گریڈی ڈاگ، تھرسٹی کرو، اور کتے کا تازہ گوشت

ایک دفعہ کے بہت بعد کا ذِکر ہے کہ لاکھ پنجے گِھسا کے کُتا ہڈی مُنہ میں دبائے پھر سے نہر کِنارے کھڑا تھا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک اور کُتا ہڈی کا بڑا ٹُکڑا مُنہ میں لئے نہر میں پھِر سےموجود ہے ۔ بس یہ دیکھنا تھا ،اس کا غصہ ساتویں آسمان کو رواں دواں ہوگیا۔” کم بخت اس سائے نے مُجھے ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا ہے آج میں نہیں چھوڑوں گا ،اسے نہیں ۔۔” پھر کیا تھا ،کُتا اپنے غُصے پر قابو نہ پا سکا اور نہر میں چھلانگ لگا دی ۔اگلے لمحے کُتا ریت میں اوندھے مُنہ پڑا نظر آیا۔ “کھی کھی کھی ، اُلو بنایا بڑا مزا آیا “۔ کُتے نے خود کو سنبھالتے ہوئے سر اُٹھا کر ، آواز کی سِمت اوپر دیکھا “اوئے یہ تو ہے تھرسٹی کرو ، کمینے میری ہڈی کا ستیاناس کرڈالا تو نے۔” کھی کھی کھی ، تُم بوڑھے ہوچلے مگر   عقل نہ آئی ۔ ارے بابا اس نہر کو بند ہوئے زمانہ گُزر گیا ہے۔ میں نے ریت میں کِتاب والی تیری تصویرکیا بنائی اُس ہڈی کے جال میں پھر سے تم نے ٹانگ اڑائی ۔ وہ قصہ تو جیسے کامن پن کی طرح تیری کامن سینس پر کھُب چُکا ہے ۔

گریڈی ڈاگ نے ہڈی مُنہ میں دبائی تین چار جھٹکے دیکر ریت جھاڑی اور نہر کے کنارے پر آ چڑہا۔ ہڈی کو سوکھی گھاس پر بڑے سنبھال کر رکھنے ہوئے بولا ۔ یار تھرسٹی کرو ،کہتا تو بالکل ٹھیک ہے ۔ ہڈی والا وہ میرا اپنا ہی سایہ زِندگی پر ایسا چھایہ کہ کُچھ اور میں سوچ ہی نہ پایا ۔ مانا کہ لالچ بُری بلا ہے مگر اِنسا ن سے بڑی بلا بھی کوئی نہیں ۔ کِتابوں سے   ہوتی میر ی کہانی بچے بچے کی زبان پر اب تک رواں ہے ۔ میرا مالک لانڈری والا سیٹھ   بن گیا مگر میں دھوبی کا ہوکر بھی نہ دھوبی کا کہلایا نہ ہی اپنے داغ دھو پایا۔

کُتے کی بات سُن کر کوا درخت کے اوپر سے نِچلی   شاخ پر آ بیٹھا   او ر اور اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔ “بھائی گریڈی ڈاگ تیرا رونا بھی ٹھیک ہے۔ یہ اِنسان تو سدا کا ناشُکرا اور احسان فراموش ہے ۔ اب دیکھو ناں میں اِس کا سب سے پہلامعلم اور اُستاد بھی وہ جِس نے ضرورت کا وڈا اپریشن کر کے ایجاد کا ننھا مُنا سا بچہ اُسے گود دیا۔ ۔مگر آج یہ کوے کو ہنس کی چال چلنے پر طعنے مارتا پھِرتا ہے ۔ کوئی اِسے بتانے والا نہیں کہ کوا نہیں ،میاں ہنس ہنس کر چالیں تو تُم چلتے ہو ۔ ایسی چالیں جو نہ ہم سمجھے نہ ہمارے باپ دادا۔

ہاؤ ہاؤ ہاؤ ،کُتے نے بھونکتے ہوئے زور دار  قہقہہ لگایا ،باِلکل سہی کہا یار تُم نے ہاؤ ہاؤ ہاؤ ہاؤ۔ ارے میاں تھرسٹی کرو ذرا یہ تو بتا آج کل ہوتا کِدھر ہےتو؟ عرصے بعد دِکھے ہو شہر میں۔ کوے نے چونچ کھول کر گہری آہ بھری اور بولا ۔بس گریڈی ڈاگ بھیا اب شہر سے جی بھر سا گیا ہے ۔گُز ر گئے وہ دِن جب منڈیر پر بیٹھا آٹا گوندتی   بیبیوں کو مہمان کے آنے کی خبر دیتا تھا تو وہ حسین چہرے بہار کے پھول کی طرح کھِل اُٹھتے تھے مگر اب تو مہمان کا سُن کر سوکھے پتوں کے جیسے سُکڑ نے لگتے ہیں ۔شہر کے تمام ہینڈ پمپ بھی اکھاڑ دئے گئے یا گلڑ سڑ گئے ۔آج کے شہری لوگ مِنرل واٹر پیتے ہیں ۔ یہ لوگ فاسٹ فوڈ کھاتے یا پھِر گندے تیل مصالحے والے پکوان مزے لے لے اُڑاتے اور بچا کھچا سب کُچھ ٹھنڈےصندوقچوں میں قید کر چھوڑتے ۔ اب تو یہاں نہ پانی مِلتا ہے   اور نہ ہی کُچھ اچھا کھانے کو اب ایسےمیں میرے لئے   کیا بچتا؟ مہینوں پُرانے بدبو دار کھانے ۔نہ بابا نہ مُجھے نہیں رہنا اب شہر میں ۔ اِک ٹھونگا ہی چکھ لوں ،ہفتوں پیٹ   گندھک کے تیزاب کا ڈرم بنے اُبلتا رہتا ہے  ۔

