پاکستان میں مُلائیت کا معاشرتی ارتقاء

(اگر کوئی قاری یا لکھاری، اس مضمون پر اپنا ردعمل دینا چاہے تو لکھاری اس جواب کو بھی اپنے پلیٹ فارم پر سے مکمل جگہ فراہم کرے گا۔ خیال صرف یہ ہے کہ اک بامقصد مکالمہ کی فضا قائم کی جائے۔ شکریہ)

گو بہت سارے لوگ اس خیال سے متفق نہیں ہیں کہ ملائیت کبھی منکسر بھی ہوتی ہے لیکن پاکستان کے تناظر میں یہ بات درست ہے کہ یہاں اس کی ابتدا نسبتاً پرامن اور بدرجہ کم متشدد انداز میں ہوئی۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت یہاں صرف چھے مذہبی جماعتیں تھیں اور بہت عرصہ بعد تک بھی ان کی تعداد اتنی ہی رہی لیکن آج ان کی تعداد دو سو سے زیادہ ہے جن میں سے سوسے زیادہ مسلح جدو جہد کرنے والی قومی اور عالمی سطح کی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔

ایک زمانہ تھا جب مدرسوں کے بچے ہر روز روٹیاں اور سالن جمع کرنے گلی محلے کے ہر گھر جایا کرتے تھے۔ عموماً ان کے پاس ایک ہی بالٹی ہوتی تھی جس میں ہر طرح کا شوربا، ترکاری اور جو کچھ بھی کہیں سے ملتا تھا ڈلوا کر لے جاتے تھے۔ ذرا وقت بدلا تو مدرسوں کے اپنے لنگر چلنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مولوی جو سماجی اور سیاسی طور پر موثر نہیں تھا مذہب کے ساتھ ساتھ سیاست اور معاشرت میں بھی نمایاں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

پاکستان کی تاریخ میں چند ایک بڑے واقعات ایسے ہیں جنھوں نے نہ صرف مذہبی متشددین کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ ملائیت کو وہ طاقت دی ہے جس کا استعمال آپ آئے روز ملاحظہ کرتے ہیں۔ بانیِ پاکستان محمدعلی جناح سمیت دیگر کئی بظاہر سیکولر قائدین کے مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے ایسا ممکن تھا کہ ملائیت شروع دن سے ہی اس ملک پر قبضہ جما لے لیکن چونکہ تقسیمِ ہندوستان نے ملائیت کو بھی تقسیم کردیا تھا اس لیے ایسا کلی طور پر ممکن نہ ہو سکا ہاں البتہ جس قدر ممکن تھا اس نے پاکستان کے آئینی معاملات میں مداخلت کر کے اپنی من مرضی کے مقاصد حاصل کیے۔

بھارت کے ساتھ جنگیں ، مشرقی پاکستان کا الگ ہو جانا، پشتونستان اور گریٹر بلوچستان کی تحریکوں کا زور پکڑجانا اور افغانستان کا ان تحریکوں کو بڑھاوا دینے کی غرض سے پاکستان کی جنوبی سرحد پر متعدد بار حملہ آور ہونا ، یہ وہ تمام عوامل تھے جن کی وجہ سے پاکستان میں پہلی بار ملاّ جینئرنگ یعنی ایسی سوشل انجینئرنگ جس میں ریاستی پروپیگینڈا اور مذہب کو استعمال کرکہ صنعتی سطح پر مولوی پیدا کیئے جاتے ہیں، کی گئی۔ افغانستان میں داؤد خان کی حکومت جو کہ بھارت کی دوست سمجھی جاتی تھی کا دھرن تختہ کرنے پہلی بار داؤد مخالف پانچ ہزار مولویوں کی کھیپ اس وقت کے وزیرِاعظم ذولفقار علی بھٹو کی نگرانی میں تیار کی گی۔ اسی کھیپ میں مولوی گلبدین حکمتیار جو کہ بعد میں افغانستان کے وزیراعظم بھی بنا جیسے بہت ساروں کومسلح جدوجہد کی تربیت دی گئی۔

سرد جنگ کی وجہ سے افغانستان میں امریکی مداخت اس وقت عملی شکل اختیار کر گئی جب ستر کی دہائی کے آخری سالوں میں سویت یونین کے حمایتی نور محمد تراکی اور حفیظ اللہ آمین نے افغانستان کی حکومت کو گرادیا ۔ پاکستان سے تربیت پانے والی پہلی کھیپ کو امریکہ نے مکمل طور پر مدد کرتے ہوئے ردِانقلاب کا ٹاسک دیا۔یوں سویت اور امریکہ کی پراکسی وار کا آغاز ہوا جس کے لیے نئی کھیپ تیار کی گئی اور یہ سلسلہ چلتا گیا۔

