکھا نہ سمجھا ۔ ضوابط کے مُطابق ڈرائیونگ نہ سیکھی ۔ہیڈ لائیٹس جھکانا نہ سیکھا، راستہ دینا نہ سیکھا ۔ کوڑے دا ن کا استعمال نہ سیکھا ، ہارن بجا کر دوسروں کا سکون برباد کرنا نہ سمجھا۔ میں نے زندگی میں جہاں کہیں بھی قطار بنائیے لکھادیکھا قطار کے نام پر بس بندوں کا قیمہ بنتے ہی دیکھا ۔ کاش کہ کوئی گھٹی کے شہد کی طرح کُچھ تربیت بھی چٹا جائے ۔

آج کا پاکستان بہت آگے نکل گیا ہے ۔۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ وسیع و عریض شاہراہوں کا جال ، فلائی اورز ، برجز اور بہت کُچھ ۔ ہماری ترقی کی رفتار خرگوش کی مانندمگر فکری نمو آج بھی کچھوے کی رفتار پر اس مفروضے پر شاداں ومطمئن نظر آتی ہے کہ آخر کار جیت تو کچھوے ہی کی ہونی ہے اور ہو گی۔

چھوٹے مُنے کے سکول کی گھنٹی بج رہی ہے ۔ وہ بھاگتا ہوا پنی کلاس کی طرف جارہا ہے اور میرے کانوں سے داد ا جی کا کہا   وہ جملہ ٹکرا رہا ہے جسے سمجھنا اب میرے لئے بالکل بھی مُشکل نہیں رہا ۔”قوماں کلمے دے نعرے مارن توں نئیں جین دے اصول بنان تو بندیاں نے”(قومیں کلمے کے نعرے مارنے سے نہیں زندگی کے اصول بنانے سے بنتی ہیں)

Share This:

تبصرے