اپنی رام کہانی سُناتے ہوئے کوے کی نظر گھاس پر رکھی بڑی سی ہڈی پر پڑی اور اُس نے آنکھ مارتے ہوئے پوچھا ۔ گریڈی ڈاگ بھیا بھولے قصائی نے کیا     تازہ ہڈیاں ڈالنا بند کردیں جو تُم اِس پُرانی ہڈی کے لئے خواری کاٹتے کیوں پھِر رہے ہو؟ کُتے نے سنجیدہ نظروں سے تھرسٹی کرو کی طرف دیکھا اور کُچھ   توقف کے بعد سرگوشی کے سے انداز میں بولا۔ یا ر چھو ڑ بھولے کو، میں تو اپنے غم میں گھُلا جارہا ہوں۔تو میری داستانِ غم سُنے گا تو تیرا   کلیجہ بھی پھٹنے لگے گا ۔

اس با ر گرمیوں کی پہلی بارش سے کُچھ دیر پہلے جب آسمان پر بادل چھا چُکے تھے میں   گرمی کا زور ٹوٹنے پر مست جھومتا   ہوا گھر کو جا رہا تھا     کہ کچی بستی کاوہ منحوس آواہ کھُجلو جانے کہاں سےوارد ہوا ۔ بد بخت خوش تھا کہ اپنی خارش بھی بھولا پڑا تھا، میرا رستہ روکے دو ٹانگوں پر بیہودہ سا رقص کرتے ہوئے بولا “بھاگ گئی تیری شبو بھاگ گئی” میرے پنجوں تلے سےتو جیسے زمین ہی کھِسکنے لگی ۔کھُجلو کے مُنہ پر زور دارتھپڑ مارتے ہوئے میں گھر کو دوڑا۔ مگر یہ خبر تو پورے عِلاقے میں ایسے پھیلی پڑی تھی جیسے جنگل میں ملکہ شیرنی نے بچہ دیا ہے ۔وہ چھٹی بیگم سے ہوئی میری لاڈو شبو ،جوانی کا جنون چھونے کو تھی اور حسین   ایسی کہ شہر بھر کےرئیسوں کے اعلی نسلی کُتے رِشتہ لئے دوڑتے چلے آتے تھے۔مجال ہے میں نے کِسی کو گھر کی دہلیز پار کرنے دی ہو۔ وہ پگلی تو بس کِسی بڑے گھر جانے کے سپنے دِل میں سجائے بیٹھی تھی ۔ لاکھ سمجھایا اُسے، امیر زادوں کے یہ کُتے بھی اپنے مالکوں کی طرح عیاش ہوتے ہیں۔ جیسے رئیس لوگ عامیوں  کو کولہو کا اندھا بیل بنائی رکھتے ، اُن کے پلے کُتوں کےلئے تو بھی سدا ایک کھِلونا ہی رہے گی۔ دِل بھر جائے گا تو بتیس روپے آٹھ آنے کا پانی مِلا دودھ تھمائے نِکال باہر کریں گے۔ ارے پگلی جِن ممی ڈیڈی نسل کو تو سپنوں کا شہزادہ بنائے بیٹھی ہے اِن جیسوں سے ہمیں پیار نہیں بس صدقہ خیرات مِلتی ہے ۔جِن کی ممیاں فرانسیسی اور ڈیڈی جرمن ہوں، جو اپنے اعلی نسل کے ٹھپے پر اکڑتے پھرتے ہوں۔جو ڈبہ بند امپورٹڈ خواک کھاتے ہوں اُن کا  گلیوں ،چوراہوں میں اینٹ پتھر کھانے والوں سے بھلا کیاجوڑ ۔ ہم نے سارا شہر چھان مارا کہیں نہیں مِلی ۔

مگر افسوس ! ہائے افسوس ، وہ بھولی کِسی کُتے کے نہیں بھولےقصائی کے ہتھے چڑھ گئی   تھی۔ شام کو اسی کی   دُکان پر اُلٹی لٹکی پائی گئی ۔

یہ سُننا تھا کہ کوا زمین پر زور زور سے ٹھونگیں مار تا ہوا توبہ توبہ کرنے لگا پھِر یک دم گردن اُٹھا کر بولا ۔ مگر بھیا !تُم نے   کھال اُتری ہوئی بیٹی کُتیا کو پہچانا کیسے ؟ ۔ گریڈی ڈاگ نے تاسف بھرے لہجے میں  جواب دیا۔اُس کی پتلی کمریا سے یار۔ایسی نازک کمریا تو   ہماری سات پُشتوں میں کِسی کی نہ تھی ۔ ہائے میری بچی ، ہائے کاش میں اُسےیہ بھی بتا دیتا کہ اِنسان کبھی بھی بھولا نہیں ہوتا یہ تو ہمارا بھولپن کہ ہم اُسے بھولا بھولا کہتے پھِرتے ہیں۔ اتنا ہی بھولا ہوتا تو لکھ ہی ڈالتا کہ یہاں کُتوں کا تازہ گوشت دستیاب ہے۔

کیا نہیں؟ گریڈی ڈاگ نے سوال کر کے اوپر دیکھا تو تھرسٹی کرو اثبات میں سر ہلا رہا تھا۔

Share This:

تبصرے