صنعتی پیمانے پر کی جانے والی ملاّجینئرنگ کی ان کھیپوں میں سے اضافی اور کسی حد تک استعمال شدہ کھیپ کو ’سعودی اسلام‘ کی ترویج کاٹاسک ملاکیونکہ تبھی ’ایرانی اسلام‘ نے ایران میں انقلاب لاکر مشرقِ وسطہ میں سعودی عرب کی چوہدراہٹ کوشدید نقصان پہنچایاتھا۔ سو کراچی سے کشمیر تک ہر دو سنی مسجدوں کے مقابلے میں ایک وہابی مسجد تعمیر ہوئی۔ اور یوں ملائیت میں مسلکی رنگ گاڑا ہوتا گیا۔ اب پاکستان میں کئی رنگوں اور مسلکوں کے مولوی تھے پر سوال یہ پیدا ہوا کہ کس مسلک کی ملاّجینئرنگ زیادہ سودمند اور پائیدار ہوگی۔سو لبارٹری ٹیسٹ کہ بعد یہ پتا چلا کہ بریلوی کھیپ مطلوبہ نتائج نہیں دی سکی لحاظہ دیوبندی اور وہابی کھیپ کی پیداورا کو بڑھایا جائے۔

اسّی کی دہائی کے آخر تک سویت پسپائی اور اور انخلا کے بعد افغانستان مکمل طور پر ان لوگوں کے قبضے میں آگیا جو کسی نہ کسی طرح ملاّجینئرنگ کے عمل سے گزر ے تھے ۔ جنگ کے خاتمے کے بعدآر پار کے پشتون طالبان تو اقتدار سنبھالنے لگے لیکن پاکستان سے گئے پنجابی طالبان وطن واپس آ گئے۔ اسے اتفاق کہیں یا منصوبہ بندی ، جس سال سویت یونین نے جنگ ہاری اور افغانستان سے انخلا مکمل کیا اسی سال کشمیر ایک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔سرینگر کے گلی محلوں میں ہم کیا چاہتے ۔۔۔آزادی ۔ کے نعرے اور گولیوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ کشمیر میں افغانستان سے لوٹے ہوئے غازیوں کی موجودگی کا احساس تب ہوا جب خود کشمیری قوم پرستوں کی لاشیں گرنے لگیں اور تحریک کا نعرہ کشمیر بنے گا خودمختار سے بدل کر کشمیر بنے گا پاکستان ہو گیا۔

نو ستمبر تک یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا۔ اب افغانستان میں پاکستان کی مرضی کی حکومت تھی اور بھارت پاکستان کی تخلیقی ملاّجینئرنگ کے ہاتھوں تنگ آکر آئے روز خون کے آنسو رو رہاتھا۔ مگر نو ستمبر نے بہت کچھ بدل دیا۔ امریکی دباؤ پر’’ وار آن ٹیرر‘‘ کاحصّہ بن کر پاکستان نے جیسے اپنے پاؤں نہیں سر پر کلہاڑی دے ماری۔کہا یہ جاتا ہے کہ اس کے بعد طالبان کی وہ حکومت جس کو پوری دنیا میں صرف پاکستان کی حمایت حاصل تھی پاکستان کی دشمن بن گئی۔ پر یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ کچھ لوگ دوست رہے کچھ دشمن بن گئے اور بہت ساروں کا آج دن تک پتا نہیں چل سکا کہ وہ دوست ہیں یا دشمن۔ کشمیر میں جہاد کرنے والوں کو جب مالی تنگی کا سامنا ہوا تو بہت سارے مشرف پر پھٹ پڑے کچھ نے نئے گروپ بنا لیے اور کچھ نے پہلے سے بنے ہوئے گروپوں کو جوئن کرلیا۔ اب یہ لوگ پاکستان میں غیر مذہبی، غیر مسلکی جنگ میں مصروفِ عمل ہیں اور لیکن بہت دفعہ اپنے ہی مذہب اور مسلک کے معصوموں کے گلے بھی کاٹ دیتے ہیں۔گویاملاّجینئرنگ تخلیقی شہکار سے کہی زیادہ دو دھاری تلوار جس نے ستر ہزار سے زیادہ سر قلم کر دیے۔

نوٹ: اگرچے بریلوی ملائیت عالمی سطح کے صنعتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکی تاہم قومی سطح پر اس کے استعمال کی ایک جھلک آپ نے حال ہی میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ملاحظہ کی ہوگی۔

Share This:

تبصرے